
اسلام آباد(یو این اے )وزیر اعظم محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ وفاقی حکومت عام انتخابات کے بروقت انعقاد کے لئے اپنی آئینی اور قانونی ذمہ داریاں پوری کرے گی ان خیالات کا اظہار انہوں نے وزیراعظم ہاس میں سی پی این ای کے وفد سے بات چیت کرتے ہوئیوزیر اعظم نے کہا کہ پاکستان کو آج معاشی اور سیاسی اعتبار سے بہت سے چیلنجز کا سامنا ہے، اتحادی حکومت کے حوالہ سے زیادہ بات نہیں کروں گا کہ وہ خود نمائی لگے لیکن معیشت کوسنبھالا دینے اور ملک کو آگے بڑھانے کیلئے تمام صلاحیتیں بروئے کار لائی جا رہی ہیں، ہماری حکومت کو 11 ماہ ہو چکے ہیں، معاشی اعتبار سے گزشتہ دورہ حکومت سے چلے آ رہے پاکستان دیوالیہ پن کے خوف سے نکل چکا ہے، آئی ایم ایف کے ساتھ معاہدہ میں ایسی شرائط تسلیم کرنی پڑ رہی ہیں جس کا عام آدمی پر بوجھ پڑنا ہے، آئی ایم ایف سے گزشتہ حکومت نے معاہدہ کیا اور جب جنوری،فروری میں انہیں علم ہوا کہ اس کے خلاف آئینی اور قانونی طریقے سے انہیں ہٹایا جارہا ہے تو اپنے ہی معاہدہ سے انحراف کیا،یہ کوئی نجی معاہدہ نہیں تھا بلکہ پاکستان کی ریاست کا آئی ایم ایف کے ساتھ معاہدہ تھا، اس انحراف کا جو نقصان ہوا وہ سب کے سامنے ہے اور اب ایسی شرائط جو گزشتہ حکومت نے مانی تھیں اب آئی ایم ایف نے کہاکہ ان پر من وعن عمل کریں گے اور اس کے باقاعدہ جائزہ لینے کی بات کی انہوں نے کہا کہ ہمیں یہ بات ماننی پڑی ہے اب ہمیں امید ہے کہ سٹاف لیول پر معاہدہ جلدہوجائے گا اور پھروہ بورڈکے پاس جائے گا۔انہوں نے کہا کہ ہماری 11 ماہ کی اتحادی حکومت ہے ،یہ تاثر تھا کہ یہ اتحادی حکومت شہباز شریف نہیں چلا سکیں گے لیکن تمام اتحادیوں کے مثبت کردار کی وجہ سے یہ حکومت قائم ودائم ہے اور تاریخ میں پہلی اتحادی حکومت ان حالات میں یک جان دوقالب ہے اور آگیبڑھ رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے مشکل حالات میں فیصلے کئے،کفایت شعاری پر اجتماعی دانش سے فیصلہ کیاگیاجس پر فوری کابینہ کمیٹی بنائی گئی جس کے تین اجلاس ہوچکے ہیں اس پر بہت پیشرفت ہے ،آئندہ ہفتہ اس کا اجلاس میں خود چیئر کروں گا ۔انہوں نے کہا کہ حکومت سنجیدگی سے ان تجاویز پر عمل کرے گا۔تمام کابینہ ممبران بھی اس میں ساتھ دیں گے انہوں نے کہا کہ پاکستان کی تاریخ کا سب سے بڑا سیلاب آیا وفاقی حکومت نے خالصتا اپنے وسائل سے شفافیت کے ساتھ بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام اور اینڈی ایم اے کے ذریعے سیلاب متاثرین کے لئے سوارب روپے خرچ کئے،ہم ہر جگہ گئے۔جنیوا میں متاثرین کے لئے ہونے والی ڈونرزکانفرنس کے اعلانات کو عملی جامہ پہنانے کے لئے کوشاں ہیں تاکہ یہاں سے موصول ہونے والی امداد زلزلہ متاثرین میں تقسیم کر سکیں۔ترکیہ اور شام میں تباہ کن زلزلہ آیا،جس میں لاکھوں گھرتباہ اور کروڑوں بے گھر ہوئے،ترکیہ پاکستان ایک ایسے رشتے میں جڑے ہوئے ہیں ان کے لئے امدادی سامان بھجوا رہے ہیں،ترکیہ میں خیموں کی زیادہ ضرورت ہے،شام میں خوراک،ادویات اور کپڑوں کی ضرورت ہے،پاکستان کے عوام اس پر اپنا حق ادا کرنے کی پوری کوشش کررہے ہیں اور تسلسل کے ساتھ امدادی سامان بھجوایا جا رہا ہے انہوں نے کہا کہ انتخابات کا بروقت انعقاد آئینی اور قانونی ضرورت ہے اس سے ملک آگے چلے گا۔اس حوالے سے وفاق اپنے فرض کی ادائیگی نبھا رہا ہے،2021 میں گزشتہ حکومت کے دور میں مردم شماری کرانے کا فیصلہ ہوا تھا۔گزشتہ مردم شماری پر بعض صوبوں اور سیاسی جماعتوں کو شدید تحفظات تھے،یہ فیصلہ مشترکہ مفادات کونسل کا ہے اس کا باقاعدہ آغازہوچکا ہے،اس کے لئے فنڈز بھی فراہم کردیئے گئے ہیں۔