
وندر(یو این اے)وندر، محکمہ وائلڈ لائف لسبیلہ حب کی مبینہ ملی بھگت ساحلی آبی اور پہاڑی علاقوں میں نایاب پرندوں کا غیر قانونی شکار عروج پر پہنچ گیا ۔ تفصیلات کے مطابق لسبیلہ ڈویژن کے ساحلی آبی دیہی اور پہاڑی علاقوں میں سائبیریا سمیت سرد علاقوں سے آنے والے مہمان پرندوں اور مقامی نایاب جنگلی حیات کا غیر قانونی شکار دھڑلے سے جاری ہے ۔ ذرائع کے مطابق سونمیانی ہور ، ڈام بندر ، ساحلی علاقے بھڑہ ، سیریندہ جھیل ، لیاری ، ناکھٹی ، پھور ، کنڈ ملیر اور ہنگول نیشنل پارک کے علاقوں میں شکاری گروہ سرگرم ہیں ۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ شکاریوں نے مختلف مقامات پر اپنے ٹھکانے قائم کر رکھے ہیں جہاں جدید اسلحہ ، ممنوعہ باریک جالوں ، ٹریپس اور کونج کی آوازیں نکالنے والے مخصوص آلات کے ذریعے پرندوں کو پکڑنے اور شکار کرنے کا سلسلہ جاری ہے ۔ بعض شکاری مبینہ طور پر دو سے تین ایکڑ رقبے پر جال بچھا کر بیک وقت سینکڑوں پرندوں کو زندہ پکڑتے ہیں جنہیں بعد ازاں فروخت کیا جاتا ہے ۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ شکاری پرتعیش گاڑیوں میں شکار گاہوں کا رخ کرتے ہیں اور دن دہاڑے غیر قانونی سرگرمیاں جاری رکھتے ہیں جبکہ سوشل میڈیا پر بھی مختلف مقامات سے شکار کی تصاویر اور ویڈیوز سامنے آ رہی ہیں ۔ دوسری جانب علاقائی ذرائع نے محکمہ وائلڈ لائف کے بعض افسران اور اہلکاروں پر شکاریوں سے مبینہ ملی بھگت کا دعوی کیا ہے کہ مبینہ طور پر مالی مفادات اور نوٹو کی چمک دمک کے عوض شکاریوں کو کھلی چھوٹ دی جا رہی ہے جس کے باعث غیر قانونی شکار کے خلاف کارروائیاں دیکھنے میں نہیں آ رہی ۔ محکمہ وائلڈ لائف کی مبینہ چشم پوشی کے باعث نایاب جنگلی حیات کا تحفظ ایک بڑا سوالیہ نشان بن چکا ہے ۔ مہمان پرندے ملک کا قیمتی قدرتی سرمایہ اور ساحلی علاقوں کی خوبصورتی کا اہم حصہ ہیں تاہم بے دریغ شکار سے ان کی نسلیں ختم ہوتی جا رہی ہیں ۔ عوامی حلقوں نے وزیر اعلی بلوچستان ، چیف سیکرٹری بلوچستان اور وفاقی وزیر برائے تجارت جام کمال خان عالیانی ، کمشنر لسبیلہ ڈویژن سے مطالبہ کیا ہے کہ حب اور لسبیلہ کے مختلف علاقوں میں جاری غیر قانونی شکار کا فوری نوٹس لیتے ہوئے ذمہ داروں کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے اور مہمان پرندوں سمیت نایاب جنگلی حیات کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے۔



