
کوئٹہ (یو این اے) ہزارہ ڈیموکریٹک پارٹی کے چیئرمین عبدالخالق ہزارہ نے انکشاف کیا ہے کہ انہیں 30 لاکھ روپے کے عوض سپروائزر کی نشست کی پیشکش کی گئی تھی، جسے انہوں نے مسترد کردیا، جبکہ ان کے بقول موجودہ بلوچستان حکومت نے ان کی کارکردگی کی بنیاد پر انہیں مشیر کھیل بنانے کی پیشکش بھی کی تھی۔عبدالخالق ہزارہ نے کہا کہ بلوچستان میں مشیر یا رابطہ کار بننے کے لیے لوگ مختلف سفارشیں اور کوششیں کرتے ہیں، تاہم انہوں نے سرکاری عہدہ قبول کرنے کے بجائے عوامی نمائندگی کو ترجیح دی۔انہوں نے کہا کہ معاملہ 80 لاکھ روپے کی کرپشن کا نہیں تھا بلکہ انہیں مشیر کھیل نہ بنائے جانے کا بدلہ لیا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ صرف اپنے عوام کے ووٹ کی طاقت سے اسمبلی میں جائیں گے، نہ کہ سرکاری مشیر بن کر۔



