بلوچستانتازہ ترین

آغازِ حقوقِ بلوچستان پیکیج کے 138 منصوبوں پرسینیٹر جان محمد بلیدی کے تحفظات

بلوچستان کے لیے 4 ہزار 500 وفاقی آسامیوں کے اشتہارات جاری

عمر کی رعایت کے باوجود آن لائن درخواستوں میں مشکلات کا انکشاف
عمر کی رعایت کے باوجود آن لائن درخواستوں میں مشکلات کا انکشاف

اسلام آباد (یو این اے) سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے کم ترقی یافتہ علاقوں کی ذیلی کمیٹی نے آغازِ حقوقِ بلوچستان پیکیج کے تحت جاری منصوبوں، ان کی تکمیل میں تاخیر اور صوبے کے نوجوانوں کے لیے روزگار کے مواقع کا جائزہ لیتے ہوئے متعدد منصوبوں کی لاگت میں اضافے، مقامی آبادی پر ممکنہ اثرات اور بھرتیوں کے نظام میں تکنیکی رکاوٹوں پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔اولڈ پی آئی پی ایس ہال، پارلیمنٹ لاجز اسلام آباد میں کنوینر سینیٹر جان محمد بلیدی کی زیر صدارت اجلاس میں پلاننگ کمیشن، وزارتِ آبی وسائل، محکمہ آبپاشی بلوچستان، نیشنل ہائی وے اتھارٹی اور اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کے حکام نے بریفنگ دی۔کمیٹی کو بتایا گیا کہ پلاننگ کمیشن آغازِ حقوقِ بلوچستان پیکیج کے تحت مجموعی طور پر 138 منصوبوں پر کام کر رہا ہے، جن میں 133 سے زائد جاری اور سات نئے منصوبے شامل ہیں۔ ان منصوبوں کی منظور شدہ لاگت 1,984.3 ارب روپے ہے، جبکہ رواں مالی سال کے دوران بلوچستان کے لیے 193 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔ واٹر سیکٹر کے 18 جبکہ سڑکوں کے شعبے کے 54 منصوبے پیکیج کا حصہ ہیں۔وزارتِ آبی وسائل کے حکام کے مطابق پانی کے 18 منصوبوں کی مجموعی لاگت 369.3 ارب روپے ہے، جن کے لیے رواں مالی سال میں 16.9 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔ ان میں سے 13 منصوبوں پر حکومت بلوچستان جبکہ پانچ پر واپڈا عملدرآمد کر رہا ہے۔ حکام نے بتایا کہ 2010 سے اب تک بلوچستان میں پانی کے 51 منصوبے مکمل کیے جا چکے ہیں۔منگی ڈیم کے بارے میں کمیٹی کو بتایا گیا کہ اس کا تقریبا 80 فیصد کام مکمل ہو چکا ہے اور ڈیم سے حاصل ہونے والا پانی بنیادی

متعلقہ خبریں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button