بلوچستانتازہ ترین

حکمرانوں کا فیصلہ کہ پشتون صرف مزدور ہوگا انتہائی خطرناک ہے، نواب ایاز جوگیزئی

پشتون نوجوان تعلیم کے ساتھ قومی و سیاسی مسائل کے حل کے لیے اپنا کردار ادا کریں

حکمرانوں کا فیصلہ کہ پشتون صرف مزدور ہوگا انتہائی خطرناک ہے، نواب ایاز جوگیزئی
حکمرانوں کا فیصلہ کہ پشتون صرف مزدور ہوگا انتہائی خطرناک ہے، نواب ایاز جوگیزئی

کوئٹہ(یو این اے )پشتونخواملی عوامی پارٹی کے مرکزی سیکرٹری نواب محمد ایاز خان جوگیزئی نے کہا ہے کہ حکمرانوں کا یہ فیصلہ کہ پشتون صرف مزدور ہوگا، انتہائی خطرناک ہے۔ پشتون نوجوانوں کو تعلیم جاری رکھنے کے ساتھ اپنے وطن کے قومی، سیاسی اور معاشی مسائل پر توجہ دینی ہوگی اور ان کے حل کے لیے اپنی صلاحیتیں بروئے کار لانا ہوں گی۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے پشتونخوا اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن جنوبی پشتونخوا کی زونل کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ نواب ایاز خان جوگیزئی نے کہا کہ پشتون طلبہ نے ہمیشہ تعلیم کے ساتھ سیاسی جدوجہد میں بھی حصہ لیا اور قومی تحریکوں کو کارکن اور قیادت فراہم کی ہے۔ پشتونخوا وطن کے تحفظ اور مسائل کے حل کی ذمہ داری صرف پشتونخوامیپ کی نہیں بلکہ تمام عوام اور سیاسی جماعتوں کو اپنا جمہوری کردار ادا کرنا ہوگا۔انہوں نے کہا کہ پشتون نوجوان پہلے ہی بے علمی، پسماندگی، غربت اور بے روزگاری کا شکار ہیں۔ حال ہی میں شمالی پشتونخوا میں کوئلے کی کان بیٹھنے سے تقریبا 38 نوجوان جاں بحق ہوئے۔ ان کا کہنا تھا کہ روزگار کے مواقع نہ ہونے کے باعث نوجوان اپنے علاقوں سے دور جا کر کان کنی اور محنت مزدوری کرنے پر مجبور ہیں، جہاں انہیں جان لیوا خطرات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔نواب ایاز جوگیزئی نے کہا کہ پشتون علاقوں میں دہشت گردی، بدامنی اور دیگر مسائل کے باعث مقامی آبادی مشکلات سے دوچار ہے۔ ہرنائی، شاہرگ، زیارت، شیرانی، لورالائی، موسی خیل، کوئٹہ اور قلعہ عبداللہ سمیت مختلف علاقوں کی صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے انہوں نے الزام عائد کیا کہ غیر مقامی افراد کو لا کر مختلف ذمہ داریاں دی جا رہی ہیں اور زمینوں کی غیر قانونی الاٹمنٹ کی جا رہی ہے، جس سے مقامی آبادی کو اپنے علاقوں سے نقل مکانی پر مجبور ہونے کا خدشہ ہے۔انہوں نے قبائلی تنازعات اور باہمی رنجشیں ختم کرنے، نوجوانوں میں اتحاد و اتفاق پیدا کرنے اور سوشل میڈیا کے مثبت استعمال پر زور دیتے ہوئے کہا کہ گالم گلوچ کا جواب گالی سے نہیں دینا چاہیے۔ نوجوانوں کی ذہنی و اخلاقی تربیت، کردار سازی اور پشتون روایات و ضابطہ اخلاق سے آگاہی بھی سیاسی کارکنوں کی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے نوجوانوں کو نشہ آور اشیا سے دور رکھنے اور ان کی صلاحیتوں کو مثبت سرگرمیوں میں بروئے کار لانے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔معدنی وسائل اور کان کنی کے حوالے سے بات کرتے ہوئے نواب ایاز خان جوگیزئی نے حکومت اور بڑی کمپنیوں سے مطالبہ کیا کہ متعلقہ علاقوں میں سروے کرائے جائیں اور زمین کے مالکان کے ساتھ معاہدے کیے جائیں۔ ان کے مطابق وفاق اور صوبے کو قانون کے تحت اپنے حصے وصول کرنے چاہییں، جبکہ باقی معاملات زمین کے مالکان اور کمپنیوں کے درمیان طے ہونے چاہییں۔ انہوں نے کہا کہ مقامی آبادی کے حقوق اور مفادات کو نظرانداز نہیں کیا جانا چاہیے۔نواب ایاز خان جوگیزئی نے کہا کہ پشتون نوجوانوں میں بے پناہ صلاحیتیں موجود ہیں، تاہم انہیں آگے بڑھنے کے مناسب مواقع فراہم نہیں کیے جا رہے۔ انہوں نے زونل کانفرنس کے کامیاب انعقاد پر منتظمین کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے نئی کابینہ کے لیے نیک تمناں کا اظہار کیا اور کہا کہ اصل مبارکباد اس وقت ہوگی جب کارکن اپنی ذمہ داریاں پوری کریں گے۔

متعلقہ خبریں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button