بلوچستانتازہ ترینپاکستان

ہزارہ ٹاون گرلز ہائی اسکول کی منتقلی، طلبہ تنظیم کا شدید احتجاج

موجودہ اسکول سیٹ اپ ختم کرنے کا فیصلہ واپس لیا جائے، ہزارہ اسٹوڈنٹس فیڈریشن

ہزارہ ٹاون گرلز ہائی اسکول کی منتقلی، طلبہ تنظیم کا شدید احتجاج
ہزارہ ٹاون گرلز ہائی اسکول کی منتقلی، طلبہ تنظیم کا شدید احتجاج

کوئٹہ (یو این اے) ہزارہ اسٹوڈنٹس فیڈریشن نے محکمہ تعلیم بلوچستان کی جانب سے گورنمنٹ گرلز ہائی اسکول ہزارہ ٹان کو موجودہ عمارت سے نکال کر گورنمنٹ گرلز ہائی اسکول شہید بینظیر بھٹو کی عمارت میں منتقل کرنے اور موجودہ اسکول سیٹ اپ ختم کرنے کی اطلاعات پر شدید تشویش اور سخت احتجاج کا اظہار کیا ہے۔فیڈریشن کے مرکزی بیان میں کہا گیا ہے کہ گرلز ہائی اسکول ہزارہ ٹان علاقے کی طالبات کے لیے واحد ہائی اسکول ہے، اس لیے اس کے موجودہ سیٹ اپ کو ختم یا منتقل کرنا طالبات کے تعلیمی حق کو متاثر کرنے کے ساتھ علاقے میں تعلیمی سہولیات کو مزید کمزور کرنے کے مترادف ہوگا۔بیان میں کہا گیا ہے کہ ایک اسکول کی ضرورت پوری کرنے کے لیے دوسرے قائم شدہ اسکول کو ختم کرنا کسی صورت قابل قبول نہیں۔ ہزارہ ٹان میں طالبات کی بڑھتی ہوئی تعداد کے پیش نظر مزید اساتذہ، کلاس رومز، فرنیچر اور بنیادی سہولیات فراہم کرنے کی ضرورت ہے۔ہزارہ اسٹوڈنٹس فیڈریشن نے سیکرٹری تعلیم بلوچستان اور محکمہ تعلیم کے اعلی حکام سے مطالبہ کیا کہ گورنمنٹ گرلز ہائی اسکول ہزارہ ٹان کا موجودہ سیٹ اپ ختم یا منتقل کرنے کا فیصلہ فوری واپس لیا جائے، جبکہ گورنمنٹ گرلز ہائی اسکول شہید بینظیر بھٹو کو الگ عمارت، اسٹاف اور مکمل ضروری سہولیات کے ساتھ مستقل طور پر فعال کیا جائے۔فیڈریشن نے واضح کیا کہ دونوں اسکولوں کو الگ الگ تعلیمی اداروں کے طور پر چلایا جائے اور ہزارہ ٹان کے موجودہ تعلیمی اداروں کو ختم کرنے کے بجائے ان میں مزید سہولیات فراہم کی جائیں۔بیان میں خبردار کیا گیا کہ اگر فیصلے پر نظرثانی نہ کی گئی تو ہزارہ اسٹوڈنٹس فیڈریشن طلبہ، والدین، اساتذہ اور سول سوسائٹی کے ساتھ مل کر بھرپور احتجاجی اور قانونی راستہ اختیار کرے گی۔فیڈریشن نے کہا کہ تعلیمی ادارے بنائے جاتے ہیں، ختم نہیں کیے جاتے، حکومت فوری طور پر اس اقدام کو روکے اور ہزارہ ٹان کی طالبات کے تعلیمی حق کا تحفظ یقینی بنائے۔

متعلقہ خبریں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button