تازہ ترینپاکستان

آڈیو فواد چوہدری دو ججز میں رابطہ کرانے کی بات کر رہے ہیں

اس آڈیو کا مجھ سے کوئی تعلق نہیں، فواد چوہدری کاآڈیو لیک پر ردِعمل

لاہور /اسلام آباد (یو این اے)تحریک انصاف کے رہنما فواد چوہدری کی گفتگو کی مبینہ آڈیو سامنے آ گئی۔ تفصیلات کے مطابق پی ٹی آئی رہنما فواد چوہدری کی اپنے بھائی فیصل چوہدری ایڈووکیٹ سے گفتگو کی مبینہ آڈیو لیک ہو گئی۔ مبینہ آڈیو لیک میں فواد چوہدری اپنے بھائی فیصل چوہدری سے دو ججز میں رابطہ کرانے سے متعلق گفتگو کر رہے ہیں فواد چوہدری نے کہا کہ ان سے ملاقات کریں اور کہیں کہ آپ کے ساتھ پورا ٹرک کھڑا ہے،آپ بتائیں کیا کریں؟ میری ذاتی رائے ہے کہ تارڑ پر تین چار جگہ استغاثہ کرائیں اور اس پر 228 لگوائیں تاکہ دبا تو آئے۔ فیصل چوہدری نے کہا کہ میں صبح کر لیتا ہوں جس پر فواد چوہدری نے کہا صبح ان سے پوچھ کر مجھے آگاہ کرنا یو این اے کے مطابق ادھر پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی)کے رہنما اور سابق وفاقی وزیر فواد چوہدری نے مبینہ آڈیو لیک کی تردید کردی۔سماجی روابط کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر ٹوئٹ میں ان کا کہنا تھا کہ ایک اور جعلی آڈیو میرے نام سے مارکیٹ میں پھینک دی گئی ہے، اس آڈیو کا مجھ سے کوئی تعلق نہیں ہے. انہوں نے مزید کہا کہ میری چیف جسٹس لاہور (ہائیکورٹ) سے کبھی ملاقات ہوئی نہ ہی انہیں جسٹس مظاہر کی مدد کا کہا۔جمعے کو ایک آڈیو گردش کر رہی تھی جس کے بارے میں دعوی کیا گیا کہ یہ فواد چوہدری کی ان کے بھائی کے ساتھ مبینہ گفتگو ہے جس میں دو ججز سے رابطہ کرنے کا کہا جارہا ہے۔38 سیکنڈز کی آڈیو میں مبینہ طور پر فواد چوہدری کو فیصل چوہدری سے کہتے سنا گیا کہ اچھا میں نے کہا کہ وہ جو اپنا چیف جسٹس لاہور ہے، وہ کہہ رہا ہے کہ میری بندیال سے کوئی جنرل کرا۔مبینہ طور پر فواد چوہدری نیمزید کہا کہ ٹھیک ہے نا دوسرے اپنے مظاہر کو ڈار صاحب کے ذریعے جو ہے نا، ان کے ساتھ، ان سے ذرا مل لیں مبینہ طور پر فواد چوہدی نے مزید کہا کہ ان کو کہو آپ کے پاس جو پورا ٹرک کھڑا ہے تو بتا اس کا کیا کرنا ہے، میری ذاتی تجویز یہ ہے کہ یہ کر کے تارڑ پر 3-4 دفعہ استغاثے کرا۔مزید کہا گیا کہ اس کے اوپر 228 لگادو تاکہ ان پر دبا تو آئے۔س کے بعد مبینہ طور پر فیصل چوہدری کہتے ہیں کہ میں صبح کرلوں گا بعد ازاں اختتام پر فواد چوہدری کو مبینہ طور پر یہ کہتے سنا گیا کہ صبح ان سے پوچھ کر بتانا۔

متعلقہ خبریں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button