
کراچی۔ نیشنل پارٹی کی مرکزی کمیٹی کا اجلاس دوسرے روز بھی مرکزی صدر سابق وزیر اعلی بلوچستان ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ کی صدارت میں کراچی میں جاری رہا۔ اجلاس میں سیاسی و تنظیمی مسائل پر سیر حاصل بحث اور فیصلے کئے گے۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے مرکزی صدر ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے کھاکہ پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ کی قیادت نے ریکودیک کے حوالے سے قانون سازی کرتے ہوئے جمہوریت اور 73 کے آئین سے عملا روگردانی کی ہے ریکودیک بلوچستان کے عوام کی قومی ملکیت ہے اس سے کسی صورت دستبردار نہیں ہونگے۔ انھوں نے کھاکہ پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ اور اس کے اتحادیوں کی حکومت سے ہمارا کوئی تعلق نہیں ہے ہمارا اتحاد پی ڈی ایم کے ساتھ 26 نکات پر تھا اور وہ ابھی تک ہے جس میں مسنگ پرسن کی بازیابی، قوموں کے وسائل پر ان کے اختیار اور انتخابی عمل میں ریاستی اداروں کی مداخلت کے خلاف تھا۔ انھوں نے کھاکہ قومی مفادات پر کوئی سمجھتہ نہیں کیا جائے گا بلوچ و بلوچستان کے خلاف کوئی سازش قابل قبول نہیں۔ انھوں نے نیشنل پارٹی کے کارکنوں کو ہدایت کی وہ الیکشن کی تیاریاں شروع کریں پارٹی کارکن اور ذمہ دار ساتھی اپنے اپنے علاقوں میں جاکر پارٹی کو فعال و متحرک کرنے کے لیے وقت دیں۔ انھوں نے کھاکہ پاکستان ایک فیڈریشن ہے جہاں تمام اقوم اپنے وسائل و اختیارات کے آئینی و قانونی مالک ہیں۔ قوموں کی برابری و مساوات کو تسلیم کیا جائے۔ انھوں نے کھاکہ نیشنل پارٹی کی واضح پالیسی ہے کہ انتخابی عمل میں کوئی مداخلت نہیں ہونی چاہیے عوام کو اپنے نمائندے چننے کا انتخاب ہونا چاہیے۔ نیشنل پارٹی ایک قومی جماعت ہے اور عوام کی طاقت پر ہمارا بھروسہ ہے۔ڈاکٹر مالک بلوچ نے متوقع مردم شماری کو غیر آہینی قرار دیتے ہوئے واضع کیا کہ ملکی آہین کے رو سے ہر دس سال بعد مردم شماری ہونا ہے پانچ سال بعد دوسری مردم شماری کا انعقاد غیر آہینی ہے جس کی ہرسطع پر مخالفت کرینگے اور نیشنل پارٹی متوقع مردم شماری کو مسترد کرتا ہے۔ اجلاس میں انتخابی الائنس اور اتحاد کے لیے کبیر محمد شہی اور جان محمد بلیدی کی سربراہی میں چار رکنی کمیٹی تشکیل دی گئی جس میں رحمت صالح بلوچ اور خیربخش بلوچ شامل ہیں۔ یونس بلوچ کو مرکزی کمیٹی کا رکن منتخب کیا گیا۔ تمام اضلاع کو ہدایت کی گئی کہ وہ اپنے اضلاع میں ورکرز کانفرنس اور میڈیا کانفرنسوں کا انعقاد کریں۔ نصیر آباد میں جنوری میں تربیتی ورکر کانفرنس منعقد کرنے اور جہد کی اشاعت کا فیصلہ کیا گیا۔ ریکودیک کے مسلے پر کبیر محمد شہی، طاہر بزنجو، میر اکرم دشتی، ایوب ملک اور ڈاکٹر سرفراز پر مشتمل کمیٹی وزیراعظم پاکستان سے ملاقات کرکے اپنے خدشات اور اختلافات کا اظہار کرے گا۔ 2 مارچ کو بلوچ کلچرل ڈے پر تمام اضلاع میں بھرپور انداز میں منانے اور 8 مارچ کو خواتیں کی عالمی دن کی مناسبت سے پروگرام کا انعقاد کیا جائے گا۔ 21 فروری کو مادری زبانوں کے عالمی دن کی مناسبت سے سیمنار کا انعقاد کیا جائے گا۔



