بلوچستانتازہ ترینپاکستان

مولانا فضل الرحمن بھی کچھ شرم و حیا کریں، خواجہ آصف کا قومی اسمبلی میں سخت جواب

آپ 10 سال کشمیر کمیٹی کے چیئرمین رہے، کیا خدمات انجام دیں؟ وزیر دفاع کے فضل الرحمن پر تابڑ توڑ حملے

مولانا فضل الرحمن بھی کچھ شرم و حیا کریں، خواجہ آصف کا قومی اسمبلی میں سخت جواب
U.S. – Pakistan Clean Energy Business Opportunities Conference December 1-2, 2015.
مولانا فضل الرحمن بھی کچھ شرم و حیا کریں، خواجہ آصف کا قومی اسمبلی میں سخت جواب
مولانا فضل الرحمن بھی کچھ شرم و حیا کریں، خواجہ آصف کا قومی اسمبلی میں سخت جواب

اسلام آباد (یو این اے)وزیر دفاع خواجہ آصف نے قومی اسمبلی میں جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمن کی تنقید کا سخت جواب دیتے ہوئے کہا ہے کہ مولانا انہیں شرم و حیا کا طعنہ دینے سے پہلے اپنے سیاسی ماضی اور عہدوں کی کارکردگی کا جائزہ لیں۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ مولانا فضل الرحمن نے کشمیر کمیٹی کے چیئرمین کی حیثیت سے دس سال کے دوران کیا خدمات انجام دیں اور افغانستان کا دورہ کس حیثیت سے کیا تھا۔قومی اسمبلی میں مولانا فضل الرحمن کی گزشتہ روز کی تقریر پر ردعمل دیتے ہوئے خواجہ آصف نے کہا کہ تہران میں کوئی دفاعی معاہدہ نہیں ہو رہا تھا اور نہ ہی وہاں پاکستان کے دفاع سے متعلق کوئی معاملہ زیر بحث تھا، اس لیے ان کی وہاں موجودگی ضروری نہیں تھی۔ ان کے بقول تہران میں ہونے والی سرگرمیاں وزارت دفاع کے دائر اختیار میں نہیں آتی تھیں، تاہم حالیہ دونوں دفاعی معاہدوں میں وہ وزیر دفاع کی حیثیت سے شریک رہے۔وزیر دفاع نے کہا کہ فیلڈ مارشل تہران صلح کرانے اور امن کا پیغام لے کر گئے تھے۔ انہوں نے ایک جنگ رکوانے میں کردار ادا کیا، جبکہ یمن کا تنازع مزید شدت اختیار کر سکتا تھا۔ خواجہ آصف کے مطابق پاکستان اور فیلڈ مارشل کے بین الاقوامی سطح پر کردار کا اعتراف کیا جانا چاہیے، کیونکہ ان کی کوششیں خطے میں امن کے عمل کو آگے بڑھانے کے لیے ہیں۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ آنے والے دنوں میں مشرق وسطی میں مثبت نتائج سامنے آئیں گے۔مولانا فضل الرحمن کو مخاطب کرتے ہوئے خواجہ آصف نے کہا، مولانا، آپ بھی کچھ حیا اور شرم کریں، آپ 40 سال کن کن عہدوں کے مزے لیتے رہے ہیں؟ انہوں نے سوال کیا کہ مولانا فضل الرحمن نے دس سال کشمیر کمیٹی کے چیئرمین کی حیثیت سے کیا خدمات انجام دیں۔ وزیر دفاع نے ان کے سیاسی ماضی کو تضادات سے بھرپور قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہاں کوئی بھی مکمل طور پر بے عیب نہیں ہے۔خواجہ آصف نے مولانا فضل الرحمن کے دور افغانستان پر بھی سوالات اٹھائے اور پوچھا کہ انہوں نے افغانستان کا دورہ کیوں کیا اور وہاں جانے کی پیشکش کیوں قبول کی؟ کیا وہ اس وقت وزیر خارجہ تھے؟ وزیر دفاع نے الزام عائد کیا کہ اس دورے کا مقصد اپنی سیاست کو آگے بڑھانا تھا۔خواجہ آصف کے خطاب میں مولانا فضل الرحمن کی سیاسی کارکردگی، کشمیر کمیٹی میں ان کے کردار اور افغانستان کے دورے کو تنقید کا نشانہ بنایا گیا، جبکہ تہران میں پاکستان کے کردار اور سفارتی کوششوں کے حوالے سے وزیر دفاع نے اپنا مقف پیش کیا۔

متعلقہ خبریں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button