
ہفتہ وار کابینہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے بنیامین نیتن یاہو کا کہنا تھا کہ یہ بہت ممکن ہے کہ موجودہ حالات میں ایرانی عوام اپنی تقدیر اپنے ہاتھ میں لینے کے قریب ہیں۔ ان کے مطابق ایران میں عوامی احتجاج ایک اہم اور فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہو چکا ہے۔
اسرائیلی وزیر اعظم کے دفتر سے جاری بیان میں بتایا گیا کہ نیتن یاہو نے اپنے حالیہ سرکاری دورۂ امریکہ کے دوران امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ایران کے جوہری پروگرام پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔ انہوں نے کہا کہ دونوں رہنماؤں نے مشترکہ مؤقف کا اعادہ کرتے ہوئے ایران میں یورینیم افزودگی کے مکمل خاتمے، چار سو کلوگرام افزودہ مواد کے اخراج اور جوہری تنصیبات کو سخت اور حقیقی نگرانی میں لانے پر زور دیا۔
واضح رہے کہ ایران میں احتجاجی مظاہروں کا آغاز گزشتہ اتوار کو اس وقت ہوا جب دکانداروں نے معاشی بدحالی کے خلاف ہڑتال کی، جس کے بعد یہ احتجاج مختلف شہروں تک پھیلتا چلا گیا اور عوامی تحریک کی شکل اختیار کر گیا۔



