

کوئٹہ (یو این اے) جمعیت علمائے اسلام کے مرکزی سیکرٹری جنرل اور رکن قومی اسمبلی مولانا عبدالغفور حیدری نے مریم نواز کی ٹویٹ پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ مریم نواز کو ماضی کی سیاسی جدوجہد اور جمعیت علمائے اسلام کی قربانیوں کو یاد رکھنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان کی حکومت کے خلاف جے یو آئی کی تحریک کا فائدہ مسلم لیگ (ن) کو بھی پہنچا، لیکن آج مریم نواز کا رویہ ان کی جماعت کے ساتھ نامناسب ہے۔مولانا عبدالغفور حیدری نے کہا کہ عمران خان کی حکومت کے خلاف تحریک کے دوران ان کی جماعت کی قیادت اور سابق آرمی چیف جنرل (ر) قمر جاوید باجوہ کے درمیان بھی اختلافات پیدا ہوئے، جن کا ایک بنیادی نکتہ نواز شریف تھے۔ ان کے بقول اس وقت جے یو آئی کو کہا گیا تھا کہ اس کی تحریک سے نواز شریف کو فائدہ پہنچ رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ جب مریم نواز لاہور میں احتساب عدالت میں پیش ہونے والی تھیں تو قائد جمعیت مولانا فضل الرحمن کی ہدایت پر وہ لاہور پہنچے اور کارکنوں کو عدالت کے باہر جمع ہونے کی اپیل کی۔ ان کا دعوی تھا کہ جے یو آئی کے دبا کے باعث مریم نواز کی پیشی منسوخ ہوئی۔ انہوں نے مسلم لیگ (ن) کے رہنماں خواجہ سعد رفیق اور رانا ثنا اللہ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ وہ اس معاملے کی گواہی دے سکتے ہیں۔جے یو آئی رہنما نے لاہور میں پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) کے جلسے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس جلسے کی میزبانی مسلم لیگ (ن) کے پاس تھی، تاہم ان کے بقول جلسے کے انتظامات جمعیت علمائے اسلام کے کارکنوں نے سنبھالے۔ انہوں نے دعوی کیا کہ اس وقت مسلم لیگ (ن) کی جانب سے صرف مریم اورنگزیب موجود تھیں جبکہ دیگر کارکن نظر نہیں آئے۔مولانا عبدالغفور حیدری نے مزید کہا کہ پی ڈی ایم کے پلیٹ فارم سے جدوجہد کے نتیجے میں عمران خان کی حکومت ختم ہوئی اور جے یو آئی نے شہباز شریف کو وزیراعظم بنانے میں کردار ادا کیا۔ ان کے مطابق بعد ازاں مسلم لیگ (ن) نے اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ مل کر جے یو آئی کو انتخابی میدان میں نقصان پہنچایا۔ انہوں نے مریم نواز پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وہ پنجاب میں جے یو آئی کو جلسے کرنے سے روکتی ہیں۔انہوں نے کہا کہ جب مریم نواز اور ان کا خاندان مشکل حالات سے گزر رہے تھے تو مولانا فضل الرحمن نے ان کی حمایت کی تھی، لیکن اب مریم نواز اپنے اسی محسن پر تنقید کر رہی ہیں۔ مولانا عبدالغفور حیدری نے مریم نواز کو اپنا رویہ تبدیل کرنے کا مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ اگر انہوں نے اسٹیبلشمنٹ کو خوش کرنے کے لیے اپنا نامناسب طرزِ عمل جاری رکھا تو جے یو آئی بھی جواب دینے کا حق رکھتی ہے۔



