بلوچستانتازہ ترین

ڈاکٹر مالک بلوچ کو وزارت اعلی کی پیشکش کی گئی تھی ہم نے18 نکات رکھے، جان بلیدی

وفاقی حکومت کے اقدامات سے بہتری کی امید ہے

چمن، تفتان، مند اور جیونی سمیت تمام سرحدی گزرگاہیں کھولی جائیں
چمن، تفتان، مند اور جیونی سمیت تمام سرحدی گزرگاہیں کھولی جائیں

کوئٹہ (یو این اے)نیشنل پارٹی کے مرکزی رہنما اور سینیٹر جان بلیدی نے کہا ہے کہ سابق وزیراعلی بلوچستان ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ کی قیادت میں وزیراعظم شہباز شریف اور وفاقی حکومت کے سامنے صوبے کے مسائل کے حل کے لیے 18 نکات پیش کیے گئے تھے، جن پر عملدرآمد کے حوالے سے اب قدرے بہتری نظر آرہی ہے۔ سرحدی گزرگاہیں کھولنے کے فیصلے کے مثبت اثرات سامنے آئیں گے، جبکہ وفاقی حکومت کی جانب سے 30 ہزار سے زائد اضافی ملازمتوں کے اعلان کو بھی خوش آئند قرار دیتے ہیں۔اپنے بیان میں جان بلیدی نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف سے ملاقات میں بلوچستان کے دیرینہ مسائل اور عوام کو درپیش مشکلات تفصیل سے پیش کی گئیں۔ ان نکات میں سرحدی تجارت کی بحالی، تعلیم، صحت، لاپتہ افراد کا مسئلہ، کرپشن اور کمیشن کی روک تھام، سڑکوں کی تعمیر، کاروبار اور روزگار سمیت دیگر اہم معاملات شامل تھے۔انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت کی جانب سے 30 ہزار سے زائد اضافی ملازمتیں فراہم کرنے کا اعلان ایک نئی سوچ کی عکاسی کرتا ہے، اگرچہ یہ اقدام پہلے ہونا چاہیے تھا، تاہم دیر آید درست آید۔ ان کے مطابق وزیراعظم اور وفاقی حکومت کے سامنے پیش کیے گئے نکات پر عملدرآمد کے حوالے سے پیش رفت دکھائی دے رہی ہے اور امید ہے کہ اس کے مثبت نتائج برآمد ہوں گے۔سینیٹر جان بلیدی نے کہا کہ بلوچستان کی جغرافیائی اہمیت کے پیش نظر ایران اور افغانستان کے ساتھ سرحدی تجارت کو فروغ دینا ناگزیر ہے۔ وفاقی حکومت کو چمن، تفتان، مند اور جیونی سمیت دیگر سرحدی گزرگاہیں کھولنی چاہئیں تاکہ مقامی آبادی کے روزگار، کاروبار اور معاشی سرگرمیوں کو بحال کیا جاسکے۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان کی تقریبا 900 کلومیٹر طویل سرحد ایران کے ساتھ واقع ہے، جبکہ افغانستان کے ساتھ بھی صوبے کی سرحد ملتی ہے، اس لیے سرحدی تجارت کو محدود کرنے کے بجائے منظم اور مثر بنانے کی ضرورت ہے۔انہوں نے واضح کیا کہ سابق وزیراعلی ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ کو وزارت اعلی کی پیشکش ضرور کی گئی تھی، تاہم نیشنل پارٹی نے وزیراعظم کے سامنے یہ مطالبہ نہیں رکھا تھا کہ ڈاکٹر مالک بلوچ کو دوبارہ وزیراعلی بنایا جائے۔ وزیراعظم سے ملاقات کا بنیادی مقصد بلوچستان کے عوام کو درپیش مسائل اجاگر کرنا اور ان کے حل کے لیے تجاویز پیش کرنا تھا۔جان بلیدی نے کہا کہ وفاقی حکومت کو بلوچستان کے حوالے سے اپنا بیانیہ بھی درست کرنا ہوگا۔ سخت بیانیے اور محاذ آرائی کے بجائے سیاسی انداز اختیار کرتے ہوئے مسائل کے حل کے لیے بات چیت کا راستہ اپنانا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ مذاکرات اور سیاسی مکالمے کے دروازے بند نہیں ہونے چاہئیں، کیونکہ اختلافات اور پیچیدہ مسائل کا حل بات چیت ہی کے ذریعے ممکن ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ ریاست اور ناراض عناصر کے درمیان رابطے اور مذاکرات کی گنجائش برقرار رہنی چاہیے۔ یہ کہنا مناسب نہیں کہ کسی سے بات ہی نہیں کرنی، بلکہ سیاسی مسائل کو سیاسی طریقے سے حل کرنے کی کوشش ہونی چاہیے۔ بلوچستان میں پائیدار امن، ترقی اور معاشی استحکام کے لیے سیاسی مکالمہ، روزگار کے مواقع اور عوامی مسائل کا حل بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔

متعلقہ خبریں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button