بلوچستانتازہ ترین

سبی میلہ بلوچستان کا واحد میلہ ہےسردار یار محمد رند

سبی میلہ بلوچستان کا واحد میلہ ہے جس سے ماضی میں بڑی شان وشوکت سے منایا جا تا تھا،سیاسی رہنمائ

کوئٹہ(یو این اے )بلوچستان کے ممتاز قبائلی وسیاسی رہنما سردار یار محمد رند نے کہا ہے کہ میلے قوموں کی تاریخ اور ثقافت کے آئینہ دار ہو تے ہیں لیکن گزشتہ چند سالوں سے جس طرح سے سبی میلے کی اہمیت کو اجاگر کرنے کی بجائے اسے نظرانداز کیا جا رہا ہے وہ ایک ناقابل برداشت عمل ہے جسے بلوچ قوم کسی صورت برداشت نہیں کر سکتی کیونکہ یہ بلوچستان کا واحد میلہ ہے جس سے ماضی میں بڑی شان وشوکت سے منایا جا تا تھا اور صوبے بھر کے قبائلی سردار اور عمائدین اس میں شرکت کر تے تھے اور صوبے کی سیاسی وقبائلی صورتحال پر تفصیلی تبادلہ خیال کرنے کے ساتھ ساتھ قبائلی جھگڑوں کے خاتمے کیلئے بھی آپس میں بات چیت کر تے تھے لیکن اس دفعہ تو حد ہو گئی کہ میں جو اس حلقے کا گزشتہ 20 سالوں سے منتخب نمائندہ ہو اسے بھی ٹیلی ویژن کے ذریعے پتہ چلا کہ سبی میلا شروع ہو چکا ہے اس تمام صورتحال کی ذمہ داری کمشنرز اور ڈپٹی کمشنرز پر عائدہو تی ہے لہذا وزیراعلی بلوچستان فوری طور پر اس صورتحال کا نوٹس لے تاکہ صوبے کے عوام کیساتھ ساتھ قبائلی سرداران اور عمائدین میں پائی جانیوالی بے چینی ختم ہو سکے اپنے ایک بیان میں سردار یار محمد رند کا کہنا تھا کہ رواں سال سبی میلا عوام کی شرکت کے بغیر منعقد کرنا صوبے کے ڈیڑھ کروڑ عوام کیساتھ مذاق کے سوا کچھ نہیں ہے کیونکہ جب مجھے ہی نہیں پتہ کہ سبی میلا شروع ہو چکا ہے تو عوام کو کیا پتہ چلے گا حالانکہ ماضی میں سبی میلے میں نہ صرف بلوچستان بلکہ ملک بھر سے لو گ شرکت کر تے تھے جہاں انہیں بلوچستان کی تاریخ وتمدن ، ثقافت اور روایات کے بارے آگاہی حاصل ہو تی تھی پورے ملک سے جانور لائے جاتے تھے جس میں انعام پانے والے مالداروں کے مالکان کو لاکھوں روپے انعام دیا جاتا تھا وہی سبی شہر کے لئے کئی ترقیاتی منصوبے کا بھی اعلان کیا جا تا تھا سبی میلے کی اہمیت کا انداز اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ اس کی افتتاحی اور اختتامی تقریب میں صدر یا وزیراعظم شرکت کر تے تھے لیکن گزشتہ چند سالوں سے بیورو کریسی نے سیکورٹی کا بہانہ بنا کر اس تاریخی میلے کو انتہائی محدود کر دیا ہے اور اس میں عوام کی شرکت نہ ہونے کی برابر ہے ۔یہ میلا 16 ویں صدی سے تسلسل کیساتھ منایا جا رہا ہے لیکن اس بار صوبائی حکومت اور ضلعی انتظامیہ کی غیر سنجیدگی کی انتہائی ہو گئی ہے کہ ضلع کچھی کے عوام کو یہ معلوم نہیں کہ سبی میلا شروع ہو چکا ہے سبی میلا بلوچ عوام کو متحد کرنے کا ایک ذریعہ ہے جس میں قبائلی سرداران اور عمائدین چھوٹی موٹی رنجشوں کا موقع پر ہی خاتمہ کر دیتے تھے لیکن اب اس کو ٹھیکیداروں کے رحم وکرم پر چھوڑ دیا ہے جبکہ کروڑوں روپے بیورو کریسی اور ٹھیکیدار مل کر ہڑپ کرلیتے ہیں جس سے سبی کے عوام میں محرومی بڑھتی جا رہی ہے انہوں نے مطالبہ کیا کہ سبی میلے کے لئے جاری فنڈز کا خصوصی آڈٹ کیا جائے اور یہ دیکھا جائے کہ کروڑوں روپے کس مد میں خرچ ہوئے ہیں اور اگر کوئی بے ضابطگی اور کرپشن سامنے آتی ہے تو اس میں ملوث افسران اور اہلکاروں کے خلاف کا رروائی کی جائے اور مستقبل میں سبی میلے کا انعقاد ماضی کی طرح شانداراور روایتی انداز میں منعقد کیا جائے تاکہ عوام کی شکایات کا ازالہ ہو سکے۔

متعلقہ خبریں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button