بلوچستانتازہ ترین

جماعت اسلامی گوادر کے لوگوں کی پشت پر کھڑی ہے ،سراج الحق

حق دوتحریک کے سربراہ اور کارکنان پر ناجائز مقدمات فوری طور پر ختم کئے جائیں

گوادر (یواین اے) جماعت اسلامی کے مرکزی رہنما سراج الحق نے کہا ہے کہ جماعت اسلامی گوادر کے لوگوں کی پشت پر کھڑی ہے ،حق دوتحریک کے سربراہ اور کارکنان پر ناجائز مقدمات فوری طور پر ختم کیئے جائیں گوادر میں منعقدہ پریس کانفرنس سے جماعت اسلامی کے مرکزی رہنما سراج الحق نے کہا ہے کہاکہ پاکستان کی ترقی گوادر سے مربوط ہے گوادر نہ صرف پاکستان بلکہ اس پورے ریجن کے لئے بڑی اہمیت کی عامل شہر ہے انہوں نے کہا گوادر پاکستان کا روشن مستقبل کی ضامن ایک جدید شہر ہے لیکن افسوس کہ گوادر کے عوام آج بھی پانی بجلی اور روزگار سے محروم ہیں۔ انہوں نے کہا مجھے یہ پریس کانفرنس رات کے دو بجے کرنا چاہیے تھا کیونکہ حکومت بلوچستان دن کو ہمیشہ سوئی ہوتی ہے اور رات کو جاگتی ہے اب یہاں کیا امید کی جاسکتی ہے انہوں نے کہا گوادر ملک کی معیشت کاروشن مستقبل ہے اور مستقبل قریب میں گوادر کی معیشت پر ہی یہ پورا خطہ انحصار کرے گی لیکن افسوس ہے کہ گوادر کے عوام کو ہمیشہ محرمیوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے اور گوادر کے عوام تمام بنیادی انسانی حقوق سے محروم رکھے گئے ہیں۔


انہوں نے کہا گوادر کے عوام پرامن لوگ ہیں وہ کہتے ہیں کہ ہمیں روزگار سے محروم نہ کریں وہ پانی بجلی مانگتے ہیں ان کے گھروں کے سامنے ان کی عزت نفس کو مجروح نہ کیا جائے وہ کہتے ہیں کہ ہمارے اسکولوں ہمارے مسجدوں کے سامنے چوکیاں ہٹا دی جائیں، ساحل سمندر میں مچھلیاں شکار کرکے اپنا روزگار ہم خود پیدا کر رہے ہیں وہ کہتے ہیں کہ سمندری حیات کا خاتمہ نہ کیا جائے اور بارڈر ٹریڈ کو بند نہ کیا جائے۔ سراج الحق نے کہا پاکستان کے آئین کے آرٹیکل 38میں درج ہے کہ کسی بھی پاکستانی شہری کا یہ بنیادی حقوق میں شامل ہے کہ انہیں تعلیم، پینے کا صاف پانی، صحت، روزگار دیا جائے گااور سیکورٹی ریاست کی ز مہ داری ہیلیکن یہاں لوگوں کے مطالبات کو سننے کی بجائے انہیں تمام بنیادی حقوق سے محروم رکھا جارہاہے انہیں پابند سلاسل رکھا جارہایہ کہاں کا انصاف ہے جب حق دو تحریک اٹھی یہ تو پاکستان مخالف تحریک تو نہیں تھی دھرنے کے بعد صوبائی حکومت نے ان سے مزاکرات بھی کئے لیکن ان مطالبات پر عمل نہیں کیا گیااور اب پھر ساحل کو تاراج کرنے مچھلیوں کی نسل کشی کے لئے ٹرالردوبارہ متحرک ہو گئے ہیں،بارڈر ٹریڈ کو بار بار بند کرنے سے بے روزگاری کی شرح میں اضافہ ہوا ہے اورر روزگار پر قدغن لگایا گیا تو عوام نے حق دو تحریک کے زیر اہتمام دوبارہ دھرنا دیا۔انہوں نے کہا صوبائی حکومت کو چائے تھا کہ وہ لوگوں کے زخموں پر مرہم رکھتا یہ غلام قوم نہیں ہے اور نہ ہی یہ ملک سے علیحدگی کی باتیں کرتے ہیں یہ اس سر زمین کے اس ساحل کے اصل وارث ہیں لیکن ڈنڈے کے زور پر عوام کے جائز مطالبات پر انہیں ایف آئی آر کرنا کہاں کا انصاف ہے ان کے جائز مطالبات پر انکاری پولیس اور دیگر فورسز نے ان پر لاٹھی چارج کی ان پر تشددکیا گیایہ کہاں کا انصاف ہے یہاں کی خواتین و بچوں پر تشدد ظلم وزیادتی ان کے گھروں کی چادر و چار دیواروں کی پائمالی کی گئی ان کے گھروں میں گھس کر پولیس نے ڈنڈے کے زور پرلوٹ مار کی ان کی نقدیاں ان کے سونے کے زیورات اور دیگر گھروں کے استعمال کی چیزوں کو مال غنیمت سمجھ کر اٹھا کر لے گئے اوربے گناہ لوگوں کو ایف آئی آر کیا گیا جو ظلم و جبر تھا وہ کرتے رہے اور ہم نے ان مظلوم خواتین سے ان کی بیانیاں خود سنی ہیں یہ پاکستان کے خلاف کوئی علیحدگی کی تحریک نہیں چلا رہے تھے سراج الحق نے مطالبہ کرتے ہوئے کہاکہ گوادر کے عوام کے ساتھ برابری کی بنیاد پر جس طرح اسلام آباد، لاہور، کراچی پشاور کوئٹہ کے شہریوں کی طرح نرم گوشہ اختیار کیا جائے انہوں نے کہا پہلے پی ٹی آئی کی حکومت تھی اب پی ڈی ایم کی حکومت ہے لیکن رویے تبدیل نہ ہو سکے انہوں نے کہا جماعت اسلامی گوادر کے عوام کے پشت پر ہمیشہ کھڑی رہے گی ۔ سراج الحق نے کہا کہ میں 23کروڑ پاکستانی عوام کے ساتھ آیا ہوں انہوں نے مطالبہ کیا کہ حق دو تحریک کے سربراہ اور کارکنان پر قائم مقدمات پوری طور پر ختم کیئے جائیںاور جن کے گھروں سے جو سامان چوری ہوئے ہیں وہ واپس کیئے جائیں اور جو معاہدے حکومت کے ذمہ داروں نے حق دو تحریک کے ساتھ کئے ہیں ان پر فوری طور پر عملدرآمد کیا جائے انہوں نے کہاگوادر اور بلوچستان کسی پہاڑی جنگل کا نام نہیں ہے یہ اپنے حقوق کے لئے اسلام آباد میں بھی تحریک چلائیں گے ہم حکومت کو ایک موقع دیناچاہتے ہیں کہ وہ ان کو سنیں ان کے تمام معاملات پر غور کریں گوادر کی ترقی پاکستان کی ترقی پر مربوط ہے۔ انہوں نے کہا کہ گْواد حق دو تحریک کے تمام لوگوں کے ایف آئی آر فوری طور پر ختم کئے جائیں جس طرح اسلام اباد لاہور، کراچی کے لوگوں کے حقوق ہیں اسی طرح گوادر کے شہریوں کے بھی حقوق برابر کے ہیں۔

Follow GoonjLive On Facebook , Twitter ,Linkedin, RSS and Youtube

متعلقہ خبریں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button