بلوچستانتازہ ترین

بارکھان واقعہ، دستورانصاف ،حکومت کے منہ پر طمانچہ ہے

امیرو بی بی پوری قوم کی ہیروئن ہے انہیں اعلیٰ ترین سول ایوارڈ دیناچاہیے

کوئٹہ(یو این اے )جماعت اسلامی کے سینیٹر مشتاق احمد خان نے دعویٰ کیاہے کہ سردارعبدالرحمن کھیتران آج بھی ڈی آئی جی آفس میںہے انہیںنہ توہتھکڑیاں لگائی گئی ہے نہ قید کیاگیاہے یہ بہت بڑا ظلم ہے ریاست مجرمانہ غفلت اور بے حسی کامظاہرہ کررہی ہے ،بارکھان واقعہ دستور،پارلیمنٹ،نظام انصاف ،حکومت کے منہ پر طمانچہ ہے اس سے پوری دنیا میں پاکستان کی سبکی اور بدنامی ہوئی ہے ضرورت اس بات کی ہے کہ اس واقعہ کی مکمل تحقیقات کی جائیںچیف جسٹس صاحب کہہ رہے ہیں کہ آئین میرے دروازے پر دستک دے رہاہے چیف جسٹس صاحب وہ پتہ نہیںآئین ہے یا اشرافیہ کبھی آپ کی عدالت کادروازہ گراں ناز بی بی کیلئے بھی کھلا ہے ؟کسی امیرو بی بی شہید کیلئے کھلاہے ؟ کبھی خان محمدمری کیلئے بھی کھلاہے ؟ امیرو بی بی پوری قوم کی ہیروئن ہے انہیں اعلیٰ ترین سول ایوارڈ دیناچاہیے۔ان خیالات کااظہار انہوں نے نجی ٹی وی سے بات چیت کرتے ہوئے کیا۔جماعت اسلامی پاکستان کے سینیٹرمشتاق احمد خان نے کہاکہ بارکھان واقعہ دستور،پارلیمنٹ،نظام انصاف ،حکومت کے منہ پر طمانچہ ہے اس سے پوری دنیا میں پاکستان کی سبکی اور بدنامی ہوئی ہے ضرورت اس بات کی ہے کہ اس واقعہ کی مکمل تحقیقات کی جائیں جہاں تک بات سردارعبدالرحمن کھیتران اور ان کے بیٹے انعام شاہ کھیتران کی بات ہے تو وہ ایک دوسرے پر الزامات لگاتے ہیں اصل اہمیت ان کی نہیںبلکہ خان محمدمری ،بیٹی اور چار زندہ بیٹوں کی ہے کہ وہ کیا کہتے ہیں ؟ یہ کھل کرکہہ رہے ہیں کہ یہ سردارعبدالرحمن کھیتران کے جیل میں تھے گزشتہ چار سال سے تھے ،ہمارا فیزیکل ابیوز ہوتاتھاخان محمد مری نے بتایااورمجھے میڈیا پر یہ بات کہتے ہوئے دکھ ہوتاہے کہ ان کی جنسی ابیوز بھی کیاجاتاتھا وہاں جب واقعہ ہواانسانی حقوق کیلئے جدوجہد کرنے والے لوگوں کو آگے آنا چاہیے ،وہ لڑکی امیرو بی بی جو کھیتران قبیلے کی تھی شہید ہوچکی ہے خان محمدمری کے دو بیٹے بھی شہید کئے گئے ہیںیہ وہ لڑکی ہے جنہوں نے خان محمدمری کی اہلیہ کی ویڈیو بنائی تھی جس میں گراں ناز قرآن پاک ہاتھ میںلئے اپیل کررہی ہے کہ انہیں سردارکھیتران کی نجی جیل سے رہائی دلائی جائیں کو اس پاداش میں قتل کیاگیا بقول پولیس سرجن ڈاکٹرعائشہ فیض کے مطابق امیرو بی بی کوجنسی زیادتی کانشانہ بنایاگیاہے اور بعد میں قتل کرکے ان کی لاش کو مسخ کرکے اندھے کنویں میں لاش پھینکی گئی ،انہوں نے کہاکہ بارکھان واقعہ پر پوری پارلیمنٹ، وفاقی وصوبائی حکومتیں گناہ گار ہیں سپریم کورٹ آف پاکستان ،بلوچستان ہائی کورٹ سمیت سب کو واقعہ کا علم ہے ایک سینیٹرسرفراز بگٹی جنہوں نے کھل کر میرے موقف کی تائید کی اور سوشل میڈیا پر آواز بلند کی دھرنا کے شرکاء کیلئے دو وقت کے کھانے کاانتظام اپنے جیب سے کیاافسوس ہے کہ کسی بھی پارٹی ولوگوں نے اپنی ضمیر پر لبیک نہیں کہاچیف جسٹس صاحب کہہ رہے ہیں کہ آئین میرے دروازے پر دستک دے رہاہے چیف جسٹس صاحب وہ پتہ نہیںآئین ہے یا اشرافیہ کبھی آپ کی عدالت کادروازہ گراں ناز بی بی کیلئے بھی کھلا ہے ؟کسی امیرو بی بی شہید کیلئے کھلاہے ؟ کبھی خان محمدمری کیلئے بھی کھلاہے ؟ امیرو بی بی پوری قوم کی ہیروئن ہے انہیںاعلیٰ ترین سول ایوارڈ دیناچاہیے مجھے بتایاگیاہے کہ بلوچستان میں ہر سردار کے نجی جیل ہے جہاں ہزاروں افراد ہیںیہ سب کچھ پولیس کے علم میں ہے،میں نے آئی جی پولیس کوفون کیاکہ سردارکھیتران کوہتھکڑیاں نہیں لگائی کیا ہتھکڑیاں صرف غریبوں کیلئے ہے ؟میری اطلاعات ہے کہ سردارعبدالرحمن کھیتران آج بھی ڈی آئی جی آفس میںہے انہیںنہ توہتھکڑیاں لگائی گئی ہے نہ قید کیاگیاہے یہ بہت بڑا ظلم ہے ریاست مجرمانہ غفلت اور بے حسی کامظاہرہ کررہی ہے ۔

متعلقہ خبریں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button