بلوچستانتازہ ترین

لوکل کونسل فنانس کمیشن کا اجلاس بے نتیجہ ختم

بلدیاتی اداروں کو فنڈز جاری نہ ہونے پر 26 اکتوبر کو کوئٹہ میں احتجاج ہوگا

تاخیر سے عوامی منصوبے متاثر اور فنڈز لیپس ہونے کا خدشہ ہے، لوکل کونسل فورم
تاخیر سے عوامی منصوبے متاثر اور فنڈز لیپس ہونے کا خدشہ ہے، لوکل کونسل فورم

ژوب (یو این اے )آل بلوچستان لوکل کونسل فورم کے صوبائی ترجمان نے کہا ہے کہ لوکل کونسل فنانس کمیشن کا اجلاس منعقد ہونے کے باوجود بلوچستان بھر کے بلدیاتی اداروں کو نان سیلری اور ترقیاتی فنڈز جاری نہ کرنا تشویش ناک ہے۔ فنڈز کی عدم فراہمی سے بلدیاتی اداروں کے روزمرہ امور، شہری سہولیات اور ترقیاتی منصوبے متاثر ہو رہے ہیں، جبکہ موجودہ مالی سال کے ترقیاتی فنڈز ضائع ہونے کا خدشہ بھی بڑھ رہا ہے۔ایک بیان میں صوبائی ترجمان نے کہا کہ بلدیاتی ادارے عوام کو صفائی ستھرائی، نکاسی آب، گلیوں اور سڑکوں کی بہتری سمیت بنیادی سہولیات فراہم کرنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں، لیکن مالی وسائل کی بروقت فراہمی کے بغیر ان اداروں سے مثر کارکردگی کی توقع نہیں کی جا سکتی۔ فنانس کمیشن کا اجلاس ہونے کے باوجود فنڈز جاری نہ ہونا کئی سوالات کو جنم دیتا ہے، جن کا متعلقہ حکام کو جواب دینا چاہیے۔انہوں نے مطالبہ کیا کہ بلوچستان بھر کی متعلقہ لوکل کونسلز کو نان سیلری فنڈز فوری جاری کیے جائیں تاکہ انتظامی اخراجات اور بنیادی عوامی خدمات کا سلسلہ برقرار رہ سکے۔ اسی طرح موجودہ مالی سال کے منظور شدہ ترقیاتی فنڈز بھی بلا تاخیر متعلقہ اداروں کو منتقل کیے جائیں تاکہ عوامی فلاح و بہبود کے منصوبوں پر بروقت عمل درآمد ممکن ہو۔صوبائی ترجمان نے کہا کہ متعلقہ حکام فنڈز کے اجرا میں تاخیر کی وجوہات واضح کریں اور اس بات کو یقینی بنائیں کہ مالی سال کے اختتام پر ترقیاتی منصوبوں کے لیے مختص وسائل لیپس نہ ہوں۔ لوکل کونسل فنانس کمیشن کے فیصلوں پر عمل درآمد کی صورت حال سامنے لائی جائے اور فنڈز کی فراہمی کے لیے باقاعدہ وقت مقرر کیا جائے۔انہوں نے زور دیا کہ تمام بلدیاتی اداروں کو منظور شدہ قواعد اور فارمولے کے مطابق شفاف انداز میں مالی وسائل فراہم کیے جائیں۔ مستقبل میں تاخیر سے بچنے کے لیے فنڈز کے اجرا کا مستقل نظام بنایا جائے اور منتخب بلدیاتی نمائندوں کو اعتماد میں لے کر درپیش مالی مسائل حل کیے جائیں۔آل بلوچستان لوکل کونسل فورم کے ترجمان نے چیف سیکرٹری بلوچستان اور سیکرٹری خزانہ سے مطالبہ کیا کہ وہ معاملے کا فوری نوٹس لیتے ہوئے بلدیاتی اداروں کے جائز مالی حقوق کی فراہمی یقینی بنائیں۔ انہوں نے کہا کہ فنڈز کی عدم فراہمی کا براہ راست نقصان عام شہریوں کو اٹھانا پڑتا ہے، اس لیے یہ معاملہ محض انتظامی نہیں بلکہ عوامی مفادات سے بھی جڑا ہوا ہے۔ترجمان نے اعلان کیا کہ پیر 26 اکتوبر 2026 کو صبح 10 بجے کوئٹہ پریس کلب کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کیا جائے گا۔ احتجاج میں بلوچستان بھر کی ڈسٹرکٹ کونسلز کے چیئرمین، وائس چیئرمین اور کونسلران، میونسپل کارپوریشنز کے میئر، ڈپٹی میئر اور کونسلران، میونسپل کمیٹیوں اور یونین کونسلز کے منتخب نمائندے شرکت کریں گے۔انہوں نے بتایا کہ احتجاج کے بعد منتخب بلدیاتی نمائندوں کی مشاورت سے آئندہ کا لائح عمل طے کیا جائے گا۔ فورم نے اپنے مطالبات کی منظوری، مالی وسائل کے بروقت اجرا اور بلدیاتی نظام کی مثر فعالیت کے لیے آئینی و قانونی دائرے میں رہتے ہوئے جدوجہد جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا۔

متعلقہ خبریں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button