بلوچستانتازہ ترینپاکستان

صحافت پر قدغنیں نامنظور، پی ایف یو جے کا ملک گیر احتجاج

پیکا ایکٹ، گرفتاریوں اور جبری برطرفیوں کے خلاف صحافی سڑکوں پر نکلیں گے

3 نومبر کو یومِ سیاہ منانے کا اعلان کوئٹہ میں احتجاجی کیمپ لگانے کا فیصلہ،بی یو جے
3 نومبر کو یومِ سیاہ منانے کا اعلان کوئٹہ میں احتجاجی کیمپ لگانے کا فیصلہ،بی یو جے

کوئٹہ(یو این اے )بلوچستان یونین آف جرنلسٹس بی یو جے نے صحافیوں کی جبری برطرفیوں، تنخواہوں کی عدم ادائیگی، ٹی وی چینلز کے بیورو دفاتر کی بندش، صحافیوں کے خلاف مقدمات اور گرفتاریوں سمیت پیکا ایکٹ اور دیگر قوانین کے خلاف پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس (پی ایف یو جے) کی ملک گیر احتجاجی تحریک کو بھرپور انداز میں آگے بڑھانے کا اعلان کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ صحافیوں کے حقوق اور آزادی اظہار کے تحفظ کے لیے احتجاجی جدوجہد تیز کی جائے گی۔اس سلسلے میں بی یو جے کی مختلف کمیٹیوں کا مشترکہ اجلاس کوئٹہ پریس کلب میں صدر منظور احمد رند کی زیر صدارت منعقد ہوا، جس میں احتجاجی تحریک کو کامیاب بنانے کے لیے اہم فیصلے کیے گئے اور آئندہ کا لائحہ عمل طے کیا گیا۔ اجلاس میں صدر کوئٹہ پریس کلب عرفان سعید، جنرل سیکرٹری بی یو جے شاہ حسین ترین، پی ایف یو جے کے سینئر نائب صدر نورالہی بگٹی، پی ایف یو جے کی وفاقی مجلس عاملہ کے ارکان سلیم شاہد اور شہزادہ ذوالفقار سمیت مختلف کمیٹیوں کے سربراہان اور ارکان نے شرکت کی۔اجلاس میں کہا گیا کہ صحافیوں اور میڈیا ورکرز کی جبری برطرفیوں، تنخواہوں کی تاخیر یا عدم ادائیگی اور بلوچستان میں ٹی وی چینلز کے بیورو دفاتر بند کیے جانے جیسے اقدامات نے صحافتی برادری کو شدید مشکلات سے دوچار کر رکھا ہے۔ شرکا نے صحافیوں کے خلاف مقدمات کے اندراج اور گرفتاریوں سمیت پیکا ایکٹ اور دیگر قوانین کے ذریعے آزادی اظہار پر قدغنوں پر بھی سخت تشویش کا اظہار کیا۔اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ 3 نومبر کو ملک گیر یومِ سیاہ منایا جائے گا اور احتجاجی کیمپ لگایا جائے گا، جس میں پی ایف یو جے کے صدر افضل بٹ کی شرکت بھی متوقع ہے۔ بی یو جے کے مطابق احتجاجی تحریک کے لیے رابطہ مہم شروع کر دی گئی ہے اور اسے کامیاب بنانے کے لیے تمام دستیاب تنظیمی وسائل بروئے کار لائے جائیں گے۔اجلاس میں کوئٹہ پریس کلب کے زیر اہتمام ایک سیمینار منعقد کرنے کا بھی فیصلہ کیا گیا، جس میں بلوچستان اسمبلی کی سیاسی جماعتوں کے پارلیمانی رہنماں اور ارکان اسمبلی کے علاوہ وکلا، سول سوسائٹی اور مزدور تنظیموں کے نمائندوں کو مدعو کیا جائے گا۔ اس کے ساتھ بلوچستان اسمبلی کے جاری اجلاس کے دوران اسمبلی کے سامنے احتجاجی مظاہرہ بھی کیا جائے گا تاکہ صحافیوں کو درپیش مسائل اور آزادی صحافت سے متعلق خدشات حکام اور منتخب نمائندوں کے سامنے رکھے جا سکیں۔شرکا نے کہا کہ ان کے بقول میڈیا کی آواز دبانے کے لیے مختلف اقدامات کیے جا رہے ہیں، جبکہ میڈیا ہاسز کی جانب سے صحافیوں اور دیگر کارکنوں کی برطرفیوں کا سلسلہ بھی جاری ہے۔ انہوں نے کہا کہ بعض چینلز کے انتظامی فیصلوں سے بلوچستان میں صحافتی کوریج متاثر ہو رہی ہے اور صحافیوں کے روزگار کو خطرات لاحق ہیں۔بی یو جے کی قیادت نے اس عزم کا اظہار کیا کہ صحافیوں کے حقوق، آزادی اظہار اور آزاد صحافت کے تحفظ کے لیے احتجاجی تحریک میں بھرپور حصہ لیا جائے گا۔ اجلاس میں زور دیا گیا کہ صحافیوں کے معاشی تحفظ، قانونی حقوق اور پیشہ ورانہ آزادی کو یقینی بنانا ضروری ہے۔

متعلقہ خبریں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button