تازہ ترینپاکستان

لیفٹیننٹ جزل ریٹائرڈ امجد شعیب کو ان کی رہائش گاہ سے گرفتار

امجد شعیب کے بیان سے حکومت کے خلاف نفرت پھیلائی گئی

اسلام آباد(یواین اے)اسلام آباد پولیس کے مطابق لیفٹیننٹ جزل ریٹائرڈ امجد شعیب کو ان کی رہائش گاہ سے گرفتار کیا گیا امجد شعیب پر عوام کو اداروں کے خلاف اکسانے کا مقدمہ تھانا رمنا میں درج ہیپولیس کے مطابق امجد شعیب کے خلاف مقدمہ مجسٹریٹ اویس خان کی مدعیت میں درج ہیلیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ امجد شعیب پر 153 اے اور 505 پی پی سی کی دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا اسلام آباد کی عدالت نے اداروں کو بغاوت پر اکسانے کے الزام میں گرفتار لیفٹیننٹ جنرل (ر)امجد شعیب کو 3 روزہ جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کردیا لیفٹیننٹ جزل ریٹائرڈ امجد شعیب کو ان کی رہائش گاہ سے گرفتار کیا گیا تھا، اسلام آباد پولیس کے مطابق امجد شعیب پر عوام کو اداروں کے خلاف اکسانے کا مقدمہ تھانا رمنا میں درج ہے بعد ازاں امجد شعیب کو جوڈیشل مجسٹریٹ عباس شاہ کی عدالت میں پیش کیا گیا، تھانہ رمنا کے تفتیشی افسر، پراسیکیوٹر اور امجد شعیب کی لیگل ٹیم بھی عدالت میں پیش ہوئی پراسیکیوشن کی جانب سے امجد شعیب کی 7 روز کے جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی گئی عدالت میں پراسیکوٹر عدنان نے امجد شعیب کے خلاف مقدمیکا متن پڑھا، پراسیکوٹر کا کہنا تھا کہ نجی ٹی وی چینل پر امجد شعیب بطور مہمان موجود تھے امجد شعیب کے بیان سے حکومت کے خلاف نفرت پھیلائی گئی، بیان سے حکومت، اپوزیشن اور سرکاری ملازمین کے درمیان نفرت پھیلانے کی کوشش کی گئی اپوزیشن کو حکومت کے خلاف مزید سخت حکمت عملی کے لیے اکسایا گیا پراسیکوٹر کا کہنا تھا کہ امجد شعیب کے بیان سے 3 گروہوں کے درمیان نفرت پھیلائی گئی، امجد شعیب پر لگی دفعات کے تحت 5 اور 7 سال کی سزا ہوسکتی ہے، لاہور سے امجد شعیب کا فوٹوگرامیٹرک اور وائس میچنگ ٹیسٹ بھی کروانا ہے امجد شعیب کے وکیل مدثر خالد عباسی نے جسمانی ریمانڈ کی مخالفت کرتے ہوئے کیس سے ڈسچارج کرنے کی استدعا کردی مدثر خالد عباسی کا کہنا تھا کہ عدالت نے دیکھنا ہیکہ امجد شعیب نے کوئی جرم کیا بھی ہے یا نہیں، اگر مجسٹریٹ کو لگتا ہیکہ کوئی جرم نہیں کیا تو کیس ڈسچارج کیا جاسکتا ہے، امجد شعیب پر مقدمے میں لگائی گئی دفعات بنتی ہی نہیں، امجد شعیب نے ایک مخصوص صورتحال سے متعلق صرف مثال دی، امجد شعیب نے ایسی کیا بات کردی جس پر قانون نے کوئی پابندی لگائی ہوں امجد شعیب کے وکیل نے مزیدکہا کہ امجد شعیب نے ایسی بات آج تک نہیں کی جس سے ملک کو نقصان پہنچے، امجد شعیب کے خلاف صرف سیاسی بنیادوں پر مقدمہ دائر کیا گیا ہے، امجد شعیب تقریبا 80 سال کے ہیں، انہوں نے مثبت تنقیدکی، امجد شعیب کو کافی عرصے سے ہراساں کیا جارہا ہے، ایک گھنٹیکے اندر مقدمہ درج کرکے امجد شعیب کو سلاخوں کے پیچھے بھیج دیا گیا، جائز تنقید کرنا اگر غلط ہے تو اپوزیشن کو تو سسٹم سے ہی نکال دیںصدر اسلام آباد ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن قیصر امام نے ملزم کی جانب سے اپنے دلائل میں کہا کہ امجد شعیب اپنے بیان کا اقرار کر رہے ہیں کہ وہی ٹیلی ویژن پر بیٹھے ہوئے تھے، اگر بیان اور اپنی موجودگی کا اقرار کرلیا تو فوٹوگرامیٹرک اور وائس میچنگ ٹیسٹ کیوںپراسیکوٹر نے امجد شعیب کو کیس سے ڈسچارج کرنیکی درخواست کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ ٹرائل کے لیے وائس میچنگ اور فوٹوگرامیٹرک ٹیسٹ کا ثبوت ضروی ہوتا ہے

متعلقہ خبریں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button