
لاڑکانہ: پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ ملک کے عوام کے لیے معاشی طور پر زندگی گزارنا مشکل ہوتا جا رہا ہے، ایسے حالات میں سیاسی جماعتوں کو آپس کے اختلافات بھلا کر عوامی مسائل کے حل پر توجہ دینی چاہیے۔لاڑکانہ میں 600 بستروں پر مشتمل نئے اسپتال کے سنگ بنیاد کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ چانڈکا اسپتال شہید ذوالفقار علی بھٹو کا عوام کے لیے تحفہ ہے، تاہم اس پر مریضوں کا بوجھ بڑھ چکا ہے اور یہ مزید بوجھ اٹھانے کی صلاحیت نہیں رکھتا۔ بلوچستان کے نصیرآباد سمیت دیگر علاقوں سے بھی لوگ علاج کے لیے لاڑکانہ آتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ پیپلزپارٹی عوام کو عالمی معیار کی طبی سہولیات فراہم کرنے کے لیے کوشاں ہے۔ موجودہ معاشی حالات میں مفت علاج کی سہولت عوام کے لیے انتہائی اہم ہے، کسی بھی شہری کو صرف پیسے نہ ہونے کی وجہ سے علاج سے محروم نہیں رہنا چاہیے۔بلاول بھٹو نے کہا کہ سندھ حکومت اعلی تعلیم کی فراہمی پر 45 ارب روپے خرچ کر رہی ہے، جبکہ لاڑکانہ میں صاف پانی کی فراہمی، سیوریج اور ڈرینیج کے نظام کو بہتر بنانے کے لیے بھی اقدامات کیے جائیں گے۔سیاسی صورتحال پر بات کرتے ہوئے پیپلزپارٹی کے چیئرمین کا کہنا تھا کہ وزیراعظم سے ملاقات اچھی رہی ہے اور پیپلزپارٹی وفاقی حکومت کے ساتھ مل کر کام کرنا چاہتی ہے۔ وزیراعظم کو صوبوں میں کابینہ اجلاس بلانے کی تجویز بھی دی ہے تاکہ مشترکہ حکمت عملی کے ذریعے مسائل حل کیے جاسکیں۔انہوں نے کہا کہ اگر ہم آپس میں لڑتے رہے تو پاکستان کے مسائل حل نہیں ہوں گے۔ پی ٹی آئی، مولانا، دہشتگردوں، بھارت اور افغانستان سے لڑائی میں ہی مصروف رہے تو عوام کی تکالیف پر توجہ نہیں دے سکیں گے۔ تمام سیاسی اختلافات بھلا کر معاشی مسائل کے حل کو ترجیح دینا ہوگی۔بلاول بھٹو نے انتخابی اصلاحات کے حوالے سے کہا کہ پی ٹی آئی کو بھی انتخابی اصلاحات کمیٹی میں شامل ہونا چاہیے۔ اگر تمام جماعتیں انتخابات میں دھاندلی کی شکایت کرتی ہیں تو اصلاحات کے عمل میں حصہ لینا ضروری ہے۔ انہوں نے اپوزیشن سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنے نمائندے کمیٹی میں شامل کرے۔گورنر راج کے معاملے پر بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ پیپلزپارٹی کسی کے جمہوری مینڈیٹ کو نقصان پہنچانا نہیں چاہتی۔ حکومت اور پی ٹی آئی کو مذاکرات کا راستہ بند نہیں کرنا چاہیے۔ اگر دہشتگردی کے خلاف اتفاق رائے پیدا ہوجاتا ہے تو وہ گورنر راج کے خاتمے کی حمایت کرنے والے پہلے شخص ہوں گے۔انہوں نے مزید کہا کہ دہشتگردی پیپلزپارٹی کے لیے ریڈ لائن ہے۔ خیبرپختونخوا دہشتگردی کے خلاف جنگ میں فرنٹ لائن صوبہ ہے اور وہاں کی حکومت کی بھی ذمہ داری ہے کہ وہ دہشتگردوں کے خلاف مثر کردار ادا کرے۔ ملک میں دہشتگردی کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے، جس کے لیے قومی سطح پر مشترکہ حکمت عملی اور اتفاق رائے ضروری ہے۔


