
کوئٹہ (یو این اے)پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی نے ریٹائرڈ پولیس سرجن ڈاکٹر عائشہ فیض کی گرفتاری اور یونیورسٹی کی خاتون استاد تاترا اچکزئی کے وارنٹِ گرفتاری جاری کیے جانے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے اسے آزادی اظہار، جمہوری اقدار اور بنیادی انسانی و آئینی حقوق پر حملہ قرار دیا ہے۔پارٹی کے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ حکومت اور حکومتی شخصیات پر تنقید، عوامی مسائل کی نشاندہی اور اپنے مقف کے اظہار کی پاداش میں کسی شہری کو گرفتار کرنا یا اس کے خلاف مقدمات قائم کرنا انتہائی تشویشناک طرزِ عمل ہے۔ جمہوری معاشرے میں اختلافِ رائے کو طاقت، دبا، گرفتاریوں اور مقدمات کے ذریعے ختم نہیں کیا جاسکتا۔پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی نے کہا کہ ڈاکٹر عائشہ فیض کی پریس کانفرنس کے بعد ان کی گرفتاری سے یہ تاثر پیدا ہوتا ہے کہ حکومت اختلافی آوازوں کو خاموش کرنے کی کوشش کررہی ہے۔ پارٹی کے مطابق ڈاکٹر عائشہ فیض نے مستونگ، کھڈکوچہ اور دیگر علاقوں میں پھل دار درختوں کی کٹائی کی مخالفت کرتے ہوئے اسے عوام کے معاشی، زرعی اور ماحولیاتی حقوق کے لیے نقصان دہ قرار دیا تھا۔بیان میں کہا گیا کہ اس معاملے پر ڈاکٹر عائشہ فیض کے خلاف انسدادِ دہشتگردی جیسے سخت قانون کے تحت کارروائی مزید تشویشناک ہے۔ سیاسی، سماجی یا حکومتی معاملات پر اظہارِ رائے کو دہشتگردی کے قوانین سے جوڑنا قانون اور انصاف کے بنیادی تقاضوں کے منافی ہے۔پارٹی نے یونیورسٹی کی خاتون استاد تاترا اچکزئی کے وارنٹِ گرفتاری جاری کیے جانے کی بھی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ اساتذہ اور اہلِ علم کو خوفزدہ یا دبا کا شکار بنانا کسی مہذب اور جمہوری معاشرے کے لیے باعثِ تشویش ہے۔ تعلیمی ادارے علمی و فکری آزادی کے مراکز ہوتے ہیں جہاں اختلافِ رائے اور تنقید کو برداشت اور احترام کے ساتھ سنا جانا چاہیے۔پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی نے کہا کہ بلوچستان پہلے ہی سیاسی، سماجی اور معاشی مسائل سے دوچار ہے۔ ایسے حالات میں حکومت کو عوامی مسائل کے حل، امن و امان کی بحالی، تعلیم، صحت اور روزگار پر توجہ دینی چاہیے، نہ کہ اختلافی آوازوں کو دبانے اور سیاسی و سماجی کارکنوں، اساتذہ اور دیگر شہریوں کے خلاف مقدمات و گرفتاریوں کا سلسلہ شروع کیا جائے۔پارٹی نے مطالبہ کیا کہ ڈاکٹر عائشہ فیض کو فوری طور پر رہا کیا جائے، ان کے خلاف قائم مقدمہ ختم کیا جائے اور تاترا اچکزئی کے وارنٹِ گرفتاری واپس لیے جائیں۔ حکومت کو اختلافِ رائے کو جرم بنانے کے بجائے آئین، قانون اور جمہوری اصولوں کے مطابق تمام شہریوں کے بنیادی حقوق کا تحفظ یقینی بنانا چاہیے۔پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی نے واضح کیا کہ آزادی اظہار، آزادی صحافت، سیاسی اختلاف اور پرامن طور پر اپنے خیالات کا اظہار ہر شہری کا بنیادی جمہوری حق ہے۔ پارٹی کے مطابق ان حقوق کو طاقت اور ریاستی اختیارات کے ذریعے دبانے کی کسی بھی کوشش کی بھرپور مذمت اور مزاحمت کی جائے گی۔



