بلوچستانتازہ ترین

کوئٹہ میں ایل پی جی 650 روپے فی کلو، 12 کلو کا گھریلو سلنڈر 7 ہزار 800 روپے تک پہنچ گیا

ایران بارڈر کی بندش سے ایل پی جی بحران کا خدشہ، قیمت 1200 روپے فی کلو تک جانے کی پیش گوئی

ایران بارڈر کی بندش سے ایل پی جی بحران کا خدشہ، قیمت 1200 روپے فی کلو تک جانے کی پیش گوئی
ایران بارڈر کی بندش سے ایل پی جی بحران کا خدشہ، قیمت 1200 روپے فی کلو تک جانے کی پیش گوئی

کوئٹہ (یو این اے) صوبائی دارالحکومت کوئٹہ میں ایل پی جی کی قیمتوں میں ایک بار پھر نمایاں اضافہ ہوگیا، فی کلو قیمت 650 روپے جبکہ 12 کلو گرام کا گھریلو سلنڈر 7 ہزار 800 روپے تک فروخت ہونے لگا، جس کے باعث گھریلو صارفین، رکشہ ڈرائیوروں، ہوٹلوں، تندوروں اور دیگر کاروباری شعبوں کی مشکلات بڑھ گئی ہیں۔ ایل پی جی ڈیلرز نے خبردار کیا ہے کہ ایران سے منسلک سرحدی راستوں کی بندش اور سپلائی میں رکاوٹ برقرار رہی تو قیمت ایک ہزار سے 1200 روپے فی کلو تک پہنچ سکتی ہے۔تفصیلات کے مطابق کوئٹہ میں سردی کے موسم اور قدرتی گیس کی کم پریشر کے باعث ایل پی جی کی طلب میں اضافہ ہوچکا ہے، تاہم قیمتوں میں حالیہ اضافے نے شہریوں کے لیے متبادل ایندھن کا استعمال بھی مشکل بنا دیا ہے۔ گھریلو صارفین کا کہنا ہے کہ گیس کی عدم دستیابی یا کم پریشر کے باعث انہیں کھانا پکانے اور دیگر ضروریات کے لیے ایل پی جی خریدنا پڑتی ہے، لیکن مسلسل بڑھتی قیمتوں نے گھریلو بجٹ پر اضافی بوجھ ڈال دیا ہے۔ایل پی جی ڈیلرز کے مطابق قیمتوں میں اضافے کی ایک بڑی وجہ ایران سے منسلک سرحدی راستوں کی بندش اور سپلائی میں رکاوٹ ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ سرحدی صورتحال کے باعث مارکیٹ میں ایل پی جی کی دستیابی متاثر ہوئی ہے، جس کے اثرات قیمتوں کی صورت میں سامنے آرہے ہیں۔ایل پی جی گیس ڈیلرز ایسوسی ایشن کے نمائندوں نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اگر موجودہ صورتحال برقرار رہی اور سرحدی راستوں سے سپلائی معمول پر نہ آئی تو آنے والے دنوں میں فی کلو قیمت ایک ہزار سے بڑھ کر 1200 روپے تک پہنچ سکتی ہے۔ اس صورت میں گھریلو سلنڈر کی قیمت میں بھی مزید اضافہ ہوگا، جس سے صارفین کی مشکلات بڑھنے کا خدشہ ہے۔شہریوں کا کہنا ہے کہ 12 کلو گرام کا سلنڈر 7 ہزار 800 روپے میں خریدنا عام خاندان کے لیے بڑا مالی بوجھ ہے۔ دوسری جانب رکشہ اور دیگر گاڑیوں میں ایل پی جی استعمال کرنے والے ڈرائیوروں کے مطابق گیس مہنگی ہونے سے روزانہ کے اخراجات بڑھ رہے ہیں، جبکہ قیمت میں مزید اضافے کی صورت میں موجودہ کرایوں پر گاڑیاں چلانا مشکل ہوجائے گا۔ہوٹلوں، ریسٹورنٹس اور تندوروں سے وابستہ افراد نے بھی ایل پی جی کی قیمتوں میں اضافے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ گیس ان کے کاروباری اخراجات کا اہم حصہ ہے۔ قیمتوں میں مسلسل اضافے سے کھانا پکانے کے اخراجات بڑھ رہے ہیں، جس کے اثرات تیار کھانوں اور اشیائے خورونوش کی قیمتوں پر بھی پڑ سکتے ہیں۔شہریوں اور ڈیلرز نے حکومت اور متعلقہ اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ ایران بارڈر سے متعلق تجارتی اور سپلائی کے معاملات جلد حل کیے جائیں، ایل پی جی کی دستیابی یقینی بنائی جائے اور مارکیٹ میں قیمتوں کی مثر نگرانی کی جائے۔ انہوں نے مصنوعی قلت اور ناجائز منافع خوری کی روک تھام کے لیے بھی اقدامات کا مطالبہ کیا ہے۔شہریوں کا کہنا ہے کہ سردی کے موسم میں گیس بنیادی ضرورت ہے، لیکن قدرتی گیس کی کم پریشر کے باعث ایل پی جی پر انحصار کرنے والے صارفین کو اب مہنگے متبادل ایندھن کا سامنا ہے۔ ڈیلرز کے مطابق سپلائی میں رکاوٹ برقرار رہنے کی صورت میں قیمتیں مزید بڑھ سکتی ہیں، جس سے کوئٹہ سمیت بلوچستان کے دیگر اضلاع کے صارفین بھی متاثر ہوں گے۔

متعلقہ خبریں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button