
کوئٹہ بلوچستان اسمبلی نے صوبے کے تعلیمی اداروں میں بلوچی براہوی اور پشتو زبانوں میں تعلیم کو شروع کرنے اور اساتذہ کی تعیناتی، اراکین اسمبلی کے تحافظ کو یقینی بنانے سے متعلق لیویز اہلکار کی فراہمی،پاکستان انسٹیٹیوٹ آف ریسرچ اینڈ کوالٹی انشورنس یونیورسٹی گوادر کے قیام اور قانون سازی سے متعلق قراردادیں متفقہ طور پر منظور جبکہ اراکین اسمبلی نصراللہ زیرے اور شکیلہ نوید کے توجہ دلاو نوٹسسز وزرا کی عدم موجودگی موخر کردی جبکہ صوبائی وزراء و اراکین اسمبلی کی قرارداد دوسرے روز بھی کورم کی نظر ہوگئی جسکے بعد اسمبلی اجلاس کو غیر معینہ مدت تک کیلئے ملتوی کردیا گیا جمعرات کے روز بلوچستان اسمبلی کا اجلاس قائم مقام سپیکر سردار بابر موسیٰ خیل کی زیر صدارت شروع ہوبلوچستان نیشنل پارٹی کے رکن صوبائی اسمبلی میر حمل قلمتی کی جانب سے پاکستان انسٹیٹیوٹ آف ریسرچ اینڈ رجسٹریشن آف کوالٹی انشورنس کے اعلیٰ درجہ کی یونیورسٹی گوادر میں قائم کرنے جارہی ہے یہ ایوان صوبائی حکومت سے سفارش کرتا ہے کہ وفاقی حکومت سے شروع کرے مذکورہ یونیورسٹی کے فوری قیام کو یقینی بنائیں تاکہ گوادر میں اعلیٰ درجہ کی یونیورسٹی کا قیام ممکن اور علاقے کے لوگوں کو اعلیٰ تعلیمی سہولیات میسر ہوسکے رکن صوبائی اسمبلی میر حمل کلمتی نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ گوادر میں اس یونیورسٹی کے قیام سے نہ صرف طلباء کو بہترین تعلیم کے مواقع ملے گے بلکہ اس سے ترقی کی نئی رائے کھل جائینگے اختر حسین لانگو نے قرار داد پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ گوادر پر مستقبل میں اس یونیورسٹی کے قیام سے ترقی کی نئی رائے کھلیں گی ماہی گیری سمیت دیگر شعبوں کو ترقی دی جاسکتی ہے جس پر اسپیکر نے قرار داد کو منظور کرلیا اسی طرح پشتونخوامیپ کے رکن صوبائی اسمبلی نصراللہ زیرے نے ملک نسیم احمد شاہوانی ، قادر ناہل میر یونیس عزیز زہری اختر حسین لانگو اور زبیدہ بی بی کی جانب سے مشترکہ قرارداد پیش کرتے ہوئے کہا کہ اراکین اسمبلی کے تحفظ کو یقینی بنانے کیلئے ضروری ہوکہ اُسکے لئے سیکیورٹی فراہم کی جائے حکومت نے بلوچستان کے منتخب نمائندوں اراکین اسمبلی کے تحفظ پر مامور عارضی لیویز سپاہیوں کو 11ماہ قبل اپنی ملازمتوں سے برطرف کیا گیا کیونکہ اراکین اسمبلی کو عوامی رابطوں کی بابت صوبے کے مختلف اضلاع اور حلقہ انتخاب کر دورہ کرنا ہوتا لیکن سرکاری سیکیورٹی گارڈ کی سہولیات واپس لینے کی وجہ سے انکے زندگیوں کو خطرہ لاحق ہے لہذا اراکین اسمبلی کو تحفظ کیلئے سیکیورٹی فراہم کی جائے جس پر نصراللہ زیرے نے مزید کہا کہ نہ صرف اراکین اسمبلی بلکہ عوام کو بھی تحفظ فراہم کیا جائے بلوچستان میں امن و امان کی صورتحال دن بدن خراب ہورہی ہے چمن اور پشین میں لیویز اہلکاروں کے قتل کے بعد کوئٹہ سیشن کورٹ کے سامنے فائرنگ کے واقعے سے صوبے میں امن و امان کی صورتحال کا اندازہ کیا جاسکتا ہے اسلئے حکومت منتخب اراکین اسمبلی کو تحفظ فراہم کرے جس پر ایوان نے قرار