برطانوی سائنسدان کا انوکھا تجربہ، 60 ہزار کھٹملوں کے ساتھ رہتے اور سوتے ہیں
ڈاکٹر رچرڈ نیلور کھٹملوں کو اپنا خون پلا کر نئی ادویات اور اسپریز کی افادیت جانچتے ہیں

برطانیہ سے تعلق رکھنے والے ماہرِ حیاتیات ڈاکٹر رچرڈ نیلور نے سائنس اور تحقیق کے لیے ایسا انوکھا طریقہ اختیار کر رکھا ہے جس کا تصور بھی بیشتر افراد کو خوفزدہ کر سکتا ہے۔ وہ اپنے گھر میں تقریبا 60 ہزار کھٹمل پالتے ہیں اور ان کے ساتھ سو کر مختلف مصنوعات کی آزمائش کرتے ہیں۔گلوسٹر شائر کے علاقے فارسٹ آف ڈین میں رہنے والے ڈاکٹر رچرڈ ہر ہفتے دو مرتبہ کچھ کھٹملوں کو ایک پٹی کے ذریعے اپنے بازوں سے لگاتے ہیں تاکہ وہ ان کا خون چوس سکیں۔ نئی ادویات اور اسپریز کی جانچ کے لیے وہ رات کو بھی ان کیڑوں کے ساتھ سوتے ہیں، جس مقصد کے لیے انہوں نے اپنے باغ میں دو خصوصی کمرے اور ایک لیبارٹری قائم کر رکھی ہے۔ڈاکٹر رچرڈ کے مطابق کھٹمل انہیں لاکھوں مرتبہ کاٹ چکے ہیں، تاہم ایک دہائی سے زائد عرصے تک مسلسل ان کے ساتھ کام کرنے کے باعث اب انہیں کاٹنے کا خاص احساس نہیں ہوتا۔ البتہ بعض اوقات خون کی کمی کی علامات ظاہر ہونے لگتی ہیں۔وہ 2001 سے کھٹملوں پر تحقیق کر رہے ہیں اور اپنی اہلیہ کے ساتھ مل کر غیر منافع بخش ادارہ بیڈ بگ فانڈیشن چلا رہے ہیں۔ ان کی اہلیہ بھی اس کام میں ان کا ساتھ دیتی ہیں۔ڈاکٹر رچرڈ کا کہنا ہے کہ کھٹمل انسانی سانس میں موجود کاربن ڈائی آکسائیڈ اور جسمانی حرارت سے متحرک ہوتے ہیں۔ اگر بستر پر انسان موجود نہ ہو تو یہ کیڑے غیر متحرک ہو جاتے ہیں، اسی لیے نئی مصنوعات کی حقیقی افادیت جانچنے کے لیے انہیں خود کھٹملوں کے ساتھ سونا پڑتا ہے۔انہوں نے بتایا کہ جب وہ لوگوں کو اپنے اس منفرد کام کے بارے میں بتاتے ہیں تو اکثر افراد بے اختیار کھجانا شروع کر دیتے ہیں اور بعض خوفزدہ بھی ہو جاتے ہیں۔



