
پاکستان واپڈا ہائیڈرو الیکٹرک یونین سی بی اے کے صوبائی چیئرمین حاجی محمد رمضان اچکزئی نے کہا ہے کہ نصیرآباد ڈویژن میں جب سیلاب آیا تو اس وقت بلوچستان کے منسٹرز اپنے حلقے کے عوام کے ساتھ ہونے کے بجائے اسلام آباد اور کوئیٹہ کے مزے لوٹ رہے تھے عوام اس وقت بھی بے یارو مدد گار تھی اور اب بھی قسم پرسی کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں مزدور طبقہ نے ہمیشہ اپنے حقوق کے لئے جدوجہد کی ہے اور اقتدار کے ایوانوں میں بیٹھے حکمرانوں اور جاگیر داروں سے اپنے حقوق چھین کر حاصل کیئے ہیں ڈیرہ مراد جمالی 220 کے وی گریڈ اسٹیشن کے بننے سے قبل این ٹی ڈی سی نے 4 کروڑ روپے ادا کرکے سابق وزیراعظم الحاج ظفر اللہ خان جمالی سے زمین حاصل کی تھی مگر جاگیر داروں اور صوبائی اسمبلی کے ایوانوں میں بیٹھے سرمایہ داروں نے گریڈ کے مین گیٹ کے سامنے پاسکو کی گندم رکھ کر راستے کو مکمل بند کردیا ہے راستہ بند کرنے کی ہم کسی کو بھی اجازت نہیں دیں گے اگر راستے سے گندم کو نہیں ہٹایا گیا تو 15 نومبر کو گریڈ اسٹیشن کے سامنے سندھ بلوچستان قومی شاہراہ کو بلاک اور گریڈ اسٹیشنوں سے بجلی بند کر دی جائے گی ان خیالات کا اظہار انہوں نے این ٹی ڈی سی 220 کے وی گریڈ اسٹیشن کے سامنے احتجاجی دھرنے اور جلسے کے شرکا سے خطاب کرتے ہوئے کیا اس سے قبل صوبائی عہدیدار عبدالباقی لہڑی،سبی ، نصیرآباد سرکل کے چیئرمین حاجی محمد قاسم کھوسہ،ارشاد علی عمرانی،محمد آمین ملغانی سمیت دیگر نے بھی خطاب کیا حاجی محمد رمضان اچکزئی نے کہا کہ مزدور طبقہ ہر دور میں اپنے حقوق سے محروم رہا ہے مگر جب بھی مزدور طبقہ اپنے حقوق حاصل کرنے کے لئے سٹرکوں پر نکلے ہیں تو پھر کبھی بھی پیچھے اپنے اصولوں اور موقف سے نہیں ہٹے ہیں اور آنے حقوق لیکر ہی دم لیا ہے انہوں نے کہا کہ این ٹی ڈی سی کے گریڈ اسٹیشن کی زمین پر کسی کو بھی قبضہ کرنے نہیں دیں گے این ٹی ڈی سی کی اوچ پاور ڈیرہ مراد جمالی کے قریب گریڈ اسٹیشن کی تعمیر سے قبل 4کروڑ روپے سابق وزیر اعظم مرحوم الحاج ظفر اللہ خان جمالی کو ادا کرکے 220 کے وی گریڈ اسٹیشن تعمیر کی گئی اور اس وقت اسکا گیٹ میں روڈ کی جانب لگایا گیا تھا اب پھر سے سابق وزیر اعظم مرحوم الحاج ظفر اللہ خان جمالی کے فرزند نے 220 کے وی گریڈ اسٹیشن ڈیرہ مراد جمالی کے گیٹ کے سامنے پاسکو کی گندم رکھوا کر راستے کو مکمل بند کردیا ہے اور این ٹی ڈی سی اور کیسکو کے آفیسران سے دوبارہ راستے کا معاوضہ طلب کررہے ہیں کی یہ م شدید الفاظ میں مزمت کرتے ہیں اور گریڈ اسٹیشن کے سامنے راستے پر کسی کو بھی قبضہ کرنے نہیں دیں گے انہوں نے کہا کہ جب نصیرآباد ،جعفرآباد اور صحبت پور میں سیلاب آیا تو ان حلقوں سے ووٹ لیکر منتخب ہونے والے منسٹرز اور ایم پی ایز،ایم این ایز علاقے کے عوام کو سیلاب کی بے رحمی موجوں کے حوالے کرکے خود اسلام آباد اور کوئیٹہ میں موج مستیوں میں لگے ہوئے تھے سیلاب زدہ ان علاقوں کے ڈپٹی کمشنرز سمیت ضلعی انتظامیہ نے بھی سیلاب زدگان کے لئے آنے والے سامان سے اپنے ہاتھ صاف کرکے سیلاب زدہ غریب متاثرین کو سامان فراہم کرنے کے بجائے جاگیر داروں ،سرمایہ داروں اور منسٹرز کے بنگلوں پر سامان پہنچایا جو اب ان کے گوداموں میں اڑ رہا ہے اور مارکیٹوں میں فروخت ہو رہا ہے انہوں نے کہا کہ سیلاب زدہ علاقوں کے متاثرین کے لئے آنے والے سامان کی شفاف تقسیم نہ ہونے،سیلاب متاثرین، مزدور طبقہ افراد، مل مزدوروں کو سامان نہ ملنے پر ہم وفاقی اور صوبائی حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ اس کی جوڈیشنل انکوائری کراکے ملوث آفیسران کو سزا دلائی جائے



