بلوچستان میں جنگلی سور کی موجودگی کی تصدیق کردی
اورماڑاہ کے علاقے قدرتی ماحولیاتی نظام کو صحت مند قرار دے دیا، رینجر وائلڈ لائف

اورماڑہ (یو این اے )اورماڑہ کے علاقے سوند میں مقامی رہائشیوں کی جانب سے جنگلی جانور کی موجودگی اور اس کی سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پر وائرل ہونے والی ویڈیو کے بعد محکمہ جنگلات و جنگلی حیات کی ٹیم متحرک ہوگئی۔ معاملے کی حساسیت کے پیش نظر ڈپٹی رینجر وائلڈ لائف ثنا اللہ بلوچ نے اپنی ٹیم کے ہمراہ علاقے کا تفصیلی دورہ کیا اور موقع پر موجود جانور کے پاوں کے نشانات اور فضلے کا باریک بینی سے معائنہ کیا۔محکمہ وائلڈ لائف کے مطابق معائنے کے بعد تصدیق کی گئی کہ علاقے میں نظر آنے والا جانور جنگلی سور ہے۔ ڈپٹی رینجر وائلڈ لائف ثنا اللہ بلوچ نے کہا کہ اورماڑہ اور اس کے گردونواح میں جنگلی حیات کی موجودگی قدرتی حسن اور ماحولیاتی توازن کی بہترین علامت ہے۔اورماڑہ سے تعلق رکھنے والے وائلڈ لائف محقق اور ماحولیاتی صحافی محمود سگار نے بتایا کہ انڈین وائلڈ بور، جس کا سائنسی نام Sus scrofa cristatus ہے، قدرتی ماحولیاتی نظام کا ایک اہم جزو ہے۔ ان کے مطابق یہ جانور خوراک کی تلاش میں زمین کو کھودتا ہے، جس سے مٹی نرم اور ہوا دار ہوتی ہے اور بارش کے پانی کو جذب کرنے کی صلاحیت بہتر ہوتی ہے، جبکہ پودوں کے بیجوں کو بھی زمین میں جڑ پکڑنے اور نشوونما پانے میں مدد ملتی ہے۔محمود سگار کے مطابق آبادی یا زرعی علاقوں کے قریب جنگلی سور کی موجودگی بعض اوقات فصلوں کو نقصان پہنچا سکتی ہے، تاہم بیابانی علاقوں میں اس کا وجود مٹی کی زرخیزی اور قدرتی ماحولیاتی نظام کے لیے فائدہ مند ثابت ہوتا ہے۔انہوں نے بتایا کہ سوند اور اس سے ملحقہ ساحلی پٹی میں جنگلی سور کے علاوہ ایشیائی جنگلی بلی، کاراکال، سرخ لومڑی، ریت کی لومڑی، سنہری گیدڑ اور چنکارہ ہرن سمیت مختلف اہم جنگلی جانور بھی وقتا فوقتا دیکھے جاتے رہے ہیں۔محمود سگار نے کہا کہ مختلف اقسام کی جنگلی حیات کا اس خطے میں باقاعدگی سے نظر آنا اس بات کی علامت ہے کہ اورماڑہ کا قدرتی ماحولیاتی نظام اب بھی فعال، متوازن اور نسبتا صحت مند ہے، جس کے تحفظ کے لیے مقامی آبادی اور متعلقہ اداروں کو مشترکہ کردار ادا کرنا ہوگا۔محکمہ وائلڈ لائف اور ماہرین ماحولیات نے مقامی لوگوں سے اپیل کی ہے کہ جنگلی حیات کو نقصان پہنچانے یا انہیں پکڑنے سے گریز کیا جائے اور کسی بھی غیر معمولی جنگلی جانور کی موجودگی کی صورت میں فوری طور پر محکمہ جنگلات و جنگلی حیات کو اطلاع دی جائے۔



