
سابق امیر جماعت اسلامی پاکستان سنیٹرسراج الحق نے کہاکہ نظام کی تبدیلی کیلئے عملی مخلصانہ جدوجہد کی ضرورت ہے نظام کی تبدیلی کیلئے مخلصانہ عملی جدوجہد نہیں کریں گے توتباہی وبربادی مقدربنے گی۔عدالتوں میں انگریزکا تعلیمی اداروں میں لارڈمیکالے کانظام نہ پارلیمنٹ میں نہ عدالت میں نہ معیشت اسلام ہرطرف غیروں بے دینوں کانظام چل رہاہے۔بدقسمتی سے ہمارے فیصلے ہمارے ہاتھ میں نہیں۔آج ہماری قسمت کے فیصلے کوئی اورکررہے ہیں پہلے وائسرائے ہواکرتاتھااب ان کے غلام ہم پرمسلط ہے۔حکمرانوں نے خیبرپختونخواہ میں ایمرجنسی سے متاثرہ عوام کو107ارب کاانجکشن لگایابتایاتک نہیں کہ کب تک خیبرپختونخواہ والے ایمرجنسی وارڈمیں رہیں گے۔بلوچستان ہویاخیبرپختونخواہ علاج ایمرجنسی نہیں اسلامی نظام ہے۔ ان خیالات کااظہارانہوں نے دورہ کوئٹہ کے دوران چمن پھاٹک مدرسہ دارالرشادجامع مسجد میں خطاب کرتے ہوئے کیا انہوں نے کہاکہ ایران افغانستان بارڈرزبندش سے بلوچستان کے ہزاروں لاکھوں لوگ معاشی طورپربربادتباہ ہوئے ہمارے بارڈرزہم،ہماری پارلیمنٹ نہیں غیرلوگ بند کرتے ہیں منتخب نمائندوں کومعلوم نہیں کس بے کیوں بندکیا۔زبردستی مسلط لوگ پارلیمنٹ سے کوئی مشورہ نہیں کرتے۔25کروڑ عوام اوران کے نمائندوں کی کوئی اہمیت نہیں بدقسمتی سے ہماری رائے ہمارے خون ہماری لاشوں وجانوں کی بھی کوئی اہمیت نہیں۔ظالموں کاراستہ روکھناہوگاکوئی پارٹی نہیں صرف ظالم اورمظلوم کی پارٹیاں ہے۔ پاکستان بلوچستان کواللہ نے ہرقسم کی نعمتوں اوروسائل سے نوازا۔لیکن آج ہرطرف خوف ودہشت ہے آئندہ نسلیں بھی آئی ایم ایف کے مقروض بنادیے گیے ہیں کوئٹہ میں خوف وبھوک کادوردورہ ہے۔جوجرم بنی اسرائیل نے کیے وہی ظلم ہم کررہے ہیں۔پاکستان کونفازاسلام کیلئے کلمے کی بنیاد پرلاکھوں جانوں کی قربانیاں دیکر جدوجہد کیالیکن بدقسمتی سے ایک دن کیلئے بھی اسلامی نظام قائم نہیں ہوا۔جس ظلم وجبرلاقانونیت منکرات کے خلاف 70سال قبل ہزاروں لوگوں نے جدوجہد کیاجان ومال کی قربانیاں دی وہی ظلم وجبرلاقانونیت منکرات کانظام چل رہاہے۔اللہ ہم سے ضرورپوچھے گااگرہم نے اسلامی تبدیلی نہیں لائی توہماراحشربھی تاتاریوں کی طرح ہوگا#



