
کوئٹہ (پ ر) پشتونخواملی عوامی پارٹی کے صوبائی سیکرٹریٹ نے بلوچستان میں آٹے کی قیمتوں میں ہوشربا اضافے، مختلف اضلاع میں آٹے کی قلت اور عوام کو درپیش شدید مشکلات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے موجودہ حکومت کو صوبے میں معاشی اور غذائی بحران کا ذمہ دار قرار دیا ہے۔جاری پریس ریلیز میں کہا گیا ہے کہ مہنگائی، غذائی عدم تحفظ اور زرعی شعبے کے بحران کے اثرات مزید سنگین ہوسکتے ہیں۔ وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی ذمہ داری ہے کہ آٹے اور گندم کے بحران کے خاتمے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر عملی اقدامات کریں، عوام کو سستا آٹا اور کسانوں کو گندم کی مناسب و منافع بخش قیمت فراہم کی جائے۔بیان میں کہا گیا کہ بلوچستان کے کسان پہلے ہی مہنگی کھاد، بیج، زرعی ادویات، ڈیزل، بجلی، پانی اور دیگر زرعی ضروریات کے بڑھتے اخراجات کا بوجھ برداشت کررہے ہیں، جبکہ کھاد کی قلت اور پابندیوں کے باعث انہیں بلیک میں مہنگی کھاد خریدنے پر مجبور ہونا پڑ رہا ہے۔پشتونخوامیپ نے کہا کہ گندم کی پیداوار پر لاگت مسلسل بڑھ رہی ہے، تاہم اگر مقامی کسان کو اپنی فصل کی مناسب قیمت نہ ملی تو اس کے منفی اثرات صوبے کی زرعی معیشت اور آئندہ گندم کی پیداوار پر بھی پڑیں گے۔بیان کے مطابق صوبے میں امن و امان کی خراب صورتحال کے باعث اہم شاہراہیں اور رابطہ سڑکیں بار بار بند ہونے سے گندم، آٹے اور دیگر اشیائے ضروریہ کی ترسیل متاثر ہورہی ہے۔ ٹرانسپورٹ کے اضافی اخراجات اور رسد کے نظام میں رکاوٹوں کا بوجھ بالآخر غریب صارفین کو برداشت کرنا پڑ رہا ہے۔پشتونخوامیپ نے کہا کہ کوئٹہ سمیت صوبے کے مختلف اضلاع میں غریب عوام مہنگے داموں آٹا خریدنے پر مجبور ہیں، جبکہ دوسری جانب بلوچستان کے کسان اور زمیندار اپنی گندم کی فصل کی مناسب قیمت نہ ملنے کے باعث مالی مشکلات سے دوچار ہیں۔بیان میں وفاقی حکومت کی جانب سے گندم درآمد کرنے کے اقدامات پر بھی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا گیا کہ جب بلوچستان سمیت ملک بھر کے کسان اپنی گندم مارکیٹ میں لانے کے لیے تیار ہیں تو ایسے وقت میں درآمدی گندم کی اجازت دینا مقامی کاشتکاروں کے مفادات کو نقصان پہنچانے کے مترادف ہوگا۔پشتونخوامیپ نے مطالبہ کیا کہ آٹے کے بحران کا فوری خاتمہ کرکے کوئٹہ سمیت تمام اضلاع میں آٹے کی وافر اور سستے داموں دستیابی یقینی بنائی جائے۔ آٹے کی قیمتوں میں غیر ضروری اضافے، ذخیرہ اندوزی اور ناجائز منافع خوری کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔بیان میں مزید کہا گیا کہ کسانوں اور زمینداروں کو بجلی، پانی، کھاد، بیج، زرعی ادویات اور دیگر بنیادی سہولیات فراہم کی جائیں، جبکہ کھاد پر عائد پابندیوں سمیت زرعی شعبے کی راہ میں حائل تمام رکاوٹیں فوری دور کی جائیں۔



