
اسلام آباد(یو این اے )سپریم کورٹ میں زیر سماعت مقدمات کا بینچ تبدیل کرنے پر جسٹس قاضی فائز عیسی اور جسٹس یحیی آفریدی نے آج مقدمات سننے سے انکار کردیا جسٹس قاضی فائز عیسی اور جسٹس یحیی آفریدی نے عدالت عظمی میں مقدمات سماعت کے لیے مقرر کرنے کے طریقہ کار کا نوٹس لے کر رجسٹرار سپریم کو ریکارڈ کے ہمراہ طلب کر لیاجسٹس قاضی فائز عیسی نے رجسٹرار سپریم کورٹ سے استفسار کیا کہ بینچ کیوں تبدیل کیا گیا جس پر رجسٹرار نے بتایا کہ مجھے چیف جسٹس کے سیکریٹری نے بینچ تبدیل کرنے کے لیے کہا جسٹس قاضی فائز عیسی نے کہا کہ کیا سپریم کورٹ ججز کے بینچ اسٹاف افسر چلاتا ہے، پوری دنیا اس کیس کو دیکھ رہی ہے، اپنا مقف سوچ کر بتائیں۔ رجسٹرار سپریم کورٹ نے بتایا کہ چیف جسٹس کے اسٹاف افسر کی زبانی ہدایت پر بینچ تبدیل کیا گیا، بینچ تبدیل کرنے کی منظوری چیف جسٹس نے دی تھی جسٹس قاضی فائز عیسی نے بینچ کی اچانک تبدیلی پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے سپریم کورٹ کے رجسٹرار سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ بینچ آپ نہیں ہم چلائیں گے۔ جسٹس قاضی فائز عیسی نے ریمارکس دیے کہ میں بطور جج اپنے حلف کی خلاف ورزی نہیں کر سکتا، ممکن نہیں ایسے حالات میں آج کے کیسز سنوں انہوں نے کہا کہ بینچ تبدیل کرنے کی کوئی وجہ پیش نہیں کی گئی، اگر بنا کسی وجہ کے بینچز تبدیل ہوں گے تو بہت سے سوالات اٹھیں گے، جس کے خلاف فیصلہ دیں گے وہ کہے گا میرے لیے خاص بینچ بنایا گیا رجسٹرار سپریم کورٹ کی جانب سے بینچز تبدیلی کی فائل نہ دکھانے پر عدالت نے برہمی کا اظہار کیاجسٹس قاضی فائز عیسی نے کہا کہ مجھے نوٹ دکھائیں بینچ کیوں تبدیل کیا دنیا سپریم کورٹ میں انصاف کے لیے دستک دیتی ہے کیا رجسٹرار صاحب شفافیت پر یقین رکھتے ہیں مقدمات کی ردو بدل سے آدھا انصاف تو ختم ہو جاتا ہے رجسٹرار سپریم کورٹ عشرت علی نے کہا کہ کیس مینجمنٹ کی سفارشات 2 جولائی 2022 سے چیف جسٹس کے آفس میں زیر غور ہیں عدالت نے کہا کہ چیف جسٹس کے بینچ تشکیل دینے کے اختیارات سے واقف ہیں لیکن بینچ تبدیل ہونے کی وجوہات ہونی چاہئیں، سمری میں لکھا جانا چاہیے کہ جج بیمار تھے یا دستیاب نہیں، اور دونوں جج صاحبان دستیاب تھے تو بینچ تبدیلی کی وجوہات سامنے نہیں لائی گئیں عدالت کا کہنا تھا کہ آئین میں عدلیہ کی آزادی کو تحفظ دیا گیا ہے، بغیر وجوہات بینچ تبدیل ہونے شکوک وشبہات پیدا ہوتے ہیں اور عوام میں غیر ضروری تنقید ہوتی ہے جسٹس قاضی فائز عیسی کا کہنا تھا کہ موجودہ کیس میں دونوں بینچ تبدیل نہ کرنے کی وجوہات نہیں بتائی گئیں، سپریم کورٹ میں پرانے مقدمات زیر التوا ہیں اور نئے مقرر کردیے گئے ایسے میں آج مقدمات نہ سننے پر وکلا سے معذرت کرتا ہوں۔



