بلوچستانتازہ ترینپاکستان

اسما جتک ،لائبہ ستار کے مقدمات، ملزمان کی عدم گرفتاری پولیس سے جواب طلب کرلیا،اسپیکر بلوچستان

آپ ہی تحفظ نہیں دے سکتے تو ہم کیا کہیں؟ عبدالخالق اچکزئی کا پولیس حکام سے سوال

اسما جتک ،لائبہ ستار کے مقدمات، ملزمان کی عدم گرفتاری پولیس سے جواب طلب کرلیا،اسپیکر بلوچستان
اسما جتک ،لائبہ ستار کے مقدمات، ملزمان کی عدم گرفتاری پولیس سے جواب طلب کرلیا،اسپیکر بلوچستان
اسما جتک ،لائبہ ستار کے مقدمات، ملزمان کی عدم گرفتاری پولیس سے جواب طلب کرلیا،اسپیکر بلوچستان
اسما جتک ،لائبہ ستار کے مقدمات، ملزمان کی عدم گرفتاری پولیس سے جواب طلب کرلیا،اسپیکر بلوچستان
اسما جتک ،لائبہ ستار کے مقدمات، ملزمان کی عدم گرفتاری پولیس سے جواب طلب کرلیا،اسپیکر بلوچستان
اسما جتک ،لائبہ ستار کے مقدمات، ملزمان کی عدم گرفتاری پولیس سے جواب طلب کرلیا،اسپیکر بلوچستان

کوئٹہ(یو این اے ) اسپیکر بلوچستان صوبائی اسمبلی کیپٹن(ر) عبدالخالق خان اچکزئی کی زیرِ صدارت اسپیکر چیمبر میں ایک اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں اسما جتک اور ضلع قلات سے تعلق رکھنے والی لائبہ ستار کے مقدمات، متاثرہ خاندانوں کو درپیش سیکیورٹی خدشات، ملزمان کی عدم گرفتاری اور پولیس تحقیقات میں پیش رفت کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اسپیکر نے پولیس حکام کو ہدایت کی کہ دونوں مقدمات کی شفاف اور مثر تحقیقات مکمل کرکے نامزد ملزمان کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے اور متاثرہ خاندانوں کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے۔اجلاس میں رکن صوبائی اسمبلی علی مدد جتک، میر جہانزیب مینگل، میر ظفراللہ خان زہری، سیکرٹری بلوچستان صوبائی اسمبلی طاہر شاہ کاکڑ اور اسسٹنٹ انسپکٹر جنرل پولیس آصف خان نے شرکت کی۔اسپیکر بلوچستان اسمبلی نے اجلاس کے دوران بتایا کہ اسمبلی کے اجلاس میں دی گئی اپنی رولنگ کے تحت ڈی آئی جی خضدار رینج کو اسپیکر چیمبر میں طلب کیا گیا تھا، تاکہ اسما جتک اور لائبہ ستار کے مقدمات میں ہونے والی پیش رفت، پولیس تحقیقات اور متاثرہ خاندانوں کو تحفظ فراہم کرنے کے اقدامات سے متعلق وضاحت حاصل کی جا سکے۔ تاہم، ڈی آئی جی خضدار رینج کے بجائے اے آئی جی آصف خان کی شرکت پر اسپیکر نے تشویش کا اظہار کیا اور اس معاملے کو اسمبلی کے استحقاق کی خلاف ورزی کے تناظر میں دیکھا۔اسپیکر عبدالخالق اچکزئی نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ایسے حساس واقعات کا بار بار بلوچستان اسمبلی میں زیرِ بحث آنا انتہائی تشویش ناک ہے۔ پولیس عوام اور ان کے منتخب نمائندوں کی محافظ ہے اور اس کی بنیادی ذمہ داری شہریوں کی جان و مال کا تحفظ یقینی بنانا ہے۔انہوں نے پولیس حکام سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ آپ ہمارے محافظ ہیں، اگر آپ ہی ہمیں تحفظ فراہم نہیں کر سکتے تو پھر ہم اس حوالے سے کیا کہہ سکتے ہیں۔ اسپیکر نے زور دیا کہ پولیس کو اپنی ذمہ داریاں مثر انداز میں ادا کرتے ہوئے شہریوں کے تحفظ اور انصاف کی فراہمی کے لیے عملی اقدامات کرنے چاہییں۔اجلاس کے دوران اے آئی جی آصف خان نے بتایا کہ اسما جتک اور ان کے اہلِ خانہ کو سیکیورٹی فراہم کی گئی ہے۔ اس پر اسپیکر نے سوال اٹھایا کہ اگر متاثرہ خاتون کو سیکیورٹی فراہم کی جا رہی ہے تو ان کے اہلِ خانہ کو درپیش خدشات اور تحفظ کے معاملات کو کس طرح یقینی بنایا جا رہا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ متاثرہ خاندانوں کی حفاظت محض رسمی کارروائی تک محدود نہیں ہونی چاہیے، بلکہ ایسے ٹھوس اقدامات کیے جائیں جن سے ان کے تحفظ کو یقینی بنانے کے ساتھ ان کا اعتماد بھی بحال ہو۔پولیس حکام نے اجلاس کو بتایا کہ اسما جتک اور لائبہ ستار سے متعلق دونوں واقعات کی تحقیقات جاری ہیں اور مقدمات کے مختلف پہلوں کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔اسپیکر بلوچستان اسمبلی نے پولیس حکام کو ہدایت کی کہ تحقیقات شفاف، غیر جانب دارانہ اور مثر انداز میں مکمل کی جائیں، مقدمات میں نامزد ملزمان کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے اور متاثرہ خاندانوں کو مکمل سیکیورٹی فراہم کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ قانون کی عمل داری، شہریوں کے بنیادی حقوق کا تحفظ اور انصاف کی فراہمی ریاستی اداروں کی اولین ذمہ داری ہے۔اسپیکر نے مزید کہا کہ حساس مقدمات میں تاخیر اور تحقیقات میں پیش رفت نہ ہونے سے عوام میں عدم تحفظ کا احساس پیدا ہوتا ہے، اس لیے پولیس حکام کو چاہیے کہ وہ اپنی ذمہ داریاں پوری سنجیدگی سے ادا کریں اور متاثرہ خاندانوں کو انصاف کی فراہمی کے لیے ضروری اقدامات اٹھائیں۔انہوں نے اس امر پر زور دیا کہ خواتین کے تحفظ سے متعلق مقدمات کو خصوصی اہمیت دی جائے اور متاثرہ افراد اور ان کے اہلِ خانہ کو درپیش سیکیورٹی خدشات دور کرنے کے لیے مثر حکمتِ عملی اختیار کی جائے، تاکہ شہریوں کا قانون نافذ کرنے والے اداروں پر اعتماد برقرار رہے۔

متعلقہ خبریں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button