
اسلام آباد ،کوئٹہ(یو این اے )پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے چیئرمین، تحریک تحفظ آئین پاکستان کے سربراہ اور قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف محمود خان اچکزئی نے کہا ہے کہ پاکستان اپنی تاریخ کے انتہائی خطرناک بحران سے گزر رہا ہے، جس سے نکلنے کے لیے پارلیمنٹ کو مضبوط بنانا، آئین و انصاف کی حکمرانی قائم کرنا اور تمام سیاسی قوتوں کو قومی معاملات پر اعتماد میں لینا ناگزیر ہے۔ انہوں نے دعوی کیا کہ قومی اسمبلی میں ان کی تقریر کو ایک بار پھر سنسر کیا گیا۔قومی اسمبلی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے محمود خان اچکزئی نے کہا کہ ملک کو درپیش سیاسی، اخلاقی، معاشی اور سماجی بحرانوں کا حل پارلیمنٹ کو طاقت کا سرچشمہ بنانے میں ہے۔ ان کے مطابق گزشتہ تین سال سے خبردار کیا جا رہا ہے کہ خطہ خطرناک صورت حال سے دوچار ہے اور اگر اجتماعی دانش سے مسائل کا راستہ نہ روکا گیا تو یہ خطہ مختلف طاقتوں کے درمیان میدان جنگ بن سکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ حکومت کو قومی سلامتی اور خطے کی صورت حال کے حوالے سے پارلیمنٹ کو اعتماد میں لینا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ ملک کو مضبوط بنانے کے لیے ریاست کو عوام کے لیے ماں کا کردار ادا کرنا ہوگا، لوگوں کی خدمت اور انہیں عزت دینا ہوگی۔ انہوں نے خبردار کیا کہ موجودہ طرزِ حکمرانی، معاشی مشکلات اور عوامی محرومیوں کو نظرانداز کرنے سے قومی یکجہتی کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔قائد حزب اختلاف نے 26ویں اور 27ویں آئینی ترامیم پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ان ترامیم کے بعد عدلیہ کی حیثیت سے متعلق سنگین سوالات اٹھ رہے ہیں۔ انہوں نے ایک جج کے استعفے کا حوالہ بھی دیا اور کہا کہ ملک میں آئینی اداروں کی خودمختاری اور انصاف کی فراہمی کو یقینی بنانا ضروری ہے۔محمود خان اچکزئی نے حکومت میں مبینہ بدعنوانی کی تحقیقات کے لیے کمیٹی بنانے کا مطالبہ دہراتے ہوئے کہا کہ ان کا مقصد الزام تراشی نہیں بلکہ حقائق سامنے لانا ہے۔ انہوں نے حکومت اور حزب اختلاف کو مذاکرات کی دعوت دیتے ہوئے کہا کہ تحریک انصاف، مولانا فضل الرحمن اور ان کے اتحادی قومی معاملات پر حکومت کو غیر مشروط حمایت دینے کے لیے تیار ہیں، بشرطیکہ پارلیمنٹ کو اعتماد میں لیا جائے اور اسے فیصلہ سازی کا حقیقی اختیار دیا جائے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان میں مختلف قوموں کو ان کے وسائل اور اختیارات پر حق ملنا چاہیے۔ سندھ، بلوچستان، پنجاب، سرائیکی اور پشتون عوام کو قومی معاملات میں مثر نمائندگی دی جائے اور ان کی زبانوں اور شناخت کا احترام کیا جائے۔ ان کے بقول، ماضی میں مختلف قوموں کو ملک کی تشکیل اور فیصلہ سازی میں مناسب کردار نہیں دیا گیا، جس کے باعث محرومیوں میں اضافہ ہوا۔معاشی صورت حال پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ عوام مہنگائی اور غربت سے پریشان ہیں، محنت کشوں کی آمدن ضروریات پوری کرنے کے لیے ناکافی ہے اور کروڑوں بچے اسکولوں سے باہر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ریاست کی ذمہ داری ہے کہ عوام کو بنیادی سہولیات فراہم کرے اور غربت و محرومی کے خاتمے کے لیے مثر اقدامات کرے۔افغانستان سے تعلقات کے حوالے سے محمود خان اچکزئی نے کہا کہ دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات بہتر بنانے کے لیے ماضی کی تزویراتی گہرائی کی سوچ ترک کرنا اور باہمی احترام کی بنیاد پر آگے بڑھنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ افغانستان کو پاکستان کا پانچواں صوبہ سمجھنے کا تصور ختم کیا جائے اور مسائل کو مذاکرات کے ذریعے حل کیا جائے۔انہوں نے ایران کی صورت حال پر بھی حکومت سے پارلیمنٹ کو اعتماد میں لینے کا مطالبہ کرتے ہوئے سوال اٹھایا کہ اگر ایران پر امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے حملہ ہوتا ہے تو پاکستان کی پوزیشن کیا ہوگی۔ ان کا کہنا تھا کہ خطے کے حساس معاملات پر قومی اتفاق رائے پیدا کرنا ضروری ہے اور حکومت کو تمام سیاسی قوتوں کے ساتھ مشاورت کرنی چاہیے۔محمود خان اچکزئی نے کہا کہ پاکستان کو بحران سے نکالنے کا راستہ باہمی الزام تراشی اور گالی گلوچ نہیں بلکہ مذاکرات، آئین کی بالادستی، انصاف کی حکمرانی، پارلیمانی اختیار اور ہمسایہ ممالک کے ساتھ برابری کی بنیاد پر تعلقات ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تمام سیاسی قوتیں ماضی کے اختلافات سے آگے بڑھ کر مشترکہ لائحہ عمل اختیار کریں تو پاکستان ایک مستحکم اور ترقی یافتہ ملک بن سکتا ہے۔



