
کوئٹہ بلوچستان نیشنل پارٹی کے مرکزی سیکرٹری جنرل واجہ جہانزیب بلوچ، ڈپٹی سیکرٹری جنرل وصوبائی پارلیمانی لیڈر ملک نصیراحمد شاہوانی اور پارٹی کے سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کے ممبر غلام نبی مری نے اپنے ایک مشترکہ بیان میں وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی جانب سے بلوچ لاپتہ افراد کوبازیاب کرانے کی بجائے سی ٹی ڈی کے ذریعے ان کی ماورئے آئین وقانون قتل اور مزید جبری گمشدگیوں کو تشویشناک قراردیتے ہوئے کہاہے کہ پنجاب کے مختلف تعلیمی اداروں میں زیر تعلیم بلوچ طلباء کو ہراساں کرکے ذہنی کیفیت سے دوچار کرتے وہئے ان پرتعلیمی دروازے بند کئے جارہے ہیں،گزشتہ کئی مہینوں سے بلوچستان کے سیلاب میں پانی میں ڈوبے ہوئے اکثریتی علاقوں کی بے یار ومددگار اور کھلے آسمان تلے زندگی گزارنے والی عوام نان شبینہ کے محتاج ہوگئے ہیں جبکہ زرعی شعبے سے تعلق رکھنے والے زمینداران کے سیلاب سے ہونے اربوں روپے کے نقصانات کاازالہ تاحال نہیں ہوسکاہے اسی طرح بارڈرز کی بندش کی وجہ سے مقامی بلوچوں کی معاشی استحصال پر مبنی پالیسیاں حکمرانوں کی غیر سنجیدگی اور بے حسی اس عمل کی عکاسی کرتاہے کہ حکمرانوں کو بلوچستان کی عوام کی مشکلات اور دیگر گھمبیر سیاسی ،سماجی ،معاشی بحرانوں سے نکالنے سے کوئی سروکار نہیں بلکہ ان کی نظریں بلوچستان کے ساحل وسائل پر مرکوز ہے ،انہوں نے کہاکہ بی این پی بلوچ قوم اور بلوچستانی عوم کی نمائندہ قومی جماعت اورجمہوری جدوجہد پر یقین رکھتی ہے ،اس سوچ کومدنظررکھتے ہوئے پارٹی نے موجودہ وفاقی حکومت میں شمولیت اختیار کی تاکہ وہ بلوچ لاپتہ افراد کی بازیابی اور دیگر مسائل پر سنجیدگی کامظاہرہ کرتے ہوئے ماضی کے حکمرانوں کی بلوچستان کونظرانداز کرنے والی پالیسیاں نہیں دوہرائیںگے لیکن بدقسمتی وفاقی حکومت کو قائم ہوئے 7ماہ مکمل ہونے کو ہیں مگربلوچستان کے گھمبیر مسئلے لاپتہ افراد اورانسانی حقوق کی پامالیوں کا یہ عالم ہے کہ ان مسائل میں کمی کی بجائے اضافہ ہورہاہے ، بلوچ لاپتہ افراد کو بازیاب کرانے کی بجائے صوبے کے دوردراز اضلاع میں سی ٹی ڈی کے نام پر جعلی مقابلوں اور آپریشنز میں شہید کیاجارہاہے ۔انہوں نے کہاکہ جولائی کے وسط میں زیارت واقعہ میں جعلی مقابلے میں جن افراد کو مقابلے کانام دیکر قتل وغارت گیری کانشانہ بنایاگیا وہ پہلے ہی سے قانون نافذ کرنے والے اداروں کے زیر حراست تھے اس عمل کو دیکھتے ہوئے لاپتہ افراد کے لواحقین نے ریڈ زون کوئٹہ میں ڈیڑھ ماہ تک دھرنا دیا ان کایہ مطالبہ تھاکہ ان کے پیاروں کو جعلی مقابلوں میںشہید نہیں کیاجائے گالیکن لاپتہ افراد کی بازیابی کیلئے وفاق کی جانب سے جو پارلیمانی کمیٹی بنائی گئی انہوں نے کوئٹہ آکر لواحقین سے مذاکرات کئے اور یقین دہانی کرائی کہ آئندہ ایسے واقعات پیش نہیں آئیںگی اس مطالبے پر عمل درآمد کی یقین دہانی پرلاپتہ افراد کے لواحقین نے دھرنا ختم کرنے کااعلان کیا تھا لیکن لواحقین نے جو لسٹ پارلیمانی کمیٹی کے حوالے کی تھی گزشتہ دنوں خاران میں سی ٹی ڈی کے آپریشن کے نتیجے میں لاپتہ شاعر وسیم تابش ان افراد میں شامل تھا جو خاران میں شہیدکیاگیا ۔انہوں نے کہاکہ گزشتہ روز قومی اسمبلی میں پارٹی کے قائد سرداراخترجان مینگل نے بلوچستان کی موجودہ سیاسی بحرانی صورتحال اور انسانی حقوق کی پامالیوں پر تاریخی خطاب کیا وہ حقائق پر مبنی اور بلوچستان میں گزشتہ 70سالہ ناانصافیوں کا تسلسل ہے لاپتہ افراد کے علاوہ صوبے کے پسماندہ وغریب طلباء جب ملک کے دیگر صوبوں کے تعلیمی اداروں میں تعلیم حاصل کرتے ہیں تو وہاں بھی انہیں مختلف حیلے بہانوں سے ٹارچر اورہراساں کرکے تعلیم سے دور کرنے کی کوشش کی جارہی ہے بلوچستان پہلے سے ہی تعلیمی اور دیگر حوالے سے پسماندگی کاشکار ہے



