بلوچستانتازہ ترین

بلوچستان کا مستقبل بندوق نہیں، کتاب تھامنے والے نوجوان ہیں، وزیراعلی سرفراز بگٹی

بلوچستان کے 10 نوجوانوں کو ہر سال دنیا کی ممتاز جامعات میں پی ایچ ڈی اسکالرشپس ملیں گی

بلوچستان کا مستقبل بندوق نہیں، کتاب تھامنے والے نوجوان ہیں، وزیراعلی سرفراز بگٹی
بلوچستان کا مستقبل بندوق نہیں، کتاب تھامنے والے نوجوان ہیں، وزیراعلی سرفراز بگٹی

کوئٹہ (پ ر)حکومت بلوچستان نے ایجوکیشن انڈومنٹ فنڈ کے تحت دنیا بھر کی 100 سے زائد ممتاز جامعات میں پی ایچ ڈی اسکالرشپس پروگرام کے لیے رواں سال امیدواروں سے درخواستیں طلب کرلی ہیں۔ پروگرام کے تحت بلوچستان کے باصلاحیت نوجوانوں کو معروف عالمی جامعات میں اعلی تعلیم اور تحقیق کے مواقع فراہم کیے جائیں گے۔حکومت بلوچستان کے اعلامیے کے مطابق ہر سال صوبے سے 10 باصلاحیت امیدواروں کو بیرون ملک ممتاز جامعات میں پی ایچ ڈی کی تعلیم کے لیے اسکالرشپس فراہم کرنے کا سلسلہ شروع کیا گیا ہے۔ اقدام کا مقصد نوجوانوں کو اعلی تعلیم، تحقیق اور جدید علمی مواقع تک رسائی فراہم کرنا اور انہیں عالمی سطح پر مسابقت کے لیے تیار کرنا ہے۔بلوچستان ایجوکیشن انڈومنٹ فنڈ کے چیف ایگزیکٹو آفیسر خالد ماندائی کے مطابق گزشتہ سال بلوچستان کے 6 باصلاحیت امیدوار مختلف ممالک کی ممتاز جامعات میں پی ایچ ڈی اسکالرشپس حاصل کرکے اعلی تعلیم کے لیے جاچکے ہیں۔ان اسکالرز میں کوئٹہ کی فرزانہ انور کو برطانیہ کی یونیورسٹی آف لیڈز میں مالیکیولر اینڈ سیل بائیولوجی، بارکھان کے اکبر جان کو ڈنمارک کی یونیورسٹی آف کوپن ہیگن میں فوڈ سپلائیج اینڈ فوڈ سیفٹی، قلعہ سیف اللہ کے عمران خان کو کینیڈا کی یونیورسٹی آف البرٹا میں زراعت و جنگلاتی حیاتیات، کوہلو کی حمیرا یونس کو آسٹریلیا کی یونیورسٹی آف کوئنز لینڈ میں سیاست و بین الاقوامی مطالعات، خاران کی ماہ نور سید کو برطانیہ کی یونیورسٹی آف برسٹل میں صنفی مساوات جبکہ قلات کے عبدالقاہر کو ملائیشیا کی یونیورسٹی ملایا میں ساختیات کے شعبے میں پی ایچ ڈی کے لیے اسکالرشپ فراہم کی گئی۔وزیراعلی بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے عالمی سطح کے پی ایچ ڈی اسکالرشپ پروگرام کے اجرا پر مسرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ پروگرام بلوچستان کے روشن مستقبل کی نوید ہے۔ نوجوانوں کو دنیا کی بہترین جامعات تک پہنچانے کا سفر شروع ہوچکا ہے اور یہ دراصل بلوچستان کے مستقبل کو بدلنے کا سفر ہے۔وزیراعلی نے کہا کہ بلوچستان کا نوجوان مواقع کی تلاش میں دنیا سے پیچھے نہیں رہے گا اور دنیا کی بہترین جامعات بلوچستان کے نوجوانوں کا مقدر بنیں گی۔ یہ صرف اسکالرشپس نہیں بلکہ بلوچستان کی آنے والی نسلوں کے لیے امید، علم اور ترقی کے نئے دروازے ہیں۔میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ دہشت گردی کا مقابلہ علم و شعور اور نوجوانوں کو ترقی کے مواقع فراہم کرکے کیا جاسکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بلوچستان کا مستقبل بندوق تھام کر پہاڑوں میں چھپنے والے نہیں بلکہ کتاب تھام کر دنیا کی ممتاز جامعات میں علم و تحقیق کے میدان میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوانے والے نوجوان ہیں۔وزیراعلی نے اس عزم کا اظہار کیا کہ حکومت بلوچستان کے نوجوانوں کو دنیا کی ممتاز جامعات تک پہنچا کر علم و تحقیق کے عالمی نقشے پر نمایاں مقام دلانے کے لیے اقدامات جاری رکھے گی۔ ان کے مطابق باصلاحیت نوجوانوں کو اعلی تعلیم کے عالمی مواقع فراہم کرنا بلوچستان کے انسانی وسائل میں سرمایہ کاری ہے، جس کے ثمرات آنے والی نسلوں تک پہنچیں گے۔

متعلقہ خبریں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button