
کوئٹہ(یو این اے )نیشنل پارٹی کے نائب صدر سینیٹر میر طاہر بزنجو نے کہاہے کہ پاکستان بدترین سیاسی معاشی آئینی بحران سے گزررہاہے انسانی حقوق کی صورتحال تشویشناک ہے ہزاروں کی تعداد میں ملک بھر سے لوگ لاپتہ ہیں ،لاپتہ افراد کی طرح لاپتہ افراد سے متعلق بل بھی لاپتہ ہیں .
طوفان مہنگائی کی طرح سیاسی جماعتوں کے درمیان محاذ آرائی اور چپقلش اپنی نقطہ عروج تک پہنچ چکاہے لاغرجمہوریت رک رک کر سانس لے رہی ہے میر حاصل خان بزنجو ،لالہ عثمان کاکڑ اور مشاہدہاللہ خان کی خدمات کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔ان خیالات کااظہارطاہر بزنجو نے میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کیا۔ طاہر بزنجو
میر حاصل خان بزنجو ،لالہ عثمان کاکڑ اور مشاہدہاللہ خان کی خدمات کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔
سینیٹرطاہر بزنجو نے کہاکہ قیام پاکستان کے بعد 9سال تک یہ ملک بغیر آئین چل رہا تھا ان 9سالوں میں پاکستان کے 7وزرائے اعظم تبدیل کئے گئے جس پر بھارتی وزیراعظم جوہرلعل نہرو نے طنزیہ تجزیہ کہاکہ اتنے جلدی میں کپڑے تبدیل نہیں کرتا جتنا جلدی پاکستان میں وزیراعظم تبدیل ہوتے ہیں ،
56کے آئین کی مدت کم رہی 58میں مارشل لاء نافذ کی گئی 62ء میں آئین دیاگیا لیکن اصل آئین 73کا ہے جس کی بدقسمتی سے گزشتہ 50سال سے مٹی پلید کی جاتی ہے اور ہر آئین شکن کو ہماری عدلیہ نے قانونی تحفظ فراہم کیا لیگل قواعد دی لیکن تب بھی ناراض ہیں کہ ہم پر تنقید کیوں کی جاتی ہے .
ڈر اور خوف یہ ہے کہ کہیں عظیم محب وطنوں کی صدا بلند نہ ہوں
پاکستان بدترین سیاسی معاشی آئینی بحران سے گزررہاہے انسانی حقوق کی صورتحال تشویشناک ہے ہزاروں کی تعداد میں ملک بھر سے لوگ لاپتہ ہیں ،لاپتہ افراد کی طرح لاپتہ افراد سے متعلق بل بھی لاپتہ ہیں طوفان مہنگائی کی طرح سیاسی جماعتوں کے درمیان محاذ آرائی اور چپقلش اپنی نقطہ عروج تک پہنچ چکاہے اور لاغر وکمزور جمہوریت رک رک کرسانس لے رہی ہے .
ڈر اور خوف یہ ہے کہ کہیں عظیم محب وطنوں کی صدا بلند نہ ہوں ۔سنجیدہ حلقوں میں سوال زیر بحث ہے کہ پاکستان کامستقبل کیا ہے ہم کہتے ہیں کہ پاکستان کا مستقبل جمہوریت سے وابستہ ہے قانون کی حکمرانی ،گڈ گورننس ،سب کا بلاامتیاز احتساب ،صاف وشفاف انتخابات اور آئین کو اس کے اصل روح کے مطابق نافذ کرکے ملک کو گرے بحرانوں سے نکالاجاسکتاہے .
بصورت دیگر آئی ایم ایف کی تلوار لٹکتی رہے گی پاکستان کے فیصلے اسلام آباد میں نہیں واشنگٹن میں ہونگے ،ملک بدستور سیاسی ،معاشی اور آئینی بحران میں گرا رہے گا۔تین سینیٹرز میر حاصل بزنجو،عثمان لالا کاکڑاور مشاہد اللہ خان کی کمی محسوس ہورہی ہے ان کی خدمات ہمیشہ یاد رکھی جائیںگی۔
Follow GoonjLive On Facebook , Twitter ,Linkedin, RSS and Youtube



