
اسلام آباد(یو این اے )وفاقی وزیر توانائی انجینئر خرم دستگیر خان نے کہا ہے کہ چین پاکستان اقتصادی راہداری سی پیک کے تحت شنگھائی تھرکول منصوبے سے بجلی کی پیداوارباقاعدہ شروع ہوگئی ہے ان خیالات کا اظہار انہوں نے اسلام آباد میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا انہوں نے کہا کے نیشنل گرڈ سسٹم میں مزید 1320 میگاواٹ کا اضافہ ہو گا اور اس منصوبہ سے مقامی تھر کول سے بجلی کی مجموعی پیداوار 2640 میگاواٹ ہو گئی. جبکہ میٹر ریڈنگ کی شکایا ت کے ازالے کیلئے نئی ٹیکنالوجی متعارف کرائی جائے گی۔خرم دستگیر کا کہنا تھا کہ آئی ایم ایف سے اس مالی سال کے تمام معاملات پر معاہدہ ہوچکا ہے، اگلے مالی سال کے بارے میں وہ ہم سے کچھ گارنٹی چاہ رہے ہیں، بجلی کا بنیادی ٹیرف جس میں آخری بار پچھلے موسم گرما میں اضافہ کیا گیا تھا، بنیادی ٹیرف میں کسی بھی سلیٹ میں کوئی تبدیلی نہیں کی جارہی، سردیوں میں جو لوڈشیڈنگ ہوئی ہے وہ بچت کا منصوبہ ہیوفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ تھر میں 175 ارب ٹن کوئلے کے ذخائر ہیں اور یہاں سے ایک لاکھ میگاواٹ بجلی پیدا کرنے کی گنجائش ہے جبکہ مزید 100میگا واٹ بجلی درآمد کے لیے ایران گوادر ترسیلی لائن مکمل ہوگئی ہیجس کاافتتاح وزیر اعظم جلد کریں گے انہوں نے کہا کہ گوادر تک بجلی کی ترسیل ایک بڑا مسئلہ تھا لیکن اب اس منصوبے سے اس کو حل کرنے میں مدد ملے گی اور ٹرانسمیشن لائن مارچ کے وسط میں کام شروع کر دے گی۔مہنگے فرنس آئل کے بجائے مقامی کئلے سے سستی بجلی کی پیداوار ترجیح ہوگی ۔انہوں نے اس سنگ میل کو حاصل کرنے کے لیے مکمل تعاون کرنے پر وزیر اعلی سندھ سید مراد علی شاہ اور سندھ کے وزیر توانائی امتیاز شیخ سمیت پوری قیادت کا شکریہ ادا کیا۔وزیر اعظم محمدشہباز شریف کی قیادت میں پی ڈی ایم حکومت مختلف ترقیاتی کاموں کے ساتھ ساتھ بجلی کے منصوبوں پر بھی تیزی سے کام کر رہی ہے۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان تحریک انصاف کی ماضی کی حکومت کی مجرمانہ غفلت کے باعث غیر معمولی تاخیر کا شکار ہونے والا منصوبہ بالآخر نہ صرف مختصر وقت میں مکمل ہو گیا بلکہ سسٹم کو بجلی کی فراہمی بھی شروع ہو گئی ہوئے وزیر توانائی نے کہا کہ توانائی کی پیداوار میں مقامی ایندھن کے استعمال میں پیشرفت ہوئی ہے۔انہوں نے کہا کہ تھل نووا کا 330 میگاواٹ کا منصوبہ پہلے ہی اس ماہ کے وسط میں ہم آہنگ ہو چکا ہے، وزیراعظم شہباز شریف کی قیادت میں موجودہ حکومت نے صرف 10 ماہ میں تھر کول کے مقامی وسائل سے سسٹم میں مجموعی طور پر 1980 میگاواٹ سستی بجلی شامل کی ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ تھر کا کوئلہ نہ صرف گرمیوں کے موسم میں بجلی کی لوڈشیڈنگ کو کم کرنے میں مدد گار ثابت ہو گا بلکہ اس سے سستی بجلی بھی مہیا ہو گی۔ توانائی ضروریات پوری کرنے کیلئے ہمیں نئے ذرائع پیدا کرنا ہونگے۔ انہوں نے کہا کہ سستی بجلی تیار کرکے سسٹم میں شامل کر رہے ہیں۔خرم دستگیر نے کہا کہ صنعتی صارفین کیلئے لوڈ شیڈنگ نہیں کی جارہی، بجلی چوری کی روک تھام کیلئے نئے ایڈوانس میٹرزلگائے جارہے ہیں۔