داد کو منظور کرلیا اسی طرح بلوچستان نیشنل پارٹی کے رکن صوبائی اسمبلی ثناء بلوچ نے قرارداد پیش کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان تاریخی لثانی اور ثقافتی اعتبار سے ایک امیر خطہ ہے لیکن گزشتہ 70 سالوں سے یہاں کی قومی زبانوں بلوچی براہوی اور پشتونوں کو تعلیم کا ذریعہ بنانے اُنکی ترویج سکول و کالج کی سطح پر اس زبانوں میں اساتذہ کی تعیناتیوں کو نظر انداز کیا گیا جس کے باعث ان زبانوں کی ترقی کا عمل رک گیا ہے یہ ایوان صوبائی حکومت سے سفارش کرتا ہے کہ صوبے کے تمام تعلیمی اداروں میں بلوچی براہوی پشتو فارسی زبانوں میں تعلیم کو فل فور شروع کیا جائے انکے اساتذہ کی تعیناتیوں کو یقینی بنانے کیلئے فوری طور پر اقدامات اُٹھائے جائیں ثناء بلوچ نے کہا کہ مادری زبانوں میں تعلیم سے ترقی کی رائے کھلتی ہے یہ اہمیت کا حامل قرارداد ہے اسکو منظور کیا جائے انہوں نے کہا کہ ساڑھے تین ہزار سکول ابھی تک بند ہیں سیکیورٹی کی صورتحال بھی بہتر نہیں ہے قرارداد پر پشتونخوامیپ کے رکن صوبائی اسمبلی نصراللہ زیرے عبدالقادر نائل ظہور بلیدی شکیل دہوار نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ یہ قرارداد بہت اہمیت کی حامل ہے انہوں نے کہا کہ سابق دور حکومت میں کتابیں بھی چھاپی گئی لیکن بدقسمتی سے اس پر عمل درآمد نہیں ہوا یہ اہمیت کی حامل قرارداد ہے اسے منظور کیا جائے جس پر ایوان نے قرار داد کو منظور کرلیا بلوچستان اسمبلی اجلاس میں پشتونخوامیپ کے رکن صوبائی اسمبلی نصراللہ زیرے نے تحریک التواء کا نوٹس دیتے ہوئے کہا کہ محکمہ ذراعت کی توجہ ایک اہم مسئلہ کی جانب مبزول کرواتے ہوئے کہا کہ گزشتہ 3سالوں سے زرعی یونیورسٹی کوئٹہ میں نئے طلبہ و طالبات کے داخلے اب تک کیوں نہیں ہورہے ہیں اس بابت تفصیل فراہم کی جائے صوبائی وزیر زراعت کی عدم موجودگی کے سبب تحریک التواء کو اگلے اجلاس کیلئے موخر کردیا بلوچستان نیشنل پارٹی کے خاتون رکن صوبائی اسمبلی شکیلہ نوید قاضی نے تحریک التواء کا نوٹس دیتے ہوئے کہا کہ مالی سال 2021-2022-23کے دوران معزور افراد کیلئے کل کتنی موٹر سائیکلیں خریدی گئی ان پر اُٹھنے والے اخراجات کی مکمل تفصیل اور جن معزور افراد میں یہ موٹرسائیکلیں تقسیم کی گئی ہے ان کے نام ولدیت جائے سکونت اور معذوری کے سرٹیفکیٹ کی مکمل تفصیل دی جائے جس پر سپیکر نے متعلقہ وزیر کی عدم موجودگی پر اس سے بھی موخر کردیا بلوچستان اسمبلی اجلاس میں میر ضابط ریکی کی عدم موجودگی پر اُنکے سوالات نمٹا دئیے گئے نصراللہ زیرے اور میر عارف جان محمد حسنی کے سوالات اگلے اجلاس کیلئے موخر کردئیے گے بلوچستان اسمبلی اجلاس میں گزشتہ اجلاس کے دوران عاصمہ جہانگیر کانفرنس کے دوران ملکی اداروں کی ساکھ کو بری طرح متاثر کیا اس حوالے سے حکومتی رکن ظہور بلیدی نے اظہار خیال شروع کیا تو بی این پی کے رکن احمد نواز نے کورم کی نشاندہی کی جس پر کورم کیلئے گھنٹیاں بجائی گئی اسپیکر نے اسمبلی کا اجلاس غیر معینہ مدت تک کیلئے ملتوی کردیا ۔



