بلوچستانتازہ ترین

کوئٹہ کے بے روزگار نوجوانوں کی حق تلفی کئی دہائیوں سے جاری ہے، ایچ ڈی پی

درجہ چہارم کی آسامیاں بھی دوسرے اضلاع کے لوگوں کو دی جا رہی ہیں

تین سال میں کسی ہزارہ نوجوان کو کلرک یا درجہ چہارم کی ملازمت بھی نہیں ملی، ہزارہ ڈیموکریٹک پارٹی
تین سال میں کسی ہزارہ نوجوان کو کلرک یا درجہ چہارم کی ملازمت بھی نہیں ملی، ہزارہ ڈیموکریٹک پارٹی

کوئٹہ(یو این اے )ہزارہ ڈیموکریٹک پارٹی کے مرکزی بیان میں صوبائی محکموں میں اقربا پروری، سفارش، آسامیوں کی فروخت اور کرپشن کے دیگر تمام ذرائع کے استعمال، صوبائی اسمبلی کے سیشن کے دوران جعلی حکومتی اراکین کے درمیان ایک دوسرے پر نوکریوں کی فراہمی میں بدعنوانیاں کرنے کی خبروں پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ کوئٹہ کے قابل، محنتی، مستحق بیروز گار نوجوانوں کی حق تلفی کا سلسلہ کئی دہائیوں سے جاری ہے. 2019 کے دوران 300 کے قریب کوئٹہ کے درجہ چہارم کے ملازمین کی آسامیاں محکمہ واسا اور پبلک ہیلتھ میں ضلع زیارت، سنجاوی اور ضلع ہرنائی کے لوگ لاکر بھرتی کئے گئے جس کے خلاف اس وقت ایچ ڈی پی کے اراکین اسمبلی نے اسمبلی فلور پر شدید احتجاج کرتے ہوئے اسے کوئٹہ کے بیروز گار نوجوانوں کی حق تلفی قرار دیا تھا آج بھی وہی سلسلہ شروع ہے گذشتہ 3 سالوں سے کوئٹہ کے نوجوانوں کے ساتھ بدترین زیادتی اور انکی حق تلفی ہورہی ہے جہاں دوسرے اضلاع کے لوگ درجہ چہارم کی ملازمت کیلئے کوئٹہ کی پوسٹوں پر بھرتی کئے جارہے ہیں بیان میں کہا گیا کہ 2008 سے شروع ہونے والے تمام محکموں میں ضلع کوئٹہ کی آسامیوں کو تبادلوں کے ذریعے پر کیا جاتا رہاہے جس کا سلسلہ ابھی بھی جاری ہے اس طرح کوئٹہ کی آسامیاں پر کرکے دیگر اضلاع میں پوسٹیں خالی کرکے ان پر از سر نو بھرتی عمل میں لائی جاتی ہے بیان میں کہا گیا کہ آج مسلط اراکین اسمبلی خود فلور پر اقرار کررہا ہے کہ کس طرح کی بدعنوانیاں جاری ہے ان کا یہ عمل صوبے کے حقیقی مستحق و بیروزگار نوجوانوں کی حق تلفی اور کوئٹہ والوں کے ساتھ ظلم و جبر کی نشاندہی کرتا ہے بیان میں کہا گیا کہ اس 3 سالوں کے دوران کسی وزارت میں کلرک کی آسامی تو دور اگر درجہ چہارم پر بھی کسی ہزارہ بیروزگار نوجوان کو ملازمت نہیں دی گئی ہے جو بذات خود اقربا پروری، سفارش کی نشاندہی کرتا ہے

متعلقہ خبریں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button