حنا جاوید قتل کیس: مرکزی ملزم ذیشان ارشد کے مجرمانہ ماضی سے متعلق پولیس دعوں پر سوالات اٹھ گئے، آبائی علاقے کے ریکارڈ میں کوئی سابقہ مقدمہ نہیں ملا۔
اساتذہ، دوستوں اور سابق مالکان نے ملزم کے اچھے کردار کی گواہی دی، پولیس کے دعوں اور مقامی معلومات میں تضاد سامنے آگیا، 3 ماہ گزرنے کے باوجود چالان بھی جمع نہ ہوسکا۔

راولپنڈی: حنا جاوید قتل کیس میں مرکزی ملزم قرار دیے گئے گھریلو ملازم ذیشان ارشد کے ماضی اور کردار سے متعلق پولیس کے دعوں اور اس کے آبائی علاقے سے ملنے والی معلومات میں فرق سامنے آگیا ہے۔جیو نیوز کی تحقیقات کے مطابق تھانہ میانہ گوندل، منڈی بہاالدین کے ریکارڈ میں ذیشان ارشد کے خلاف کوئی سابقہ مقدمہ یا شکایت موجود نہیں، جبکہ مقامی پولیس کا کہنا ہے کہ قتل کیس کی تحقیقاتی ٹیم نے بھی ان سے رابطہ نہیں کیا۔جیو نیوز نے ملزم کے اساتذہ، دوستوں، سابق مالکان اور علاقے کے افراد سے گفتگو کی، جنہوں نے اس کے خلاف غیر اخلاقی یا غیر قانونی سرگرمیوں کے الزامات سے لاعلمی کا اظہار کیا۔مدرسے کے استاد قاری مشتاق، دوست انس اور سابق مالکان محمد رفیق بھٹی اور محمد سلیم نے بھی ملزم کے کردار سے متعلق پولیس کے بعض دعوں پر سوالات اٹھائے۔دوسری جانب ذیشان ارشد کو ملازمت پر رکھنے والے شخص کے مطابق اسے تقریبا سات ماہ قبل مکمل چھان بین اور دستاویزات کی تصدیق کے بعد ملازمت دی گئی تھی۔پولیس کا مقف ہے کہ ملزم نے متعدد جرائم کا اعتراف کیا ہے اور فارنزک رپورٹس بھی اس کے خلاف ہیں، تاہم حنا جاوید کی اصل فارنزک رپورٹس تاحال سامنے نہیں آئیں۔اہم بات یہ ہے کہ واقعے کو تقریبا تین ماہ گزرنے کے باوجود پولیس نے چالان جمع نہیں کرایا۔ اب بنیادی سوال یہ ہے کہ ملزم کے مبینہ مجرمانہ رجحانات سے متعلق پولیس کے دعوے کن شواہد پر مبنی ہیں اور ان کی آزادانہ تصدیق کیسے ممکن ہوگی۔



