
مستونگ: بلوچستان کے ضلع مستونگ سے اغوا ہونے والے 22 پولیس اہلکار دو روز تک مسلح افراد کی قید میں رہنے کے بعد اتوار کو بازیاب ہوکر اپنے گھروں کو پہنچ گئے۔ بازیاب اہلکاروں نے دورانِ حراست تشدد، بھوکا پیاسا رکھنے اور پولیس کی ملازمت چھوڑنے کے لیے دبا ڈالنے کے واقعات بیان کیے ہیں۔مستونگ پولیس کے ڈی ایس پی رفیق حمزہ نے اہلکاروں کی بازیابی کی تصدیق کی، تاہم انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ اہلکاروں کو کہاں سے اور کس طرح بازیاب کرایا گیا۔ پولیس کے ایک افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر اہلکاروں کی تعداد 22 بتائی، جبکہ ابتدائی طور پر پولیس نے 20 اہلکاروں کے اغوا کی اطلاع دی تھی۔پولیس کے مطابق واقعہ جمعے کی دوپہر مستونگ کی حدود میں کردگاپ کے علاقے گورگینہ کے قریب پیش آیا، جہاں موٹر سائیکلوں پر سوار نامعلوم مسلح افراد نے قلات سے نوشکی جانے والی مسافر وین روک کر اس میں سوار پولیس اہلکاروں کو وین سمیت اپنے ساتھ لے گئے۔ وین میں ڈرائیور اور تین عام مسافر بھی موجود تھے، جنہیں بعد میں چھوڑ دیا گیا۔اغوا ہونے والے اہلکاروں کا تعلق رخشان ڈویژن کے اضلاع خاران، نوشکی، چاغی اور واشک سے ہے۔ ان میں 21 سابق لیویز اہلکار شامل تھے، جو پولیس اور لیویز فورس کے انضمام کے بعد پولیس کا حصہ بنے تھے۔ تمام اہلکار قلات کے پولیس ریکروٹ ٹریننگ سینٹر میں تربیت حاصل کر رہے تھے اور ہفتہ وار چھٹی پر اپنے گھروں کو جا رہے تھے۔ مغویوں میں ایک انسٹرکٹر بھی شامل تھا۔بازیاب ہونے والے ایک اہلکار کے مطابق، انہوں نے منگچر سے آگے ایک رابطہ سڑک اختیار کی تھی، جس کے بارے میں انہیں بتایا گیا تھا کہ اس راستے سے نوشکی جلد پہنچا جا سکتا ہے۔ چھٹیاں کم ہونے کے باعث وہ جلد اپنے گھروں کو پہنچنا چاہتے تھے۔اہلکاروں نے بتایا کہ اغوا کاروں نے ان کی آنکھوں پر پٹیاں باندھیں اور انہیں ایک نامعلوم مقام پر کمرے میں رکھا۔ ان کے مطابق اغوا کے پہلے روز انہیں تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور پولیس کی ملازمت چھوڑنے کے لیے کہا گیا۔ اغوا کاروں نے دورانِ حراست ان کی ویڈیوز بھی بنائیں۔بازیاب اہلکاروں کے مطابق انہیں زیادہ تر بھوکا رکھا گیا اور پانی بھی مشکل سے دیا جاتا تھا۔ ایک اہلکار نے بتایا کہ منت سماجت کے بعد انہیں پانی ملتا تھا، جبکہ ایک یا دو مرتبہ صرف سوکھی روٹی کھانے کے لیے دی گئی۔اہلکاروں کے مطابق اتوار کو نمازِ ظہر کے وقت اغوا کار انہیں نامعلوم مقام سے نکال کر کافی دیر تک سفر کراتے رہے، جس کے بعد ایک ویران علاقے میں چھوڑ کر فرار ہوگئے۔ بعد ازاں تین فیلڈر گاڑیاں وہاں پہنچیں اور انہیں کوئٹہ منتقل کیا گیا۔ سکیورٹی اہلکاروں نے ابتدائی پوچھ گچھ کے بعد انہیں گھروں کو جانے کی اجازت دے دی۔واقعے سے متعلق بلوچستان حکومت یا پولیس کا تفصیلی باضابطہ مقف تاحال سامنے نہیں آیا۔



