تازہ ترینپاکستان

 باجوڑ میں خوفناک دھماکا

چینی نائب وزیراعظم کی پاکستان آمد کے موقع پر باجوڑ میں خوفناک دھماکا، 40 افراد جاں بحق، 100 سے زائد زخمی

یک ایسے موقع پر جب بھارت سمیت بعض عالمی کھلاڑیوں کی بھرپور مخالفت کے باوجود سی پیک منصوبے پر جاری کام کی رفتار میں تیزی آچکی ہے، پاکستان اور چین کی اعلیٰ قیادت اس منصوبے کی جلد از جلد تکمیل پر متفق ہے۔ بلوچستان اور خیبر پختونخوا کے سرحدی علاقوں میں دہشت پسندانہ واقعات میں شدت دراصل اس عظیم منصوبے کی راہ میں روڑے اٹکانے کے لیے ہےآج جب کہ چین کے نائب وزیر اعظم انتہائی اہم دورے پر پاکستان پہنچ چکے ہیں، ان کی آمد سے چند گھنٹے قبل باجوڑ میں جمیعت علمائے اسلام کے جلسے میں دھماکا اور اس کے نتیجے میں ہونے والی ہلاکتیں دراصل دہشت برائے دہشت نہیں بلکہ سی پیک پر جاری پیش رفت میں رخنہ اندازی کی کوشش ہےواضح رہے کہ حکومت پاکستان نے چینی نائب وزیر اعظم کی آمد کے سلسلے میں اسلام آباد میں 2 روزہ عام تعطیل کا اعلان کر رکھا تھا۔ اس تعطیل کا واحد مقصد کسی بھی طرح کے ناخوشگوار واقعہ کے امکانات کو معدوم کرنا تھا، تاہم باجوڑ دھماکے کی شدت نے اس اہم موقع پر بہرحال دنیا کی توجہ اپنی جانب مبذول کروالی ہےخیبر پختونخوا کے علاقے باجوڑ میں جمعیت علمائے اسلام کے ورکرز کنونشن میں دھماکا ہوا ہے جس کے نتیجے میں 40 افراد جاں بحق اور 100 سے زیادہ زخمی ہو گئے ہیں۔ریسکیو 1122  کے مطابق ہیڈکوارٹر خار میں ورکرز کنونشن کے اندر ہونے والے دھماکے میں ابتدائی طور پر 40 افراد جاں بحق اور 100 سے زیادہ زخمی  ہو گئے ہیں جنہں اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔دھماکے کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکار موقع پر پہنچ گئے ہیں اور علاقے کو گھیرے میں لے لیا ہے۔ریسکیو 1122 کے ترجمان نے بتایا ہے کہ لاشوں اور زخمیوں کو اسپتال منتقل کرنے کے لیے امدادی کارروائیاں جاری ہیں، تاہم اموات میں اضافے کا خدشہ ہے۔ریسکیو ذرائع کا کہنا ہے کہ ورکرز کنونشن میں 4 ہزار کے قریب لوگ شریک تھے۔ جبکہ صوبائی ترجمان جے یو آئی جلیل جان نے بتایا کہ کنونشن کے دوران دھماکا اسٹیج کے قریب ہواڈپٹی کمشنر باجوڑ محمد انورالحق نے وی نیوز کو بتایا کہ دھماکے کے بعد امدادی کارروائیاں تاحال جاری ہیں۔ جائے وقوعہ پر ہر طرف خون ہی خون ہے جبکہ اموات میں اضافے کا خدشہ ہے۔ڈپٹی کمشنر نے بتایا کہ پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں نے تحقیقات شروع کر دی ہیں۔ شواہد اکٹھے کیے جا رہے ہیں۔ پہلی ترجیح امدادی سرگرمیاں ہیں۔انسپکٹر جنرل پولیس خیبر پختونخوا نے کہا ہے کہ ہمیں اب تک جو اطلاعات ملی ہیں ان کے مطابق دھماکا خود کش تھا تاہم اس حوالے سے مزید شواہد اکٹھے کیے جا رہے ہیں۔ریجنل پولیس آفیسر مالا کنڈ ناصر ستی کے مطابق بھی دھماکا خود کش لگ رہا ہے تاہم ان کا کہنا تھا کہ اس حوالے سے مزید تحقیقات کی جا رہی ہیں۔وفاقی وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ نے باجوڑ دھماکے کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ واقعہ کے مجرموں کو کیفرکردار تک پہنچایا جائے گا۔