
کوئٹہ (یو این اے) مسلم لیگ (ن) کے رکن بلوچستان اسمبلی سردار عبدالرحمن کھیتران نے ایک انٹرویو میں صوبے میں سرکاری ملازمتوں کی مبینہ فروخت اور ترقیاتی منصوبوں کے ٹھیکوں میں بے ضابطگیوں سے متعلق اہم انکشافات کرتے ہوئے حکومت بلوچستان کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔سردار عبدالرحمن کھیتران نے کہا کہ حکومت ڈھائی سال بعد خوابِ خرگوش سے جاگی ہے اور اب سرکاری ملازمتیں فروخت نہ کرنے کے حوالے سے افسران سے حلف لے رہی ہے، حالانکہ ان کے بقول تمام صوبائی محکموں میں نوکریاں فروخت ہوئی ہیں۔انہوں نے کہا کہ اگر وزیراعلی ایماندار ہوں تو کسی سیکرٹری کی مجال نہیں کہ وہ کوئی غلط کام کرسکے۔ افسران سے حلف لینے کی کیا ضرورت ہے، وزیراعلی بلوچستان خود حلف لیں کہ صوبے میں کرپشن ہورہی ہے یا نہیں۔رکھنی بیکڑ روڈ منصوبے سے متعلق بات کرتے ہوئے انہوں نے الزام عائد کیا کہ ایف ڈبلیو او کے افسران بلوچستان میں ترقیاتی منصوبوں پر کام کے دوران شہید ہوئے، جبکہ رکھنی بیکڑ روڈ کا منصوبہ ایف ڈبلیو او سے واپس لے کر احمد خان اور آغا شکیل درانی کو چار گنا اضافے کے ساتھ دے دیا گیا۔ انہوں نے دعوی کیا کہ اس حوالے سے ان کے پاس ثبوت بھی موجود ہیں۔پیپلز ٹرین منصوبے پر تنقید کرتے ہوئے سردار عبدالرحمن کھیتران نے کہا کہ پیپلز ٹرین چلانے سے بھٹو زندہ نہیں ہوگا۔



