
سیلاب کے بعد سے 8 لاکھ پاکستانیوں کو بھوک کا سامنا ہے، اقوامِ متحدہ
بلوچستان کے 12 اضلاع کے 16 لاکھ افراد کو خوراک کی سنگین بحران کاسامناہے پاکستانیوں کو بھوک کا سامنا ہے
کوئٹہ(یو این اے )اقوامِ متحدہ کی ایک رپورٹ کے مطابق سالِ گزشتہ کی آخری سہ ماہی میں پاکستان کے تین صوبوں کے ۔بلوچستان کے 12 اضلاع کے 16 لاکھ افراد شامل تھے۔گزشتہ برس کے تباہ کن سیلاب سے قبل ہی مارچ اور اپریل میں ہیٹ ویوز، کھاد کی قلت اور آبپاشی کے پانی کی قلت زیادہ تر تجزیہ کردہ اضلاع میں ربیع کی گندم کی فصل کی پیداوار کو متاثر کرتی تھی اور مویشیوں کی پیداوار میں بھی کمی آئی تھی۔زراعت کے شعبے میں ہوئے مجموعی نقصان کا تخمینہ تقریبا 13 ارب ڈالر لگایا گیا، جس میں بنیادی طور پر فصلیں (82 فیصد) اس کے بعد لائیوسٹاک (17 فیصد) شامل ہیں۔اس کے علاوہ اکتوبر-دسمبر میں ربیع گندم کی فصل کی بوائی میں مقامی علاقوں میں رکاوٹ پیدا ہوئی جو اس وقت بھی سیلابی پانی کی زد میں تھے۔واضح رہے کہ بلوچستان کے 22اضلاع میں27ہزار بچے غذائی قلت جبکہ 52ہزارشدید درجے کی غذائی قلت کے شکار ہیںایک لاکھ24ہزار نوجوان لڑکیاں غذائی قلت کے شکار ہیں دو لاکھ 17 ہزار حاملہ خواتین اور دیگر کو کم خوراکی کے نقصانات سے بچانے کے لئے آئرن فولک ایسڈ کی گولیاں فراہم کی جا رہی ہیں۔