اپنے ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ دہشت گردوں کی بزدلانہ کارروائیاں ہمارے حوصلے پست نہیں کر سکتیں۔ ہم مٹھی بھر دہشت گرد عناصر کو جلد ختم کر کے دم لیں گے۔ وزیر داخلہ نے مزید کہا کہ ملک دشمن عناصر افراتفری پھیلانا چاہتے ہیں۔وزیر داخلہ نے واقعہ کی رپورٹ طلب کر لی ہے۔ انہوں نے جے یو آئی کے سربراہ مولانا فضل الرحمان، عہدیداران اور کارکنان سے تعزیت بھی کی۔دوسری جانب جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے دھماکے پر اپنے رد عمل میں کہا ہے کہ جے یو آئی کے کارکنان پر امن رہیں، وفاقی و صوبائی حکومتیں زخمیوں کو بہترین طبی علاج معالجہ فراہم کریں۔سربراہ جے یو آئی نے دھماکے میں ہونے والے جانی نقصان پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔ اور وزیراعظم و وزیراعلیٰ کے پی سے واقعہ کی انکوائری کا مطالبہ کیا ہے۔اِدھر صدر مملکت عارف علوی، وزیراعظم شہباز شریف، وزیر خارجہ بلاول بھٹو، اسپیکر راجہ پرویز اشرف،  ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی زاہد اکرم درانی نے باجوڑ میں دھماکے کی مذمت کی ہے۔وزیرِ اعظم شہباز شریف نے باجوڑ میں جمیعتِ علمائے اسلام کے ورکرز کنونشن میں دھماکے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے واقعہ میں قیمتی جانوں کے ضیاع پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔اپنے ایک بیان کے مطابق وزیرِ اعظم نے جمیعت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان سے واقعے پر اظہارِ افسوس کیا ہے۔شہباز شریف نے دھماکے میں شہید ہونے والوں کے لیے مغفرت اور ان کے اہلِ خانہ کے لیے صبر جمیل کی دعا بھی کی۔وزیرِ اعظم نے دھماکے میں زخمی ہونے والے افراد کو بہترین طبی سہولیات فراہم کرنے کی ہدایت کی اور واقعکی مکمل تحقیقات کرکے ذمہ داران کی نشاندہی کرنے کی بھی ہدایت کی ہے۔جمعیت علمائے اسلام کے سیکریٹری جنرل عبدالغفور حیدری نے دھماکے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ سوچے سمجھے منصوبے کے تحت ملک کے حالات خراب کیے جارہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ جمعیت علمائے اسلام ایک پُرامن جماعت ہے، ہم نے ہمیشہ پُرامن سیاسی جدوجہد کا راستہ اپنایا، دھماکے میں کارکنوں کی شہادت کی خبر سن کر شدید صدمہ پہنچا ہے۔انہوں نے کہا کہ جماعتی کارکنان ہمارا قیمتی نظریاتی اثاثہ ہے۔ زخمیوں کی جلد صحت یابی کے لیے دعا گو ہوں۔ عبدالغفور حیدری نے انصارالاسلام کے رضاکاروں کو خون دینے کے لیے اسپتال پہنچنے کی ہدایت بھی کی۔جمعیت علمائے اسلام کے مرکزی رہنما حافظ حمد اللہ نے کہا ہے کہ یہ حملہ جہاد نہیں فساد اور دہشتگردی ہے، ورکرز کنونشن میں مجھے بھی شریک ہونا تھا مگر مصروفیت کے باعث نہ جا سکا، حملے کی ریاستی سطح پر انکوائری ہونی چاہیے۔واضح رہے کہ کچھ عرصہ سے خیبرپختونخوا دہشت گردوں کے نشانے پر ہے، چند روز قبل ایک دہشت گرد نے جمرود کے علاقے میں مسجد میں خود کش دھماکا کیا تھا جس کے نتیجے میں ایڈیشنل ایس ایچ او شہید ہو گئے تھے۔اِس سے پہلے خیبر کی تحصیل باڑہ میں سرکاری کمپاؤنڈ میں ہونے والے حملے میں 4 اہلکار شہید ہو گئے تھے۔

متعلقہ خبریں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button