
کوئٹہ (یو این اے)وزیراعلی بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی زیر صدارت صوبائی کابینہ کا اہم اجلاس منعقد ہوا، جس کے بعد وزیراعلی کے معاون خصوصی برائے سیاسی امور و ترجمان حکومت بلوچستان شاہد رند نے کوئٹہ میں ایک اہم پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کابینہ کے فیصلوں کی تفصیلات میڈیا کے سامنے پیش کیں۔شاہد رند نے پریس کانفرنس کے دوران بتایا کہ صوبائی کابینہ نے صوبے کے مفاد میں کئی تاریخ ساز اور فلاحی فیصلے کیے ہیں۔ اجلاس میں معدنی وسائل کے ثمرات براہِ راست عوام تک پہنچانے کے لیے “معدنی وسائل فنڈ پالیسی” کی منظوری دے دی گئی ہے، جس کے تحت ایک واضح اور شفاف طریقہ کار وضع کیا جائے گا۔ کابینہ نے محکمہ سیاحت و ثقافت کی “ثقافتی پالیسی” کے مسودے کی بھی منظوری دے دی ہے۔تعلیمی شعبے میں انقلابی اقدامات کا ذکر کرتے ہوئے ترجمان حکومت نے بتایا کہ کابینہ نے “غیر رسمی تعلیم ایکٹ 2025” کی منظوری دے دی ہے، جس کے تحت 10 سے 16 سال کی عمر کے 16 لاکھ سے زائد پسماندہ اور آٹ آف اسکول بچوں کو تعلیمی دھارے میں لانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ صوبے بھر کے سرکاری اسکولوں میں “سیکنڈ شفٹ” شروع کرنے کی باضابطہ منظوری بھی دے دی گئی ہے، جبکہ “بلوچستان ایجوکیشن فانڈیشن” کے انتظامی بورڈز کی تشکیل نو بھی کر دی گئی ہے۔ صنعتی ترقی کے فروغ کے لیے بند اور غیر فعال صنعتوں کو دوبارہ فعال کرنے کی پالیسی کی بھی منظوری دی گئی ہے، جبکہ انتظامی بہتری کے لیے شمالی اور جنوبی کوئٹہ کی انتظامی حدود کا تعین کر دیا گیا ہے اور نئی ضلعی کونسلوں کے قیام سے مقامی ترقیاتی منصوبوں کو مزید منظم کیا جائے گا۔صحت کے شعبے کے حوالے سے شاہد رند نے بتایا کہ “ادارہ برائے امراضِ گردہ” کے عبوری چیف ایگزیکٹو آفیسر کی تعیناتی کی منظوری دے دی گئی ہے، اور کوئٹہ کے اس گردوں کے اسپتال کو کراچی کے نامور ادارے “SIUT” (سندھ انسٹی ٹیوٹ آف یورولوجی اینڈ ٹرانسپلانٹیشن) کی طرز پر چلایا جائے گا۔خواتین کے حقوق اور تحفظ کے حوالے سے اہم پیش رفت کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ کابینہ نے خواتین کے تحفظ کے لیے دو انتہائی اہم قوانین منظور کیے ہیں۔ ان میں “کمشن آن اسٹیٹس آف ویمن ترمیمی ایکٹ 2026” اور “بلوچستان پناہ گاہوں اور دارالامان کنٹرول ایکٹ 2026” شامل ہیں۔ موجودہ قانون کے تحت خواتین صرف 24 سے 48 گھنٹے دارالامان میں رہ سکتی تھیں، تاہم نئے قانون کے تحت بے گھر اور غیر محفوظ خواتین کو مقررہ مدت سے زیادہ عرصہ تک دارالامان میں رکھنے کی اجازت ہوگی، جہاں ان کی سیکیورٹی کو مزید بہتر بنایا جائے گا۔کوئٹہ شہر کی خوبصورتی اور ماحول کی بہتری کے لیے ایک اور بڑا فیصلہ کرتے ہوئے ریڈیو پاکستان سریاب روڈ کی اراضی پر ایک شاندار “پبلک پارک” اور “اربن فاریسٹ” قائم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے، اور یہ پبلک پارک اور شہری جنگلات کا منصوبہ پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت شروع کیا جائے گا۔ اس کے علاوہ کوئٹہ شہر کے اندر گہما گہمی، صفائی، ٹریفک کے شدید مسائل اور صحت پر پڑنے والے منفی اثرات کے پیش نظر شہر سے تمام “ڈیری فارمز” کو باہر منتقل کرنے کی بھی منظوری دے دی گئی ہے۔کاروباری برادری کی سہولت کے لیے کابینہ نے “آسان کاروبار ایکٹ 2026” کی منظوری دی ہے، جس سے تجارتی و کاروباری سرگرمیوں میں حائل غیر ضروری رکاوٹیں دور کرنے میں بڑی مدد ملے گی۔ شفافیت کو فروغ دینے کے لیے “پبلک پروکیورمنٹ رولز 2014” میں ترمیم کی منظوری دی گئی ہے، جس کے تحت اب پانچ لاکھ روپے سے زائد کی تمام سرکاری خریداری کے لیے “ای بڈنگ” (E-Bidding) کو لازمی قرار دے دیا گیا ہے۔پریس کانفرنس کے آخر میں شاہد رند نے مزید بتایا کہ اجلاس میں موٹر وہیکل آرڈیننس 1965 کے شیڈول 12 میں ترمیم کی بھی منظوری دی گئی ہے جس سے تھرڈ پارٹی بیمہ سے متعلق قانونی اور مالی ذمہ داریاں مزید واضح ہوں گی، جبکہ زراعت کے شعبے کو ترقی دینے کے لیے کپاس کی مشینی کاشت کے پروگرام کی لاگت میں اضافے کی بھی منظوری دی گئی ہے۔



