
نیشنل پارٹی کے پارلیمانی رہنما سینیٹر جان محمد بلیدی نے کہا ہے کہ وفاقی حکومت کی جانب سے بلوچستان میں سرحدی تجارت بحال کرنے اور صوبے کے لیے 30 ہزار وفاقی ملازمتیں مختص کرنے کے فیصلے قابلِ تحسین ہیں، تاہم ان اقدامات کے ثمرات عام لوگوں تک پہنچانے کے لیے ٹوکن مافیا، سیاسی مداخلت اور اقربا پروری کا خاتمہ ضروری ہے۔سینیٹ میں توجہ دلا نوٹس پر اظہارِ خیال کرتے ہوئے سینیٹر جان محمد بلیدی نے کہا کہ شہید لیفٹیننٹ جنرل سرفراز احمد نے آئی جی ایف سی کی حیثیت سے مکران میں بے روزگاری کے خاتمے اور غریب و نادار افراد کو کاروبار کے مواقع فراہم کرنے کے لیے سرحدی تجارت کو منظم کرنے کے جو اقدامات کیے تھے، ان سے مکران سمیت بلوچستان بھر میں کاروبار کے دروازے کھلے تھے۔انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بعد ازاں صوبائی حکومت اور وزرا کی مبینہ مداخلت کے باعث اس کاروبار پر مافیا قابض ہوگیا اور عام لوگوں کو اس سے باہر کردیا گیا۔ ان کے مطابق سول انتظامیہ کی مدد سے ہزاروں جعلی نام فہرستوں میں شامل کیے گئے، جس کے نتیجے میں ٹوکن مافیا وجود میں آیا۔سینیٹر جان محمد بلیدی نے مطالبہ کیا کہ غریب اور نادار افراد کے کاروبار پر قائم مافیا کا قبضہ ختم کیا جائے، فہرستوں سے جعلی نام خارج کیے جائیں اور ان عناصر کے خلاف کارروائی کی جائے جنہیں مبینہ طور پر بااثر شخصیات کی پشت پناہی حاصل ہے۔انہوں نے وفاقی حکومت کی جانب سے بلوچستان کے لیے 30 ہزار ملازمتیں مختص کرنے کے فیصلے کو بھی خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ اقدام صوبے میں بے روزگاری کے خاتمے اور امن و امان کی صورت حال بہتر بنانے میں اہم کردار ادا کرسکتا ہے۔ تاہم ان ملازمتوں کی تقسیم شفاف اور میرٹ کی بنیاد پر ہونی چاہیے تاکہ اصل حق دار امیدواروں کو ان کا حق مل سکے۔انہوں نے خبردار کیا کہ صوبائی وزرا کی مداخلت اور اقربا پروری کے باعث وفاقی ملازمتوں کو بھی غیر شفاف تقسیم کے خطرات لاحق ہوسکتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ بلوچستان میں کرپشن اور سفارش نے اداروں کو مفلوج کر رکھا ہے اور ملازمتوں کی تقسیم میں سیاسی اثرورسوخ کا خاتمہ ناگزیر ہے۔ وفاقی حکومت کو یقینی بنانا چاہیے کہ بلوچستان کے لیے مختص ملازمتیں وزرا کی مداخلت سے محفوظ رہیں۔سینیٹر جان محمد بلیدی نے سینیٹ میں گزشتہ روز ہونے والی تلخ گفتگو اور ایک دوسرے کے خلاف استعمال کیے گئے نامناسب الفاظ پر بھی افسوس کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اور ریاست سب کی مشترکہ ہیں، کسی کا اس ملک پر زیادہ یا کم حق نہیں۔ سیاسی قیادت نے ملک کے لیے بڑی قربانیاں دی ہیں، اس لیے ایوانوں میں گفتگو کرتے وقت ایک دوسرے کے احترام کو ملحوظِ خاطر رکھا جانا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ سیاسی اختلافات کے باوجود مناسب الفاظ اور جملوں کا استعمال ضروری ہے اور کسی کی بے احترامی سے گریز کیا جانا چاہیے۔