اس پر بعض صوبوں کو اعتراضات ہیں ان کے ساتھ آج ملاقات ہے،وہ ان تحفظات کا ازالہ چاہتے ہیں،انہوں نے بھی معاونت کرنی ہے،ہم چاہتیہیں کہ وقت ضائع کئے بغیر یہ کام مکمل ہو،ہم نے مالی چیلنجوں کے باوجود مالی معاونت کی ہے تاکہ یہ عمل بروقت مکمل ہو اور انتخابات کے بروقت انعقاد میں تاخیر نہ ہو انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں عام انتخابات کے حوالہ سے الیکشن کمیشن کو صوبائی حکومت نے دہشت گردی کے خدشات کے حوالہ سے تحریری آگاہ کیا ہے، ان معاملات کا حل الیکشن کمیشن نے نکالنا ہے، یہ فیصلہ میں نے نہیں کرنا۔ انہوں نے کہا کہ بطور مسلم لیگ (ن )کے پارٹی صدر میں اپنے امیدواروں کو یہ ہدایات جاری کر چکا ہوں کہ دونوں صوبوں میں اپنے کاغذات بروقت جمع کرائیں۔ انہوں نے کہا کہ 75 سال میں پہلی بار ایسا ہو رہا ہے کہ صرف دو صوبوں میں انتخابات ہو رہے ہیں، اس کے کیا نتائج ہوں گے، یہ وقت بتائے گاتاہم اس کی جو قانونی اور آئینی ضرورت ہے اس کو پورا کرتے ہوئے اپنی پارٹی کو ہدایات جاری کر چکا ہوں، کاغذات نامزدگی جمع کرائے جا رہے ہیں، پارلیمانی بورڈ میں ٹکٹ کیلئے درخواستیں جمع کرا رہے ہیں سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ جب عدم اعتماد کا عمل جاری تھا تو اس وقت صدر اور سپیکر کی جانب سے آئین شکنی کی کیا ضرورت تھی جسے سپریم کورٹ نے بحال کیا، سیاستدان کے پاس بات چیت کے علاوہ کوئی ہتھیار نہیں ہے، اگر اس ملک کو آگے بڑھنا ہے تو ہم سب کو بھلے ایک دوسرے کے چہرے پسند نہ بھی ہوں مل بیٹھنا ہو گا، ابھی سانحہ پشاور ہوا تو اس پر اجلاس بلایا جس میں پی ٹی آئی کو مدعو کیا گیا لیکن وہ نہیں آئی ، کورونا کے دوران میں ان کے طلب کردہ اجلاسوں میں شریک ہواوہ اپنی بات کرکے چلے جاتے تھے، اس کے علاوہ بھی مختلف اوقات میں قومی ایشوز پر بطور اپوزیشن لیڈر میں نے اجلاسوں میں شرکت کی، وہ ہمیں چور ڈاکو قرار دیتے تھے لیکن خود رنگے ہاتھوں پکڑے گئے، ہمارے پارٹی کے رہنمائوں کو جو ریلیف ملا ہے وہ ترمیم شدہ احتساب قانون کے تحت نہیں ملا، لندن میں ہمارے حق میں فیصلے ہوئے اور ہمیں کلین چٹ ملی ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ انتخابات کا فیصلہ الیکشن کمیشن نے کرنا ہے ہم اس پر عمل پیرا ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ زلمے خلیل زاد کو جس وقت پوری اپوزیشن کو دیوار میں چنوایا جا رہا تھا اس وقت خیال نہیں آیا۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی پہلے بھی تھی تاہم یہ تھم چکی تھی، حالیہ عرصہ میں کے پی کے میں دوبارہ شروع ہوئی ہے، یہ کیسے آئی، یہ الگ بحث ہے، اس پر خدشات کا اظہار کیا جا رہا ہے ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ سیاسی غیر یقینی کا ذکر آئی ایم ایف نے نہیں کیا، آئی ایم ایف کی شرائط حکومت مکمل طور پر مان چکی ہے، سعودی عرب پاکستان کا بااعتماد ترین ملک ہے، قطر، چین یہ سارے ملک پاکستان کے برے وقت کے ساتھی ہیں، چین دنیا کی ایک بڑی معاشی اور عسکری قوت بن چکا ہے اور سعودی عرب اور ایران کے درمیان معاہدہ ایک تاریخی کامیابی ہے ، اس پر چین کو مبارکباد دیتے ہیں۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ عوام کو آٹے اور پٹرول میں ریلیف کے حوالہ سیاللہ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں عملی اقدامات اٹھانے کی توفیق دے وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ مردم شماری کا عمل وقت ضائع کئے بغیر مکمل کرنے کیلئے کوشاں ہیں، آئی ایم ایف سے گزشتہ حکومت نے آئینی اور جمہوری طریقہ سے اپنی حکومت کا خاتمہ ہوتے دیکھ کر انحراف کیا،ہم نے اس معاہدے کی پاسداری کی ہے اور توقع ہے کہ یہ معاہدہ جلد ہوگا،مردم شماری کا فیصلہ گذشتہ دور حکومت میں ہوا ہم اس پر عمل پیرا ہیں، خیبرپختونخوا اور پنجاب میں عام انتخابات کے انعقاد کے حوالہ سے پارٹی رہنمائوں کو کاغذات جمع کرانے کی ہدایت کر دی ہے، ہم پوری قوت اور تیاری سے انتخابات میں حصہ لیں گے، ان دونوں صوبوں میں انتخابات کے انعقاد کے حوالہ سے خدشات اور تحفظات کا حل الیکشن کمیشن نے نکالنا ہے۔



