بلوچستانتازہ ترین

کوئٹہ ڈبلیوایچ اوگاڑیوں کا غیرمجاز افراد کے زیراستعمال وریکوری کا معاملہ

بلوچستان سے کوئی درخواست آئے تو اسے ڈبل چیک کیا جائے تاکہ فنڈز صحیح جگہ استعمال ہوںعملے کو ہدایت

کوئٹہ(یو این اے )ڈبلیوایچ اوگاڑیوں کا غیرمجاز افراد کے زیراستعمال وریکوری کا معاملہ ،ڈاکٹر پالیتھا مہیپالا نے حال ہی میں لائی گئی گاڑیاں واپس لے لیں اور عملے کو ہدایت کی ہے کہ بلوچستان سے کوئی درخواست آئے تو اسے ڈبل چیک کیا جائے تاکہ فنڈز صحیح جگہ استعمال ہوں دنیا بھر میں پاکستان بلوچستان کی وجہ سے ایمونائزیشن پروگرام میں اتنا پیچھے ہے .
گاڑیوں کی ریکوری محکمہ صحت کا اندرونی معاملہ ہے لیکن آپ کی جانب سے جو درخواست آتی ہے ہم اس پر سپورٹ کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔وہ گزشتہ روز سیکرٹری صحت کی زیرصدارت اجلاس کے موقع پر اظہار خیال کررہے تھے ۔عالمی ادارہ صحت ورلڈہیلتھ آرگنائزریشن کے پاکستان میں نمائندہ اور ہیڈ آف مشن ڈاکٹر پالیتھا مہیپالا نے کہاکہ ایک ویرہاوس کو پورے ڈویژن کیلئے استعمال کرسکتے ہیںہمیں ایک یا دو اور پوائنٹس کا تعین کرکے دیں تاکہ اسے فعال کرنے میں ہم اپنی معاونت فراہم کرسکے ہم صلاحیت بڑھانے کی کوشش کریں گے.
جبکہ دیگر درخواستوں کو بعد میں دیکھیں گے اور معاونت کی کوشش کریں گے انہوں نے کہاکہ نیوٹریشن سینٹرز کو 24 گھنٹے فعال کرنے کے ساتھ چالیس لیبر رومز فعال کئے گئے ہیں 100 ہیلتھ سینٹرز میں سہولیات کی فراہمی شامل ہیںانہوں نے گزشتہ میٹنگ میں گاڑیوں کی فراہمی کی درخواست کی تھی جس پر آج گاڑیاں فراہم کررہے ہیںای پی آئی بہت اہم ہے جس کی کوریج بلوچستان میں کم ہے۔ڈبلیو ایچ اوکے ڈاکٹرپالیتھا ماہیپالانے کہاکہ موجودہ گاڑیاں ہم اپنے ساتھ رکھ لیتے ہیں .
اور مذکورہ غیرمجاز افراد کے زیراستعمال گاڑیوں کی ریکوری تک مزید گاڑیاں نہیں دی جائیںگی،انہوں نے کہاکہ مذکورہ گاڑیاں کسی اور ڈویژن یا صوبے میں زیر استعمال لائی جاسکتی ہے ،انہوں نے کہاکہ اگر آپ کے پاس گاڑیاں ہیں تو مزید گاڑیوں کی فراہمی کیلئے درخواست نہ کریں۔ ہمارے پاس پیسے نہیں۔ یہ آسان نہیں۔ فنڈز اکٹھا کرنا مشکل کام ہے۔ جس پر دنیا بھر میں بہت محنت ہوتی ہے۔
اگر آپ کے پاس وسائل ہیں تو ہمیں واضح کریں تاکہ ہم دوسرے صوبوں کو فراہم کریں۔ انہوں نے کہاکہ گاڑیوں کی ریکوری محکمہ صحت کا اندرونی معاملہ ہے لیکن آپ کی جانب سے جو درخواست آتی ہے ہم اس پر سپورٹ کرنے کی کوشش کرتے ہیں لیکن بطور سیکرٹری اگر آپ کہتے ہیں کہ ضرورت نہیں تو ہم اسے کہیں اور فراہم کرسکتے ہیں۔ ہمارے پاس گاڑیوں کی ہر جگہ سے درخواستیں آتی ہیں ہم نے پہلے بھی گاڑیاں فراہم کی ہیں جن ایمبولنسز، ڈبل کیبنز، شامل ہیں۔
ہمیں اب بھی یہاں سے درخواستیں موصول ہورہی ہیںاگر آپ اپنی ای پی آئی کی کوریج کو دیکھیں تو وہ صرف 38 فیصد ہے جو ملک بھر میں سب سے کم ہے۔ دنیا بھر میں پاکستان بلوچستان کی وجہ سے ایمونائزیشن پروگرام میں اتنا پیچھے ہے۔ انہوں نے کہاکہ سیکرٹری کومخاطب کرتے ہوئے کہاکہ آپ کشمیر جائیں یا پنجاب وہاں 90 فیصد سے زیادہ ہے۔
اس وجہ سے ہم بلوچستان کو سپورٹ کررہے ہیںجس کیلئے ہمیں محنت کرنا ہوگی بطور سیکرٹری آپ ہمیں بتائیں ہمیں کہاں آپ کی مدد کی ضرورت ہے۔انہوں نے ڈبلیوایچ او عملے کو ہدایت کی کہ بلوچستان سے کوئی درخواست آئے تو اسے ڈبل چیک کیا جائے تاکہ فنڈز صحیح جگہ استعمال ہوں۔سیکرٹری صحت صالح ناصر نے کہاکہ پہلے غیر مجاز افراد سے زیراستعمال گاڑیاں ریکور کرلی جائے موجودہ گاڑیاں ڈبلیو ایچ او اپنے ساتھ رکھیں۔انہوں نے کہاکہ ہم گاڑیوں کی ریکوری میں پھنسے ہوئے ہیں جو غیر مجاز افراد کے پاس ہیںہمارا یہ مطلب نہیں کہ گاڑیاں فراہم نہ کی جائیں ۔

متعلقہ خبریں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button