بلوچستانتازہ ترینپاکستان

جامعہ بلوچستان کسی فرد یا پارٹی کا نہیں بلکہ صوبے کے عوام کا اثاثہ ہیں

بلوچستان یونیورسٹی ایڈمنسٹریٹو آفیسر زایسوسی ایشن ، کا ایک ہنگامی اجلاس زیرصدارت چیئر مین نذیر احمد لہڑی منعقد ہوا۔ اجلاس میں جنرل سیکریٹری نعمت اللہ کاکڑ، ، وائس چیئر مین ، محبوب شاہ ، جوائنٹ سیکریٹری، سید شاہ بابر فنانس سیکریٹری محمد اسماعیل پرکانی ایگزیکٹو ممبرز محمد اسحاق پرکانی، محمد اکبر کاکڑ ، ارباب طاہر کاسی، شمس اللہ علیزئی اور محمد عالم خروٹی نے شرکت کی ۔ اجلاس میں اس امر پر غم و غصہ کا اظہار کیا گیا کہ جامعہ بلوچستان کے وائس چانسلر ، مسائل کو حل کرنے میں بالکل غیر سنجیدہ ہیں ۔ آفیسرز ایسوسی ایشن کو مسائل حل کرنے کی بار بار یقین دہانی کے باوجود انتظامیہ ٹال مٹول سے کام لے رہی ہیں۔ خصوصا جامعہ بلوچستان کے 86 واں سینیٹ اجلاس کے ایجنڈا نمبر 12 کے منٹس کو معزز ممبران کے فیصلے کے بر خلاف اپنے من پسند اضافی پوائنٹس کے ساتھ چانسلرو چیرمین سینیٹ جامعہ بلوچستان، کو ارسال کر کے ثابت کر دیا کہ وہ جامعہ بلوچستان کے آفیسران و ملازمین کے ساتھ کس قد ر بغض و عناد رکھتے ہیں۔ وائس چانسلر کے متعصابانہ رویے و کاروائیوں کو آفیسرز ایسوسی ایشن کسی صورت برداشت نہیں کریگی۔ اور ہر میدان و فورم پر شدید مزاحمت کرکے آفیسرز و ملازمین کے حقوق و مفادات کا تحفظ کریگی۔ ایڈ منسٹریٹو آفیسرز ایسوسی ، یونیورسٹی آف بلوچستان، اس بات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ نام نہاد صادق امین وائس چانسلرنے عرصہ ڈھائی سال کے دوران تنخواہوں و الاونسز کی مد میں آٹھ ملین روپے سے سے زیادہ غیر قانونی طور پر حاصل کرچکے ہیں۔ ان کے اس غیر قانونی اضافی رقم کے حصول پر آڈٹ پیرا بھی لگ چکا ہے اس کے باوجود موصوف مذکورہ غیر قانونی اضافی تنخواہ و مراعات لیتے جا رہے ہے۔ چاہیے تو یہ تھا کہ اپنے تنخواہوں پر آڈٹ پیرا لگنے کی وجہ سے حاصل کردہ اضافی رقم یونیورسٹی آف بلوچستان کو واپس کر دیتے مگر ڈھٹائی کا مظاہر ہ کرتے ہوئے مسلسل غیر قانونی اضافی رقم وصول کرتے جا رہے ہیں۔ اس کے بر خلاف یونیورسٹی آفیسرز و ملازمین کے پروموشن پر لگنے والے آڈٹ پیرا کو سیٹل کرنے کی بجائے ایشو بنا کر عرصہ پانچ سال سے پروموشن کمیٹی کی مینٹگ نہیں بلایا جا رہا ہے۔ اجلاس میں طے کیا گیا کہ وائس چانسلر کے غیر قانونی اضافی تنخواہ و مراعات آڈٹ پیرا لگنے کے باوجود حاصل کرنے کے معاملے و دیگر غیر قانونی اقدامات جس میں عدالت عالیہ و عدالت عظمی کے فیصلوں کے بر خلاف اپنے من پسند ریٹائرڈ آفیسران کو کنٹریکٹ کی بنیاد پر تمام مراعات کے ساتھ تعنیاتی میں تواتر کے توسیع کرتے جا رہے ہیں۔جامعہ بلوچستان میں ہونے والے غیر قانونی اقدامات کے تدارک کے لئے عنقریب جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے پلیٹ فارم سے ایک مشترکہ پریس کانفرنس میں ساری صورت حال پرنٹ و الیکٹرانک میڈیا کے سامنے تمام تر ثبوتوں کے ساتھ پیش کرنے کے علاوہ ایک وائٹ پیپر بھی شائع کیا جائے گا تاکہ سول سوسائٹی و سوشل میڈیا ، پولیٹیکل پارٹیز اور عوام الناس کو وائس چانسلر کے غیر قانونی اقدامات سے آگا ہ کیا جا ئے ۔ ہمارا یہ اقدام بلوچستان کے قدیم مادر علمی کو مزید تباہی بچا نے کے لئے انتہائی ضروری ہیں۔ جامعہ بلوچستان کسی فرد گرو ہ یا پارٹی کا نہیں بلکہ صوبے کے عوام کا اثاثہ ہیں۔ اس کے بنانے میں ہمارے اکابرین کی انتک جدو جہداور قربانیاں شامل ہیں، ہم کسی صورت جامعہ کے تعلیمی و انتظامی ماحول کو خراب کرنے کی اجازت نہیں دینگے اور اسکا تحفظ و ترقی ہم سب پر لازم ہے ۔

متعلقہ خبریں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button