
کوئٹہ (یو این اے)بلوچستان حکومت کے مالی سال 2024-25 کے اخراجات سے متعلق آڈٹ رپورٹ صوبائی اسمبلی میں پیش کردی گئی، جس میں 37 ارب روپے سے زائد کی مالی بے ضابطگیوں، اضافی ادائیگیوں، مشکوک اخراجات اور سرکاری خزانے کو ہونے والے نقصانات کی نشاندہی کی گئی ہے۔آڈٹ رپورٹ کے مطابق صوبے میں 11 ارب 88 کروڑ 36 لاکھ روپے کے بے قاعدہ اخراجات کیے گئے، جبکہ ایک ارب 48 کروڑ 92 لاکھ روپے کی اضافی ادائیگیوں کی نشاندہی بھی کی گئی۔ رپورٹ میں مجموعی طور پر 21 ارب 48 کروڑ 92 لاکھ روپے کی وصولیوں کی نشاندہی کی گئی ہے۔رپورٹ کے مطابق مالی سال 2024-25 کے دوران 5 کروڑ 52 لاکھ روپے کے مشکوک اخراجات سامنے آئے، جبکہ حکومت کو ہونے والے 39 کروڑ 11 لاکھ روپے کے نقصانات بھی آڈٹ رپورٹ کا حصہ ہیں۔آڈٹ رپورٹ میں صوبائی پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام میں فنڈز کی تقسیم کے حوالے سے بھی متعدد بے ضابطگیوں کی نشاندہی کی گئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق مالی سال 2024-25 کے دوران 198 ترقیاتی اسکیمیں ترک کردی گئیں یا نامکمل چھوڑ دی گئیں، جن کی مجموعی لاگت 17 ارب 2 کروڑ روپے تھی۔بلوچستان اسمبلی میں پیش کی گئی آڈٹ رپورٹ پبلک اکانٹس کمیٹی کے سپرد کردی گئی ہے، جو رپورٹ میں درج آڈٹ اعتراضات اور مالی بے ضابطگیوں کی تحقیقات کرے گی۔



