
کوئٹہ (یو این اے) صوبائی وزیر داخلہ بلوچستان میر ضیا اللہ لانگو نے ایک نجی ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا ہے کہ ہمارے بعض سیاستدانوں نے ہمیشہ دوغلے پن کا مظاہرہ کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ سردار اختر مینگل جب وزیراعلی بلوچستان تھے تو انہوں نے نواز شریف کو اپنی گاڑی میں لے جا کر چاغی میں ایٹمی دھماکے کروائے، تاہم اقتدار سے محرومی کے بعد وہ آج تک ایٹمی دھماکوں کے خلاف تقاریر کرتے ہیں۔میر ضیا اللہ لانگو نے کہا کہ 2008 میں نواب اسلم رئیسانی کی حکومت کے دوران دہشت گردی کے خلاف بھرپور کارروائیاں کی گئیں۔ جو لوگ آج دہشت گردی کے حوالے سے باتیں کر رہے ہیں، وہ 2008 کی حکومت میں دہشت گردوں کو للکارتے تھے، لیکن اقتدار سے دور ہونے کے بعد عوام کی حمایت حاصل کرنے کے لیے مقف تبدیل کرکے دہشت گردوں کے بیانیے کو اپنانے لگے ہیں۔صوبائی وزیر داخلہ نے کہا کہ موجودہ حکومت کی اولین ترجیح دہشت گردی کا خاتمہ ہے۔ بدقسمتی سے جب کسی کو وزیراعلی بنایا جاتا ہے تو دہشت گردی کے خلاف بڑی بڑی باتیں کی جاتی ہیں، لیکن حکومت ختم ہونے کے بعد بعض عناصر سیاسی مفادات کے لیے اپنا مقف تبدیل کر لیتے ہیں۔میر ضیا اللہ لانگو نے کہا کہ میر صادق عمران ایک سینئر سیاستدان ہیں اور سب ان کا احترام کرتے ہیں۔ سیاست اور انسانیت کے کچھ اصول ہوتے ہیں جنہیں پامال نہیں کیا جانا چاہیے۔اسلام آباد میں ہونے والی ورکشاپ کے حوالے سے صوبائی وزیر داخلہ نے کہا کہ بلوچستان کی قیادت کو باعزت طریقے سے مدعو کیا گیا، جبکہ وزیراعظم اور فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر نے بلوچستان کی تمام سیاسی قیادت کے سوالات کے جوابات دیے۔ ان کا کہنا تھا کہ ورکشاپ میں تمام ارکان اسمبلی، صوبائی وزرا اور سیاسی قیادت کو عزت اور قدر دینا ایک مثبت عمل تھا، اسے غلط رنگ دینا درست نہیں۔پشتون قومی جرگے کے حوالے سے میر ضیا اللہ لانگو نے کہا کہ اگر اس کا مقصد پشتونوں کے سیاسی و سماجی مسائل اور دہشت گردی کے خاتمے کے لیے کام کرنا ہے تو یہ اچھی بات ہے۔انہوں نے کہا کہ ان کا اختلاف ہمیشہ محمود خان اچکزئی اور سردار اختر مینگل سے اس بات پر رہا ہے کہ بلوچ اور پشتون عوام کو شعور دینے اور ان کے مسائل کے حل کی بات کی جائے۔ بلوچ اور پشتون کو الگ کرنے یا دونوں اقوام کے درمیان دراڑیں ڈالنے کی بات کرنے والے ہر شخص کے وہ سب سے بڑے مخالف ہوں گے۔میر ضیا اللہ لانگو نے واضح کیا کہ بلوچ اور پشتون عوام کو تقسیم کرنے کی سیاست کے بجائے ان کے درمیان اتحاد، شعور اور باہمی احترام کو فروغ دینا ضروری ہے۔



