
اسلام آباد،کوئٹہ(یو این اے ) قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف،پشتونخواملی عوامی پارٹی کے چیئرمین وتحریک تحفظ آئین پاکستان کے سربراہ محمود خان اچکزئی نے پارلیمنٹ ہاوس کے باہر میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ یہ کہا جاتا ہے کہ محمود یہ نہیں کرتا، محمود وہ نہیں کرتا۔ میں نے کل اسمبلی میں کہا تھا، یہ چیئرمین بھی یہاں کھڑے ہیں، کہ شہباز شریف اپوزیشن کے دفتر آئیں، میرے ساتھ چائے پئیں اور مجھے دعوت دیں۔ جہاں مذاکرات کرنے ہیں، میں وہاں جانے کے لیے تیار ہوں۔ اپوزیشن کے دفتر میں آئیں، میرے ساتھ چائے پیئیں، مجھے دعوت دیں، جہاں مذاکرات کرنے ہیں میں چلا جاوں گا۔ یا میں وزیراعظم ہاوس جا کر انہیں دعوت دیتا ہوں کہ آئیں مذاکرات کریں۔ لیکن مذاکرات اس طرح نہیں ہوں گے جس طرح آپ نے مولانا فضل الرحمان، تحریک انصاف، اور تحریک تحفظ آئین پاکستان کے اکابرین کا مذاق اڑایا ہے۔ ان لوگوں نے تقاریر کیں، اپنے نمائندوں کے نام دیے، اور آپ نے سب کے نام کاٹ دیے۔ کیا یہ حوالداری ہے؟ یہ اختیار تمہیں کس نے دیا ہے؟ تم ہوتے کون ہو ہمارا رویہ دیکھنے والے؟ کنڈکٹ تو قواعد، آئین، اور قانون دیکھیں گے۔ یہاں ہر شخص غیر جمہوری قوتوں کا ترجمان بن جاتا ہے۔ آج تحریک انصاف پر برا وقت ہے، میں (محمود اور یہ علامہ راجہ ناصر عباس) ہمارا یہ خدا سے بھی وعدہ ہے اور آپ سب سے بھی کہ ہم اس غیر جمہوری نظام کے خلاف گلی کوچوں میں جمہوری انداز میں لڑیں گے۔ ہم کسی کو گالی نہیں دیں گے، ہم بار رومز میں جائیں گے اور وکیلوں سے بات کریں گے۔ ہر وہ پاکستانی جو اس ملک کو بچانا چاہتا ہے، جو چاہتا ہے کہ پاکستان ایک جمہوری ملک ہو، جس میں ووٹ کی عزت ہو، ایک طاقتور پارلیمنٹ ہو، اور ہر ادارہ اپنے دائرہ کار میں رہے، اس پر فرض ہے کہ اس غیر جمہوری نظام کے خلاف صف بندی کرے۔ ورنہ یہ پاکستان کو کہیں کا نہیں چھوڑیں گے، ہم انہیں پاکستان توڑنے نہیں دیں گے۔ یہ پاکستان توڑنے کا راستہ ہے کہ آپ نے چار کروڑ عوام کے وزیر اعلی اور متعدد اراکین اسمبلی کو غائب کیا ہوا ہے۔ کیا یہ تمہاری حکمرانی ہے؟ دنیا میں کہیں ایسا نہیں ہوتا۔ اگر آپ پرانے آمرانہ راستوں پر جا رہے ہیں، تو یاد رکھیں کہ یہ بربادی کا راستہ ہے۔ اس راستے پر چل کر آپ نے ملک کو دنیا بھر میں فقیر بنا دیا ہے۔ ہم اس راستے کو جمہوری انداز میں روکیں گے، کیونکہ یہ ہمارا ملک ہے۔ قائد حزب اختلاف محمود خان اچکزئی نے کہا کہ جب اسمبلیاں چلتی ہیں تو وہاں رولز اور ریگولیشنز ہوتے ہیں اور انہی رولز کے تحت لوگ تقریر کرتے ہیں۔ آئین یہ کہتا ہے اور اس میں واضح لکھا ہوا ہے کہ جو شخص یہاں تقریر کرے گا، اس کی ساری تقریر ریکارڈ ہوگی تاکہ پاکستان کے عوام سن سکیں کہ ان کے نمائندگان کیا کہتے ہیں۔ عوام ہی حتمی جج ہیں اور وہی پھر فیصلہ کرتے ہیں کہ ہمارا نمائندہ اسمبلی میں کیا کہتا تھا۔ دوسری بات یہ ہے کہ ان تقاریر میں قوموں کی تاریخ محفوظ رہتی ہے۔ کوئی سننا چاہے یا کوئی ریسرچ کرنا چاہے؛ کوئی شیخ مجیب الرحمان کی تقریر سننا چاہے تو یہاں پڑی ہے، کوئی نوابزادہ نصر اللہ خان کی تقریر سننا چاہے تو یہاں پڑی ہے، خان عبدالغفار خان کی تقریر سننی ہو جوپہلی آئین ساز اسمبلی میں تھے، تو وہ بھی یہاں پڑی ہے۔ اب یہاں ایک نیا تماشہ شروع ہوا ہے، اسی لیے میں نے اس بدبخت کو ‘حوالدار سپیکر’ کہا تھا۔ وہ کہتے ہیں کہ میں ممبران کا کنڈکٹ دیکھوں گا، Who the hell are you? (آپ ہوتے کون ہیں؟)۔ کنڈکٹ تو قوانین کی کتاب کا نام ہے۔ جو ان قوانین سے باہر نکلے گا، وہ خود کٹ جائے گا۔ کل یہاں ہمارے ساتھیوں نے جو باتیں کی ہیں، ان میں ایک لفظ بھی نہ ملک کے خلاف تھا اور نہ کسی کے خلاف۔ انہوں نے محض اپنے ساتھیوں کے حوالے سے بات کی کہ ہمارے فلاں فلاں ایم این اے صاحبان جیل میں ہیں، فلاں ایم این اے کا پروڈکشن آرڈر جاری ہوا ہے اور فلاں کا نہیں ہوا۔ لیکن ان کی یہ باتیں بھی کارروائی سے کاٹ دی جاتی ہیں۔ میں نے خود کل جو بات کی تھی، اس کا ایک لفظ بھی میں نے غلط نہیں کہا تھا۔ میں نے 10 ایم این ایز کے نام لیے تھے، اور ان میں ان ایم این ایز کے نام شامل نہیں تھے۔ میں نے دس ایم این ایز کے نام لیے تھے، ان میں ان ایم این ایز کے نام شامل نہیں تھے جن کے بارے میں مجھے نہیں بتایا گیا تھا کہ ان کے پروڈکشن آرڈرز جاری ہوئے ہیں؛ فلاں کے ہوئے ہیں، موسی خیل کے ہوئے ہیں، فلاں کے ہوئے ہیں۔ عادل بازئی کے نہیں ہوئے، فلاں دوست کے نہیں ہوئے، اور وزیرستان کے فلاں ممبر کے نہیں ہوئے۔ یہ سب میں نے نو منٹ میں بولا تھا، لیکن انہوں نے پاکستانی عوام کے لیے میری ساڑھے چار منٹ کی تقریر نشر کی۔ اس میں ایک لفظ بھی غلط نہیں تھا۔ جو سب سے تلخ بات میں نے کی تھی، وہ یہ تھی کہ فرانس میں لاکھوں لوگ نکل آئے ہیں، سینکڑوں گاڑیوں کو آگ لگا دی گئی ہے، دنیا کے ایک بہت بڑے عجوبے ایفل ٹاور کو آگ لگا دی گئی ہے، لیکن فرانس کی پولیس نے ابھی تک کسی پر گولی نہیں چلائی۔ آپ بسم اللہ پڑھ کر لوگوں کو مارتے ہیں۔ کشمیر میں اتنے لوگوں کو مارا، لبیک والوں کو مارا، اور گلگت بلتستان میں مارا۔ یہ سب اسپیکر صاحب نے اپنے اختیار سے سنسر کر دیا۔ٹھیک ہے، آپ سنسر کرتے رہیں، ہم یہاں آ کر بولتے رہیں گے، یا پھر ہم اپنا نظام ایسا بنائیں گے کہ آپ کے نہ چاہتے ہوئے بھی ہماری باتیں ریکارڈ ہوں گی۔ اس اسمبلی اور اس ملک کو بربادی کی طرف نہ دھکیلیں۔ آج فتح پشاور کا جشن منایا جا رہا تھا۔ سارے وزرا غائب، اسپیکر غائب، ڈپٹی اسپیکر بھی اتر گئے اور چیئرمین آ گئے۔ یہ کیا کر رہے ہیں؟ پہلی ایمرجنسی آپ نے 1954 میں لگائی، اس کا نتیجہ کیا ہوا؟ نتیجہ یہی ہوا تھا کہ مشرقی پاکستان کی 237 نشستوں میں سے جگتو فرنٹ کے مقابلے میں مسلم لیگ نے صرف تین جیتی تھیں (237 یا 247، مجھے درست تعداد معلوم نہیں)۔ آپ نے یہاں غلام محمد کو بٹھائے رکھا۔ غلام محمد بول نہیں سکتا تھا، وہ دس سال تک سوائے گالیاں دینے کے وہاں بیٹھا رہا، اس کی بات اس کی بیوی نہیں سمجھتی تھی، اس کی بات اس کا بھائی نہیں سمجھتا تھا۔ وہ بیچارہ گورنر جنرل کی حیثیت سے ایک امریکی خاتون، جو امریکہ اور سوئٹزرلینڈ کی ترجمان ہوتی تھی، پر انحصار کرتا تھا۔ آپ نے پاکستانی قوم نہیں بننے دی۔ ہم تو یہی کہہ رہے تھے کہ خدارا یہاں ایک آئین بنائیں، پارلیمنٹ طاقت کا سرچشمہ ہو، پاکستانی قوم خود بن جائے گی۔ آپ نے پاکستانی قوم نہیں بنائی، اور ان قوتوں کی آئین کے خلاف اتنی ضد ہے کہ آپ نے ملک توڑ دیا۔ دوسری دفعہ، میں معافی چاہتا ہوں، میں سیاسی لوگوں سے اپیل کرتا ہوں کہ بعض باتیں مجبورا کہنی پڑتی ہیں۔ دوسری دفعہ پاکستان کی تمام سیاسی پارٹیاں لندن میں جمع ہوئیں، اللہ بخشے محترمہ بے نظیر بھٹو کو، نواز شریف، 36 پارٹیاں، عمران خان بھی تھے، قاضی حسین احمد صاحب بھی تھے، ساری پارٹیاں جمع ہوئیں۔ اور یہ امید پیدا ہوئی کہ انشا اللہ اب ایک جمہوری پاکستان تشکیل پائے گا، اور سب لوگ اس پر متفق ہو گئے تھے۔ وہاں ایک پارٹی کو، میں نام نہیں لیتا، علیحدہ کیا گیا تاکہ اپنی مرضی کی سیاست کی جائے اور سیاسی لوگوں کا راستہ روکا جا سکے۔ اس مقصد کے لیے نو ہزار کرمنل کیسز واپس لیے گئے، جن میں قتل، اغوا اور دیگر سنگین مقدمات شامل تھے۔ اور یہاں یہ شریف آدمی، تحریک انصاف، یا دیگر لوگ کیا چاہتے ہیں؟ صرف یہی کہ ہمیں اپنے لیڈر سے ملنے دیا جائے۔ سیاسی لوگ اس قدر اندھے ہو چکے ہیں اور ایک دوسرے کی مخالفت میں اتنی دور چلے گئے ہیں کہ وہ اپنی غلط بات منوانے کے لیے نو ہزار مجرمانہ مقدمات واپس لیتے ہیں۔ اس کے بعد بے نظیر کا قتل ہوا، ان کے بھائیوں کا قتل ہوا، اور ابھی تک معلوم نہیں کیا ہو رہا ہے۔ آپ کیا چاہتے تھے؟ قائد حزب اختلاف محمود خان اچکزئی نے کہا کہ آپ مذاق بھی اڑاتے ہیں۔ میں کوئٹہ میں تھا، آپ نے مولانا فضل الرحمان کو شامل کیا، فضل الرحمان صاحب اور دیگر رہنما بیٹھے رہے، اور معاملہ طے ہوا۔ پھر ان کا خیال تھا کہ ہم ضد کر رہے ہیں، تاہم اس بات سے تحریکِ انصاف پیچھے ہٹ گئی۔ انہوں نے کہا کہ ٹھیک ہے، کنٹینر ہٹا دیں، ہم لانگ مارچ معطل کرتے ہیں، اسے ختم کرتے ہیں۔ یہ اتوار کا دن تھا اور پیر کو عمران خان سے ملاقات کا وعدہ کیا گیا تھا۔ لیکن آپ نے اچانک اقدام کرتے ہوئے گورنر راج کی بات کر دی۔ آپ مذاق اڑاتے ہیں، آپ اکابرین کا مذاق اڑاتے ہیں، آپ سیاسی جماعتوں کا مذاق اڑاتے ہیں۔ اب آپ پر کون بھروسہ کرے گا؟ آپ کے دو مطالبات تھے کہ یہ جو لانگ مارچ آ رہا ہے، اسے معطل کریں اور ختم کریں۔ اس کے جواب میں پارٹی کا مقف تھا کہ ہم نے اپنے لیڈر سے ملنا ہے۔ پھر انہوں نے اپنا مطالبہ واپس لیا اور اتفاق کیا کہ ٹھیک ہے، ہم ہفتے کے دن یہ کرتے ہیں اور پیر کو عمران خان سے ملیں گے۔ پیر کو مولانا صاحب وہاں گئے تو بتایا گیا کہ کابینہ کا اجلاس ہے۔ ہم اس خوش فہمی میں تھے کہ اس معاہدے کی کابینہ سے منظوری لی جائے گی، لیکن اتوار کو ہی کابینہ نے اعلان کر دیا کہ سب ختم اور گورنر راج لگا دیا جائے۔ آپ نے مشرقی پاکستان میں گورنر راج لگایا اور اسے کھو دیا۔ اب آپ نے پورے پاکستان میں تحریکِ انصاف کے خلاف کارروائیاں کیں۔ جس انداز میں آپ یہ سب کر رہے ہیں، وہ نامناسب ہے۔ میں نے ایک تجویز دی تھی کہ خواجہ آصف کی سربراہی میں ایک کمیٹی بنائی جائے، جس میں ایم آئی، آئی ایس آئی اور دیگر سول ایجنسیاں شامل ہوں۔ یہ کمیٹی تحقیقات کرے کہ موجودہ حکومت میں کتنے ارب کی کرپشن ہوئی ہے، لیکن وہ تجویز بھی غائب کر دی گئی۔ یہاں کرپشن ہو رہی ہے، خزانہ لوٹا جا رہا ہے اور آپ اسے جمہوری نظام کہتے ہیں؟ ہم کہتے ہیں کہ ایک جمہوری پاکستان میں طاقتور پارلیمنٹ ہونی چاہیے، اور جو الیکشن جیتے اسے اس کا حق دیا جائے۔ بصورتِ دیگر، ہمارا اس نظام پر بھروسہ نہیں رہے گا۔



