
نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) نے صنعتی اور زرعی صارفین کے لیے اضافی بجلی کے استعمال پر دیے جانے والے ریلیف میں مزید کمی کی منظوری دے دی ہے۔ فیصلے کے تحت اضافی کھپت پر بجلی کا فی یونٹ نرخ 22 روپے 98 پیسے سے بڑھا کر 25 روپے 23 پیسے کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔نیپرا نے فیصلہ نوٹیفکیشن کے لیے وفاقی حکومت کو بھجوا دیا ہے، جبکہ نئے نرخ نومبر کے بلنگ مہینے سے نافذ کرنے کی تجویز ہے۔ اس وقت حکومت صنعتی اور زرعی صارفین کو اضافی بجلی کے استعمال پر فی یونٹ 11 سے 15 روپے تک ریلیف فراہم کر رہی ہے۔نیپرا کا یہ فیصلہ چیئرمین کے کاسٹنگ ووٹ سے منظور ہوا، تاہم دو ارکان آمنہ احمد اور مقصود انور خان نے اختلافی نوٹ تحریر کرتے ہوئے 25 روپے 23 پیسے فی یونٹ کے مجوزہ نرخ کو بے بنیاد قرار دیا۔دوسری جانب پاور ڈویژن کے ترجمان نے وضاحت کی ہے کہ حکومت نے صنعتی اور زرعی صارفین کے بنیادی بجلی ٹیرف میں کوئی تبدیلی نہیں کی، بلکہ معمولی اضافہ صرف اضافی بجلی کے استعمال پر تجویز کیا گیا ہے۔ترجمان کے مطابق ستمبر 2026 تک انکریمنٹل پیکیج سے 2 لاکھ 9 ہزار 335 صنعتی اور زرعی صارفین مستفید ہوئے۔ مجموعی طور پر 5 لاکھ 18 ہزار 316 اہل صارفین میں سے تقریبا 40 فیصد نے اس پیکیج سے فائدہ اٹھایا۔اعلامیے میں بتایا گیا کہ دسمبر 2025 سے ستمبر 2026 تک صارفین نے 6 ہزار 940 گیگا واٹ آور اضافی بجلی استعمال کی، جس پر انہیں مجموعی طور پر 43 ارب 50 کروڑ روپے کا ریلیف فراہم کیا گیا۔ترجمان کے مطابق صنعتی صارفین کو اضافی بجلی کے استعمال پر فی یونٹ 5 سے 10 روپے تک ریلیف ملا، جبکہ پیکیج کے باعث مجموعی بجلی کے بلوں میں اوسطا 1 روپے 50 پیسے سے 2 روپے 50 پیسے فی یونٹ تک کمی ہوئی۔پاور ڈویژن کا کہنا ہے کہ علاقائی کشیدگی اور عالمی مارکیٹ میں ایندھن کی قیمتوں میں اضافے کے باعث بجلی کی پیداواری لاگت بڑھی ہے۔ حکومت کا مقصد اضافی بجلی کی کھپت پر مناسب نرخ مقرر کرکے دیگر صارفین پر بجلی کے مزید بوجھ کو روکنا ہے۔



