تازہ تریندنیا

ڈیجیٹل خوشحالی کے فروغ کے لئے کوشاں بین الاقوامی ادارہ،

ریاض/اسلام آباد۔ ڈیجیٹل خوشحالی کے فروغ کے لئے کوشاں بین الاقوامی ادارہ، ڈیجیٹل کوآپریشن آرگنائزیشن (ڈی سی او) کے زیراہتمام دوسری جنرل اسمبلی کامیابی سے ریاض میں اختتام پذیر ہوگئی، جس کے اختتام پر وزارتی اعلامیہ میں تمام ممالک کے مابین ڈیجیٹل تقسیم ختم کرنے کے لئے اشتراک پر زور دیا گیا۔ ڈی سی او وزارتی لائحہ عمل 13 رکنی ریاستوں کی طرف سے جاری کیا گیا جس میں اس بات کی اہمیت کا اعتراف کیا گیا کہ ڈیجیٹل معیشت مساوی انداز سے ترقی کی جانب گامزن مستقبل کی تشکیل میں کردار ادا کرے گی۔ اس کے علاوہ، کامیاب طریقوں کو فروغ دینے، گہرے نتائج کے حامل اقدامات، اور بین الاقوامی مکالمہ بڑھانے پر بھی زور دیا گیاجن کی بدولت یہ تمام اقوام مساوی، پائیدار، اور جامع انداز سے ڈیجیٹل معیشت تخلیق کرنے کی اہل ہوسکیں گی۔ ڈی سی او کا دی جنرل اسمبلی پہلا اجلاس ہے جس نے ڈی سی او کی رکن ریاستوں کے وفود، ڈی سی او کے شراکتی مبصرین، اور ڈیجیٹل معیشت میں دیگر بین الاقوامی اسٹیک ہولڈرز کو عملاََاکھٹا کیا گیا۔ اس اسمبلی میں بنگلہ دیش کے وزیر مملکت برائے انفارمیشن و کمیونکیشن ٹیکنالوجی عزت مآب زنید احمد پالاک، قطر کے وزیر مواصلات و انفارمیشن ٹیکنالوجی عزت مآب محمد المانی نے بطور مہمان شرکت کی۔ ڈی سی او نے باہمی کاوشیں اور پائیدار حل کی تیاری کے لئے بین الاقوامی تعاون پر زور دیا ،جس میں خاص طور پر مختلف شعبوں میں اہم مسائل کے حل سامنے آتے ہیں ، جیسے پالیسی و ریگولیشنز، مائیکرو، اسمال اور میڈیم انٹرپرائز (ایم ایس ایم ایز) کی ڈیجیٹلائزیشن، ڈیجیٹل اسکلز و تعلیم اور ڈیجیٹل تبدیلی۔ ڈی سی او کی سیکریٹری جنرل دیماح الیحییٰ نے کہا، ”ڈیجیٹل پالیسیوں اور قواعد میں ہم آہنگی اور جدت لانے، ایم ایس ایم ایز کی معاونت، ڈیجیٹل معیشت کی بیرون ملک نوعیت کا فائدہ اٹھانے، نئی مارکیٹوں کی رسائی کے لئے حائل رکاوٹوں میں کمی لانے اور ان سے متعلق نئے مواقع تخلیق کرنے کی اشد ضرورت ہے۔” دیماح الیحییٰ نے مزید کہا، ”دنیا کی تقریبا 36 فیصد آبادی، یعنی 2.7 افراد انٹرنیٹ کی رسائی سے محروم ہیں ۔ یہ آبادی کے بڑے حصے کو الگ کرتی ہے جن کے پاس ذرائع اور صلاحیتیں ڈیجیٹل معیشت میں شامل ہیں۔ ہمیں ڈیجیٹل دور سے بھرپور مواقع اٹھانے کے لئے ضرورت کے مطابق ڈیجیٹل اسکلز سے آراستہ ہوکر اجتماعی عمل اختیار کرنے کی ضرورت ہے۔ یہ کام باضابطہ تعلیمی نظام، غیرنصابی تربیتی پروگرامز اور سول سوسائٹی کے اقدامات کے امتزاج کے ذریعے سرانجام دیا جاسکتا ہے جو مسلسل سیکھنے اور ہنر سے آراستہ ہونے کی ترغیب دیتا ہے ۔ ہمیں ڈیجیٹل اسکلز میں اضافے کے لئے لازمی سرمایہ کاری کرنی چاہیئے اور اگلی نسلوں کے لئے اسکے ثمرات حاصل کرنے ہوں گے۔”اس ایک روزہ جنرل اسمبلی میں ڈی سی او کی توسیع اور مستقبل میں اسکے مشن میں تیزی سے ہم آہنگی لانے سے متعلق متعدد اہم اعلانات شامل ہیں۔ ڈی سی او کی جانب سے دو نئی رکن ریاستیں، گیمبیا اور گھانا کا اس اسمبلی میں خیرمقدم کیا گیا ،کیونکہ افریقہ میں ڈیجیٹل معیشت کو ترقی دینے کے لئے اس عالمی تنظیم میں وسعت لانے کا عمل جاری ہے۔ ڈی سی او نے نئی تنظیم کے قوانین کی منظوری دی ،جس کے نتیجے میں ادارے کے آپریشنز میں تیزی آئے گئے اور یہ پچھلی منظورشدہ گورننس گائیڈ بک 2021 کی موثر انداز سے جگہ لیں گے۔ڈی سی او نے ایم ایس ایم ایز: دی اسٹرائیڈ ایسوسی ایشن کو بااختیار بنانے کے لئے نئے اقدام کی تشکیل کی منظوری دی۔ یہ اقدام اندرون ملک اور رکن ممالک کے مابین ایم ایس ایم ایز اور اسٹارٹ اپس کی ترقی میں قابل ذکر کردار ادا کرے گا۔ مزید برآں، یہ ایسوسی ایشن عوام اور نجی شعبوں کے درمیان سہولت کار کا کردار بھی ادا کرے گی تاکہ ضروری معلومات اور اقدامات کئے جاسکیں۔ ڈی سی او کے آپریشنز کی مہارت اور تسلسل کو یقینی بنانے کی اہمیت کا اعتراف کرتے ہوئے اسمبلی نے ایگزیکٹو کمیٹی قائم کرنے کی منظوری دی جو بحرین، نائجیریا اور عمان کے نمائندوں پر مشتمل ہوگی جبکہ سعودی عرب کا نمائندہ سال 2030 تک اس کمیٹی کا چیئرپرسن ہوگا۔ یہ کمیٹی ڈی سی او میں فیصلہ سازی کے عمل میں روانی لانے میں مدد فراہم کرے گی۔ ڈی سی او نے مبصر کمیٹی کے قیام کا بھی اعلان کیا ہے۔ مبصر پارٹنرز میں نجی شعبہ، بین الحکومتی تنظیمیں، تعلیمی ادارے اور ڈیجیٹل معیشت کے دیگر اسٹیک ہولڈرز شامل ہیں، یہ ڈی سی او کا بنیادی حصہ ہیں۔ مبصر کمیٹی کا ارادہ ہے کہ ڈی سی او کے اثرات میں مزید بہتری لائی جائے اور اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ ڈی سی او ڈائیلاگز کی قابل ذکر آواز ہو۔وزراء اور ڈیجیٹل کوآپریشن آرگنائزیشن کے حکومتی نمائندوں نے ڈیجیٹل معیشت ،بشمول نجی شعبے کے تمام دیگر اسٹیک ہولڈرز اور عالمی سطح پر ممالک کے درمیان، مقامی و علاقائی ڈیجیٹل معیشت کے تمام پہلوؤں پر تعاون میں پیش رفت کے لئے مشاورت اور باہمی مفادات کو فروغ دینے کے لئے ڈی سی او 2030 روڈ میپ کے آغاز پر اتفاق کیا۔ ڈی سی او رکن ریاستوں نے اس ادارے کے قیام کے لئے بھرپور اخلاص اور اسکے دور رس نتائج پر مبنی طریقہ کار اختیار کرنے پر سعودی عرب کی گراں قدر خدمات کا شکریہ ادا کیا۔ ڈی سی او کے چارٹر کی روشنی میں بحرین کو سال 2023 کے لئے صدارت کے لئے تعینات کرنے کا اعلان بھی کیا گیا ، اور یہ کہ وہ ادارے کی سربراہی اگلے سال تک جاری رکھے اور جنرل اسمبلی کے اگلے اجلاس کی میزبانی کرے۔ سال 2024 کے دوران اردن کیلئے ڈی سی او کی صدارت کی منظوری دی گئی۔ مزید معلومات کے حصول کے لئے اس لنک (media@dco.org) کے ذریعے رجوع کیا جاسکتا ہے۔ ڈی سی او ایک عالمی کثیر الجہتی تنظیم ہے جس کی بنیاد نومبر 2020 میں رکھی گئی ، اس کا مقصد ڈیجیٹل معیشت کی جامع ترقی کو تیز کرکے سب کے لئے ڈیجیٹل خوشحالی کو ممکن بنانا ہے۔ ڈی سی او 13 ممالک بحرین، قبرص، جبوتی، گیمبیا، گھانا، اردن، کویت، پاکستان، عمان، نائیجیریا، روانڈا، مراکش اور سعودی عرب میں مواصلات اور آئی ٹی کی وزارتوں کو اکٹھا کرتا ہے جن کی جی ڈی پی میں مجموعی نمائندگی تقریباََ 2 ٹریلین ڈالر ہے اور یہ ممالک تقریبا 600 ملین افراد کی مارکیٹ کی نمائندگی کرتے ہیں، جن میں سے 70 فیصد سے زائد آبادی 35 سال سے کم عمر ہے۔ڈی سی او نوجوانوں، خواتین اور کاروباری افراد کو بااختیار بنانے، ڈیجیٹل معیشت کی طاقت سے فائدہ اٹھانے ، معاشی ترقی کو آگے بڑھانے اور سماجی خوشحالی میں اضافے کے لئے جدت کی مدد سے بڑے اقدامات پر توجہ مرکوز کر رہا ہے۔ تعاون، مکالمے اور باہمی طور پر کارآمد قانون سازی کے ذریعے، ہم اپنے رکن ممالک کے اندر جامع اور مساوی ڈیجیٹل معیشتوں کی تیزی سے تخلیق کے لئے بہترین بنیادی ڈھانچہ اور پالیسیاں قائم کرنا چاہتے ہیں جہاں تمام لوگ، کاروبار اور معاشرے جدت اختیار کرنے کے ساتھ ترقی کر سکیں۔اپنے ممبران کے مشترکہ مفادات کے حصول کے لئے ڈی سی او حکومتوں، نجی شعبے، بین الاقوامی تنظیموں، این جی اوز اور سول سوسائٹی کے ساتھ مل کر کام کرتا ہے تاکہ زیادہ جامع ڈیجیٹل تبدیلی اور ڈیجیٹل صنعتوں کی ترقی کو ممکن بنایا جاسکے جن میں مثلاََ، ڈیجیٹل مہارت کی تربیت، ڈیٹا کے تحفظ، دانشورانہ کاپی رائٹ، ریگولیشن، ٹیکسیشن اور انٹر پرینیورشپ کے شعبے شامل ہیںـڈی سی او کے اہم اقدامات میں بیرون ملک ڈیٹا کی آمد و رفت بڑھانے، ایس ایم ایز کے لئے مارکیٹ کی توسیع کو فروغ دینے، ڈیجیٹل انٹرپرینیورز کو بااختیار بنانے اور خواتین و نوجوانوں اور دیگر سہولیات سے محروم طبقوں میں ڈیجیٹل شمولیت کو فروغ دینے کے پروگرام شامل ہیں۔ڈی سی او سے متعلق مزید معلومات انکی ویب سائٹ (www.dco.org)، ٹوئٹر پر




( https://twitter.com/dcorg ) اور لنکڈ ان پر ( https://www.linkedin.com/company/dcorg/ ) پر تلاش کی جاسکتی ہیں۔

https://www.linkedin.com/company/dcorg

Follow GoonjLive On Facebook , Twitter ,Linkedin, RSS and Youtube

متعلقہ خبریں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button