
کوئٹہ،اسلام آباد (یو این اے) جمعیت علمائے اسلام بلوچستان کے صوبائی امیر سینیٹر مولانا عبدالواسع اور صوبائی سیکرٹری جنرل و سابق رکن قومی اسمبلی آغا محمود شاہ نے وزیراعلی بلوچستان اور وفاقی وزرا کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ دہشت گردی کا نام استعمال کرکے اپنی ناکامیوں پر پردہ ڈالنے کے بجائے عوام کو امن و سکون فراہم کرنے پر توجہ دی جائے۔ بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں دہشت گردی اور بدامنی کے حوالے سے قائد جمعیت مولانا فضل الرحمن کا مقف زمینی حقائق پر مبنی ہے۔جے یو آئی بلوچستان کے شعبہ اطلاعات کی جانب سے 17 اکتوبر 2026 کو جاری کردہ بیان میں مولانا عبدالواسع اور آغا محمود شاہ نے کہا کہ مولانا فضل الرحمن نے پاکستان میں اقتدار اور مختلف سطحوں پر مناصب کی پیشکشوں کو مسترد کرکے حقیقی اپوزیشن کا کردار ادا کیا ہے۔ انہوں نے ہمیشہ ملکی سالمیت، جمہوریت، آئین کی بالادستی اور عوامی حقوق کے لیے آواز بلند کی ہے۔رہنماں کا کہنا تھا کہ حکمران اقتدار میں رہتے ہوئے مولانا فضل الرحمن کے مقف کی مخالفت کرتے ہیں، لیکن اقتدار سے محرومی کے بعد انہی حقائق کا اعتراف کرنے لگتے ہیں۔ ان کے مطابق بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں دہشت گردی اور بدامنی کی صورتحال کے حوالے سے مولانا فضل الرحمن کے مقف کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں امن و امان کی صورتحال کسی سے پوشیدہ نہیں اور صوبائی دارالحکومت کوئٹہ سمیت مختلف علاقوں میں عوام عدم تحفظ کا شکار ہیں۔ حکومت کی بنیادی ذمہ داری شہریوں کی جان و مال کا تحفظ یقینی بنانا ہے، لہذا تنقید کا جواب دینے کے بجائے امن کے قیام کے لیے مثر اور عملی اقدامات کیے جائیں۔جے یو آئی رہنماں نے مزید کہا کہ جماعت کی سیاسی جدوجہد منفی پروپیگنڈے سے متاثر نہیں ہوسکتی۔ پنجاب سمیت ملک کے مختلف حصوں میں جماعت کے کامیاب عوامی اجتماعات کے بعد سوشل میڈیا پر منفی مہم شروع کردی جاتی ہے، جس میں بعض سیاست دانوں، یوٹیوبرز اور صحافیوں کے ذریعے جماعت اور اس کی قیادت کو نشانہ بنایا جاتا ہے۔بیان میں کہا گیا کہ مولانا فضل الرحمن ایسی مہمات سے بے نیاز ہوکر پاکستان کی سالمیت، استحکام، آئینی بالادستی اور عوامی حقوق کے لیے اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے۔



